تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان……پاک دھرتی کا یوم پیدائش۔۔…..محمد جاوید حیات

پاک دھرتی پر 14اگست کا دن چوہتر واں بار آگیا ہے۔۔۔یہ 1947ء کا وہ مبارک دن تھا کہ دنیا کی تاریخ میں ایک سنہری دن کا اضافہ ہوا۔۔دھرتی کا ایک ٹکڑا اللہ کے نام پہ حاصل کیا گیا۔۔۔نام اس کا پاکستان رکھا گیا۔۔اس کے لیے اللہ سے وعدہ کیا گیا کہ یہ زمین کا ٹکڑا خالص تیرے نام پہ حاصل کیا جا رہا ہے۔اس زمین کے اوپر تیری نا فرمانی نہیں ہو گی۔تیرے دین کا بول بالا ہوگا۔۔ظلم نا انصافی نہیں ہو گی۔کوء معاشرتی براء جنم نہیں لے گی۔دھرتی والے اس دھرتی کو اللہ کی امانت سمجھیں گے۔اس کی ہر چیز کی حفاظت کی جاے گی۔۔


اس کے محافظ اس کی حفاظت کرکے اپنی پہچان بناینگے۔۔اس کے حکمران اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے جد و جہد کرکے اپنی شناخت بناینگے۔اس کا ہر ہر باشندہ ایک رضا کار ہوگا۔اس کی خدمت کو اپنا فرض سمجھے گا۔کوئی خاین،بے وفا، خودعرض،کام چور،اس پہ قدم رکھے گا تو یہ قدم اس دھرتی پر بوجھ ہوگا۔اخلاص سے عاری کسی فرد کو یہ دھرتی اپنے اوپر قبول نہیں کرے گی۔اس دھرتی کی دھول اس کے باشندوں کی آنکھوں کا سرما ہوگی۔اس کی سرحدیں سرفروشوں سے جگمگا اٹھینگی۔اس کی فضایں شاہینوں سے مزین ہونگی۔اس کے محکمے مخلص،محنتی،امانتدار اور خدمت سے سرشار لوگوں سے بھرے ہوے ہونگے۔تب یہ دھرتی زندہ و تابندہ رہے گی۔۔کیونکہ اس کے معمار سدا اس کی تعمیر میں لگے ہوئے ہونگے۔یہ اللہ کے نام سے حاصل کی گئی ہے اللہ سے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے ہونگے۔آج اس کی یوم آزادی تھی۔۔ٹی وی پر آواز گونج رہی تھی۔۔۔”اس کی بنیادوں میں ہے تیرا لہو میرا لہو۔۔اس سے تیری آبرو ہے اس سے میری آبرو۔۔۔۔“ یہ آواز میں بھی سن رہا تھا میرے بچے بھی سن رہے تھے۔شاید اس کا ہر ہر فرد سن رہا تھا۔اس کا جنرل سن رہا تھا۔اس کا سرفروش سپاہی سن رہا تھا۔اس کی پولیس سن رہی تھی۔۔اس کا حکمران سیاستدان سن رہا تھا۔۔اس کا استاد سن رہا تھا اس کا مزدور سن رہا تھا۔۔ جو اس لفظ کا مفہوم سمجھ رہا تھا واقعی یہ اس کا سرفروش تھا۔لیکن یہ لفظ”آبرو“کا مفہوم شاید ہر ایک کو نہ آتا ہو۔اس لیے کہ استاد نے جان فشانی سے بچوں کو پڑھایا نہ ہو۔۔مزدور صداقت سے مزدوری نہ کی ہو۔محافظ حفاظت کا حق ادا نہ کیا ہو۔حکمران حکمرانی نہ نبھائی ہو۔۔تب یہ لفظ”آبرو“ ان کے نزدیک کوئی معنی نہ رکھتا ہو۔اور یہ آواز صدا بہ صحرا ہو۔۔کیونکہ 74 سالہ بوڑھی دھرتی اپنا وہ مقام حاصل نہ کیا ہو۔۔اس سے چھوٹی عمر کا چائینہ، کوریا، جاپان، انڈونیشیا نے حاصل کیا ہو۔۔یہ قرض پہ چھڑا ہو۔اس میں ساینس،ٹیکنالوجی ناقص ہوں۔۔یہاں پر تعلیم دور کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو۔یہاں پہ عدالت مثالی نہ ہو۔یہاں پہ چور ڈاکو لٹیرے ایک طرف صف باندھے کھڑے ہوں۔۔تو پھر لفظ آبرو کی ان کے نزدیک کیا قیمت ہوگی۔۔۔اگر دنیا میں یوں پہچان ہوتی کہ یہ پاک دھرتی کا باشندہ ہے یہ غلطی نہیں کرے گا۔۔یہ پاکستانی ہے اس سے کوتاہی سرزد نہیں ہوسکتی۔تب یہ دھرتی ان باشندوں کی آبرو ہوتی اور یہ باشندے اس کی آبرو ہوتے۔۔۔صدر اور وزیر اعظم نے”نئے عزم کا اظہار کیا ہے“ مرد قلندر کے مزار پر حاضری دی گئی ہے۔۔وفاقی دارلحکومت میں اکتیس اور صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس اکیس توپین فائر کی گئی ہیں۔۔باباے قوم کے مزار پر گارڈ کی تبدیلی ہو رہی ہے۔۔مزار قاید پر مولانا شمس الدین چترالی سریلی آواز میں قرآن عظیم الشان کی تلا وت کر رہا ہے۔میری بیگم کا چچیھرا بھائی ہے۔۔بیگم اپنے بھائی کو ٹی وی سکرین پہ دیکھ کر رو رہی ہے۔۔۔گارڈ کی تبدیلی ہوئی ہے۔۔بچے ناشتے کا تقاضا کر رہے ہیں۔۔چائے کے ساتھ چپاتی آئی ہے۔۔۔بیگم تنبہ کر رہی ہیں ”کھانے میں احتیاط برتو چالیس کلو آٹا چھبیس سو کا ہوگیا ہے“ بچے یکلخت کھانے سے ہاتھ کھنچتے ہیں۔۔۔ٹی وی پر برابر نغمے گونج رہے ہیں۔۔۔
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق