تازہ ترینشمس الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے ——کوہ قراقرم کی فلک بوس چوٹیوں کا غرور خاک میں ملانے ولا لیٹل کریم۔ ایک بلتی سپر من سے ملاقات)

………..تحریر: شمس الحق قمرؔ چترال ……..
میرے جیسے ایک عام آدمی کے لئے ایک ایسی قدد آور شخصیت سے بالمشافہ ملاقات اور دوبدو گفتگو کہ جن کے ایک جھلک دیدارکے لیے دنیا کے بڑے بڑے کوہ پیماؤں کی آنکھیں عشروں سے ترستی ہوں، ایک دلچسپ اور یاد گار تجربہ تھا۔ کہانی یوں چل پڑی کہ سردار حسین صاحب نے ہمیں خپلو بلایا (یاد رہے خپلو، بلتستان،محترم سردار حسین کا سسرال ہے) موصوف نے ہمیں ضلع گانچھے کے مختلف تاریخی مقامات جیسے کرگل، پھران، گیاری اور سیاچن کی وادیوں اور بستیوں کے علاوہ مختلف صوفیا کے مزار اور اعتکاف کی جگہوں کی سیر کرائی، اس علاقے سے وابستہ صدیوں پر محیط لوک کہانیاں سنانے کیلئے گاؤں کے قوی الحافظہ شخصیات کو بلایا اور علاقائی کہانوں سے محظوظ کرایا۔ ایک دن ہم نے اُن سے از راہ تفنن پوچھا کہ صاحب آپ نے تمام تاریخی علاقوں کی سیر کرائی پیروں، مرشدوں اور صوفیوں کے مزار دکھائے، جن، بھوت اور پریوں کے قصے سنائے کیا یہاں کوئی مشہور شخصیت ایسی بھی ہے کہ جس سے ناچیز کو آسانی سے شرف ملاقات اور بات چیت ہو سکے۔ چونکہ سردار صاحب بلا کے سخن فہم و سخن نواز اوربشر شناس آدمی ہیں انہوں نے لیٹل کریم کا ذکر کیا اور پھر باتوں باتوں میں ملاقات کی تاریخ بھی طے ہوئی۔ یہ 10 اگست 2020 کا دن تھا جب ہم نے لیٹل کریم سے ملنے کا فیصلہ کیا اور صبح یعنی 11 اگست 2020 کو اُن کے گاؤں کی جانب رخت سفر باندھ لیا۔ لیٹل کریم کے گاؤں کا نام ہوشے ہے۔ ہوشے مقامی زبان میں ”گیلا“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے (ہوشے گاؤں کے ایک طالب علم مرتضٰی کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے گاؤں میں لیٹل کریم کی خدمات اوراُن کی روزمرہ زندگی کے حوالے سے بہم معلومات پہنچائیں اور اپنے گاؤں ہوشے کا وجہ تسمیہ بھی بتایا) ہوشے ضلع گانچھے کے صدر مقام خپلو کے شمال میں مشابروم(7821 میٹر بلند) کے دامن پر اس وادی کا آخری اور چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن آج بھی صدیوں پرانا ہے۔ سطح سمندر سے 3000میٹر بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں پھلدار درخت نہیں ہوتے البتہ آلو اور دیسی مٹر کے لیے آب و ہوا بے حد موافق ہے اس کے علاوہ مال مویشی پالنا اس بستی کے لوگوں کے آمدن کا واحد ذریعہ ہے۔ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ جو مجھے نظر آیا وہ بے تحاشہ انسانی آبادی کا ہے (آبادی پر کنٹرول ضروری ہے)۔ اس گاؤں میں بومں کی ایک فوج نظر آتی ہے ان بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے بارے میں ابھی تک شاید بہت کم لوگوں نے سوچا ہوگا۔ خپلو سے ہوشے دو سے ڈھائی گھنٹے کا راستہ ہے۔ میں نے ڈی ایج کیو ہسپتال خپلو سے GPS کھولا اور ہوشے پہنچ کر 60 کلو میٹر مکمل ہوئے۔ سڑک کہیں پکی اور اکثر مقامات پر کچی ہے۔ ڈھائی گھنٹہ مسلسل چلنے کے بعد ہماری گاڑی جدید طرزتعمیر کی غمّاز ایک خوبصورت عمارت کے صحن میں جاکے رکی جس کے داخلی دروازے پر چسپان بورڈ پر لکھا ہوا تھا۔(WELL COME TO HUSHE REFUGIO)۔ اس عمارت کے تمام کمرے جدید سہولیات سے آراستہ و پیراستہ تھے جیسے چشمے کا صاف و شفاف اورسرد وگرم پانی کی سہولت، آرام دہ کرسیاں، نرم و ملائم بستر جدید طرز کے صاف و شفاف واش رومز اور آلات موسیقی کے علاوہ عمارت کی پشت اور عقب میں علاقائی و پہاڑی پھولوں سے مزءّین سرسبز و شاداب گھاس جو اس عمارت کے حسن کو دوبالا کر رہی تھی۔ اس عمارت کی تعمیر پر کتنا خرچہ آیا یہ معلوم نہیں ہو سکا البتہ کئی ایک کروڑوں کی لاگت آئی ہوگی یہ وہ عظیم عمارت ہے جسے اسپین کے کوہ پیماؤں کی ایک تنظٰمت نے اسپین کے ایک کوہ پیما کی جان بچانے پر لیٹل کریم کی بہادری کیاعتراف میں اُن ہی کے نام بنایا تھا۔اس عمارت کے اندر لیٹل کریم کی وہ تصویریں اویزان تھیں جنہیں فرانس کے ایک نجی ٹیلی وژن نے موصوف کی کارکردگیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم بناتے وقت کھینچی تھی۔ یہ شاندار عمارت اور کریم کی معاشی بدحالی کا قصہ بھی عجیب ہے جوکہ ہم آگے جاکر آپ کو بتائیں گے
عبد الکریم، مسٹر کریم اور بعد میں لیٹل کریم بن کر شہرت کی بلندیوں کو چھونے والا شخص ہوشے کا وہ مشہور زمانہ کوہ پیما ہے جس نے 1985 میں فرانسیسی کوہ پیماؤں کے ساتھ بغیر اکسیجن کے 8035 میٹر بلند گشیر بروم (2) کی چوٹی کے سر پر قدم رکھ کے دنیائے کوہ پیمائی کو انگشت بہ دندان کیا تھا اور آج تک دنیا میں یہ ریکارڈ کوئی نہیں توڑ سکا ہے، مختلف موقعوں پر کئی ایک کوہ پیماؤں کی جانیں بچائی تھیں۔حکومت جرمنی نے آپ کی خدمات کے صلے میں سونے کا طمغہ دیا تھا،فرانس میں ان کی دلیری اور انسان دوستی پر تین دستاویزی فلمیں بنائی گئیں تھیں اور موصوف نے ان فلموں کی قانونی کمیٹیوں کے صدارت بھی کی تھی، دنیائے کوہ پیمائی اُنہیں سپر من یعنی ما فوق الفطرت اور غیر مرئی طاقت کے حامل انسان کے طور پر جانتی ہے، اسپین میں ہسپانوی قوم کا ایک مہر بان ہیرو مانا جاتاہے اس پر مستزاد یہ کہ دنیا کے مشہور فٹ بالر رونالڈو نے آپ کے ساتھ ایک عشایئے میں شرکت کواپنے لئے اعزاز سمجھ کر اپنی سپورٹس شرٹ پر دستخط کر کے تحفے کے طور پر پیش کیا تھا، پورے یورپ میں جہاں کہیں بھی کوہ پیمائی میں شجاعت و دلیری کا ذکر چھڑتا ہے تو لیٹل کریم کا نام احترام سے لیا جاتا ہے لیکن آج جب میں موت کے منہ سے زندگی چھین کرکوہ پیماؤں کی مسیحائی کرنے والے اور قراقرم و ہمالیہ کی چوٹیوں کے مغرور سر اپنے پاؤں تلے خم کرنے والے کریم سے ملنے گیا تووہ پھیپڑوں کی بیماری کی وجہ سے اتنے مضمحل اور بے حال تھے کہ میرا ہاتھ پکڑ کے بمشکل چل کے اپنے گھر سے باہر آئے۔ کہاں بغیر اکسیجن کے قراقرم کی چوٹیوں کو پاؤں تلے روندھتے ہوئے 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں میں ملک کا ہلالی پرچم گاڑ کر دینا کو محوحیرت میں ڈالنے والے محسن قوم لیٹل کریم اور کہاں سر چھپانے کیلئے چھت، ستر ڈاھانپنے کیلئے کپڑے اور دو وقت کی روٹی کی تلاش میں سرگردان کریم۔ آپ یقین جانیے بڑی ہستیوں کا لمس روح پروور ہوتا ہے موصوف سے دوبدو ملاقات کے بعد الوداعی معانقے سے مجھ پرروحانی آسودگی کی جو شاندار کیفیت طاری ہوئی وہ میرے بیان سے باہر ہے میرے اندرونی انسان کو محسوس ہوا جیسے جن فلک بوس اور اپنی قد آوری پر گھمنڈ کرنے والی چوٹیوں کے سروں پر موصوف نے راج کیا تھا وہ تمام چوٹیاں سمٹ کر آج میری مٹھی میں تھیں۔ عظمت کے اس پیکر کے نام اور زندگی کے چند سر بستہ رازوں کا ہم نے پردہ چاک کیا۔

Advertisements

لیٹل کریم صرف پانچ فٹ کا آدمی ہے سانولا رنگ، بے حد جاذب نظر چہرہ، اُن کے رخساروں کا کھردرا پن اس بات کی غمّاز تھا کہ موصوف نے عفوان شباب میں فلک بوس چوٹیوں کواپنے قدموں تلے خوب روندھ ڈالا تھا اور سورج کی بنفشی شعاعوں کو شکست فاش دی تھی۔ لیٹل کریم اپنی عمر 65 سال بتاتے ہیں لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ کریم صاحب 70 سال یا اس کے آس پاس ہیں۔ وقت کی قلت کی وجہ سے ہم نے نپے تلے اور مختصر سوالات پر اکتفاکیا ورنہ ہم اُنہیں بہت کریدتے۔ بہر حال کہانیلڑکپن سے شروع ہوئی۔ سن 1960 کی دہائی میں کریم بھیکی مسوں والا ایک بالغ نوجوان تھے۔ جوانی کے دنوں اپنے والد اوروالدہ محترمہ کے ساتھ گاؤں کے ”گوندو گورو“ پاس (5585 میٹر بلند) پاس سے متصل چراگاہ میں بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے کہ مشابروم چوٹی(7821 میٹر بلند) سے نیچے آنے والی کوہ پیماؤں کی ایک جماعت سے ان کی ملاقات کا اتفاق ہوا۔ یہ وہ دن تھا جب لیٹل کریم کے دل و دماغ پر پہاڑوں کی چوٹیوں کو قریب سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھنے کا بھوت سوار ہوا۔ کریم بچپن سے ہی کوہ پیماؤں کی نقل اتار کر آس پاس کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں میں طفلانہ مہمات کی کئی ایک مرتبہ نا کام کوشش کی لیکن۔ دوں چیزیں، کسی طاقت کے سامنے ہار مان کر سر جھکانا اور کسی طاقت سے ڈرنا لہذا اُنہوں نے اپنی محنت جاری رکھی کیوں کہ اُن کے اندر کا ایک عظیم کوہ پیما دنیا میں نام کمانا چاہتا تھا۔جولائی 1976 کے ایک دن (تاریخ اُنہیں یاد نہیں) جب کریم نے سنا کہ سکردو میں کوہ پیماؤں کی ٹیمیں آئی ہیں جنہیں K2 سر کرنے کیلئے سامان لے جانے والے قلیوں کی ضرورت ہے۔ کریم بھاگم بھاگ سکردو پہنچے لیکن بدقسمتی سے مختصر قد کاٹھ کی وجہ سے ٹیم کا حصہ بننے سے قاصر رہے کیوں کہ کوہ پیماؤں کا خیال تھا کہ کریم 25 کلو گرام سامان پیٹھ پر اُٹھا کے بلندیوں پر جانے کے متحمل ہر گز نہیں ہوں گے۔ لیکن اتفاق سے سوئٹزر لینڈ کی ایک ٹیم میں سامان کی نسبت پورٹر کم پڑ گئے تو کریم کو مجبوراً ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔سوئس کوہ پیماؤں کا قافلہ قراقرم کی چوٹیوں کی طرف براستہ شگر اسکردو روانہ ہوا۔ اس وادی کے ایک دور افتادہ گاؤں چھونگو ک کی ندی کا بہاؤ اس وقت جوبن پر تھا اسے عبور کرنے کے لئے گاؤں کے لوگوں نے لکڑی کے کچے پل بنائے ہوئے تھے بدقسمتی سے اس پل کو عبور کرتے ہوئے ایک دوشیزہ کوہ پیماء کا پاؤں پھسل گیا اور وہ ندی میں جاگر ی، ندی کے سر پٹختے بے رحم تھپیڑوں میں مدد کے لئے چیخیں مارنے والی آواز نے چھوٹے قد اور نحیف و نزار کریم کے جذبات کو للکارا اور کریم نے ایک مردانہ جست لگائی اور دیکھتے ہی دیکھتے کوہ پیما کو دوسری طرف نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ یہاں سے کریم کی دلیری کا آغاز ہوا۔ سوئس میڈیا میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سوئٹزر لینڈ میں گھر گھر کریم کی بہادری کا ڈنکا بجنے لگا۔ہوشے جیسے دور افتادہ علاقے میں پیدا ہونے والے کریم کو اللہ تعالی نے ایک بڑے مشن کیلئے پیدا کیا ہوا تھا تھا لہذا کریم خود کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا مقصد خود زندہ رہنا نہیں ہے بلکہ دوسروں کو اسائشیں پہہنچانا اور اور دوسروں کو زندہ رکھنا ہے۔ انہوں نے اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے اپنے لیٹل کریم بننے کا قصہ بھی سنایا اور کہنے لگے کہ 1970 کی دہائی میں K2 کیلے فرانس سے کوہ پیماؤکی ایک ٹیم آئی تو میں پورٹروں کے گروپ میں شامل تھا۔ مجھے فرانس کی ٹیم نے عبدالکریم سے لیٹل کریم بنا دیا۔ اس نام کے پیچھے کہانی یہ ہے کہ گروپ میں میرے علاوہ دو لوگ اور تھے اتفاق سے اُن دونوں کا نام بھی کریم ہی تھا جب ہم میں سے کسی ایک کو پکارا جاتا تھا تو ہم سب چونک جاتے تھے لہذا انہوں نے ایک کریم کو Tall Karim دوسرے کو Medium karim اورمجھے Little Karim کریم سے پکارنے لگے ان میں سے لیٹل کریم کو اللہ کے شہرت کی معراج تک پہنچانا تھا لہذا لیٹل کریم نے قراقرم کے پہاڑوں کو اپنی راجداھانی بنا کے رکھا۔ موصوف نے اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے Broad Peak 8047 m کے دو بڑے واقعات بتائے جو کہ ہسپانوی کوہ پیماؤں کے ساتھ پیش آئے تھے (یہ واقعات غالباً 1986 اور 1985 کے درمیان وقوع پذیر ہوئے تھے لیٹل کریم صاحب کو ماہ سال درست طور پر یاد نہیں) پہلا واقعہ یہ تھاایک ہسپانوی خاتون Broad Peak سر کرتے کرتے شدید بیمار ہوئیں تو بیس کمپ سے لیٹل کریم کو طبی امداد سے لیس کر کے بھیجا گیا تو لیٹل کریم تین گھنٹے میں تیسرے کیمپ (7000 فٹ) تک صرف ڈھائی گھنٹے میں پہنچ کر بے یارو مدد گار کوہ پیما کی مسیحائی کی۔ یاد رہے کہ یہ کوہ پیما ؤں کے لیے دو پڑاؤ کی مسافت تھی۔ دوسرا اہم واقعہ ایک اور ہسپانوی ٹیم کے ساتھ یہ ہوا کہ ” Broad Peak ” سے واپسی پر ایک کوہ پیما کے قویٰ جواب دے گئے وہ چل نہیں سکتا ہے اور جگہ ایسی تھی کہ ایک دوسرے کی مدد کرنا گویا اپنی جانوں کو جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ جس کوہ پیما کے جسم نے جواب دیا تھا وہ خود بھی نہیں چاہتے تھے کہ اُس کی وجہ سے کئی اور زندگیوں کے چراغ گل ہوں لہذا اس کوہ پیما نے اپنے تمام ساتھیوں کو الوداع کہا اور یوں باقی تمام کوہ پیماؤں نے اپنے کیمپ کی طرف اترائی کے سفر کا آغاز کیا۔ موسم کے اعتبار سے وقت اتنا نازک تھا کہ ایک ایک پل کی اپنی قیمت تھی۔ لیٹل کریم نے بھی ہسپانوی کوہ پیما کوآخری سانسوں کے ساتھ چھوڑ کر خدا حافظ کہا اور نیچے کی جانب چل پڑے۔ کہانی جب یہاں پہنچی تو میں نے سوال کیا ” تو کیا وہ کوہ پیما وہیں جان کی بازی ہار گیا؟”کریم نے میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور چند لمحے کی خاموشی اختیار کی اور میں نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ” او ہو پھر بہت افسوس ناک واقعہ ہے ” کریم کو میرے اظہار افسوس کا ادراک نہیں ہوا کیوں کہ وہ تھو ڑا اُونچا سنتا ہے لہذا انہوں نے اپنی کہانی جاری رکھی ” کوئی سو قدم نیچے آنے کے بعد میں نے سوچا کہ مرنے کے بعد جب اللہ اس معاملے کے بارے میں جب مجھ سے پوچھے گا تو میں کیا جواب دوں؟ میں کسی سے مشورہ کئے بغیر یکدم واپس ہوا دیکھا تو یہ جوان بے ہوش حالت میں موت اور زندگی کی کشمکش میں تھے۔ میں نے اپنے اور اُن کے گرم لباس کو ملا کر ایک سلیپنگ بیگ بنایا اور اس نیم مردہ جسم کو اُس میں لپیٹ کر اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر بیس کیمپ پہنچا دیا ”پھر کریم نے بہت ساری کہانیاں بتائی ہوں گی لیکن مجھ پر اُ ن کی اس کہانی کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لئے رقت طاری ہوئی تھی، میں اپنے ملک و ملت کی بے حسی اور کریم جیسے مجاہد کی حالیہ بے بسی کا رونا رو رہا تھا۔ ایک عجیب کردار سے ملاقات تھی اُ ن کا ماضی شجاعت و جوانمردی کا مرقع اور اُن کا حال بے بسی کی تصویر تھی۔ یکایک سوال ذہن میں آیا اور ہم نے پوچھنے کی جسارت کی اور پوچھا”جس بڑے ہوٹل مونٹین لاج” کا آپ ذکر فرما رہے تھے کہ جسے 2010 میں حکومت اسپین نے آپ کی شجاعت کے اعزاز میں آپ ہی کے لئے بنوا یا تھا، کیا اُس ہوٹل سے ملنے والے آمدن سے آپ اور آپ کے خاندان کی کفالت نہیں ہوتی؟” اب کی بار میں نے اہم سوال پوچھا تھا مجھے خود اپنے سوال پر رشک آیا کیوں کہ اگر میں یہ سوال نہ پوچھتا تو لیٹل کریم کی زندگی کے اُس پہلو کا پردہ چاک نہ ہوتا جو اُسے ہم جیسے انسانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ انہوں نے میرے سوال کا جواب جاری رکھتے ہوئے کہا ” اس ہوٹل کو ہسپانوی گورنمنٹ نے میرے نام پر میرے لئے ہی بنایا تھا۔اس ہوٹل پر کام کے دوران ہسپانوی حکومت کے زمہ دار افراد نے مجھ سے ایک ملاقات میں کہا کہ ہم یہ ہوٹل آپ کے لیے اس لیے بنا رہے ہیں کہ چونکہ کوہ پیمائی موت کا دوسرا نام ہے کل کو، خدا نخواستہ،آپ کو کچھ ہو گیا تو آپ کے خاندان کی کفالت اسی ہوٹل سے ہوگی ” کریم نے ہسپانوی گورنمنٹ کی اس عظیم پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے کہا ” صرف ایک چھوٹے کریم کی امارت سے اس گاؤں میں رہنے والے کئی ایک چھوٹے کریم جو کہ تعلیم و صحت کی بنیادی سہولہات سے محروم ہیں اُنہیں کیا فائدہ مل سکے گا؟ ہاں آپ کی پیش کش کو میں اُس وقت قبول کروں گا جب اس عمارت کو گاؤں ہوشے کے اُن تمام چھوٹے کریموں کے نام بنایا جائے جو کہ بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ ”میں نے لیٹل کریم سے پوچھا کہ آپ نے اتنے بڑے معرکے سر کیے ہیں، آپ کو آپ کے شاندار کام کے اعتراف میں یورپ کے کئی ایک ممالک کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا نے شاہی مہمان کے طور پر مدعو کیا تو آپ کو کیسا لگا؟ کہنے لگے جب پہلی بار میں حکومت اسپین کی دعوت پر اسپین جا رہا تھا تو یہ وہ زمانہ تھا جب میں نے اسکردو سے باہر کی دنیا نہیں دیکھی تھی۔ پنڈی پہنچ کر مجھے ایسا لگا کہ دنیا کے اوپر یہی ایک جنت ہے۔ گاڑیاں چل رہی تھیں، گلی کوچوں میں بلب روشن تھے ایک عجیب سا سما تھا جوکہ میرے بیان سے باہر ہے۔ دوسری شام ہماری فلائٹ اسپین کے لیے تھی۔ جب اسپین کے ائیرپورٹ پر اترا تو مجھے سو فیصد یقین ہوا کہ میں خواب میں تھاے میرے لئے سب کچھ ایک عجوبہ تھا اور میں جاننے سے قاصر تھا کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں یہ کہاں تک حقیقت ہے۔ اس کے بعد ہالینڈ، جرمنی، فرانس، انگلستان، امریکہ اور کنیڈا دیکھنے کا موقعہ ملا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ جن جن ہوٹلوں میں موصوف ٹھہرے اُن سب کے دروازوں پر دھاگا باندھتے رہے جس کی وجہ یہ تھی کہ کمرہ نمبروں کی پہچان سے قاصر تھے لہذا دھاگے کی مدد سے اپنے کمرے تک پہنچا کرتے تھے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ وہ دس مرتبہ اسپین گئے ہیں اور ہسپانوی زبان بھی بول سکتے ہیں۔ 2018 کے اوائل میں اسپین میں آپ کے اعزاز میں ایک عشایئے کے دوران دنیائے فٹ بال کی مشہور شخصیت رونالڈو نے اپنے ملک کے محسن مسٹر لیٹل کریم کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور پھر تعظیم و ادب سے کھڑے رہے، پھر اپنی شرٹ پر دستخط کرکے تحفے کے طورپر پیش کیا اور پھر لیٹل کریم اور اُن کے صاحب زداہ مسٹر حنیف کے ساتھ تصویر کھنچوائی۔ لیٹل کریم اور رونالڈو کی یہ نشست 40 منٹ پر مشتمل تھی۔ اس ملاقات کی خاص بات یہ تھی کہ اُدھر رونالڈو اس ملاقات کو اپنے لیے اعزاز سمجھ رہے تھے تو اِدھر لیٹل کریم خوش تھے کہ جس مشہور زمانہ نوجواں فٹ بالر کا انہوں نے صرف نام سنا تھا آج وہ اُن سے محو گفتگو تھے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے واقعات خال خال ہوتے ہیں کہ جب مشہور شخصیات ذاتی استعمال کی چیزیں تحفے کے طور پر کسی عزیز مہمان کو پیش کریں۔ ایسے تحائف جب دستخط کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں تو اُس میں صرف دوستی کا پیغام ہی پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ اُس تحفے کی قیمت اربوں تک جاتی ہے۔ موصوف فرانس میں جب سابق صدر یاک شیراک کے شاہی مہمان ٹھہرے تو صدر نے ان سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا تھا Short Man with anintellectual mind۔زندگی بھر موت سے کھیلتے رہے کئی مرتبہ گلیشروں کے ہیبت ناک دراڑوں میں گرے اور معجزاتی طور پر بچ نکلے۔ لیٹل کریم با ہمت، جوان عزم اور نڈر آدمی ہیں۔ ایک واقعہ ایسا بھی پیش آیا جب وہ 100 فٹ گہرے دراڑ میں جا گرے۔ کریم صاحب بتاتے ہیں کہ گہرے دراڑ میں گرنے کے بعد بھی ہوش میں رہے اور سوچتے رہے اور تہیہ کیا کہ مرنے تلک میں قدرت کے کمالات کا تماشا دیکھتا اور لطف اُٹھاتا رہوں گا۔ کریم صاحب کہتے ہیں کہ وہ ڈیرھ گھنٹے تک ایک سو فٹ گہرے دراڑ میں زندہ رہے۔ اُن کے مطابق دنیا میں انسان سے زیادہ طاقتور اور کوئی مخلوق کا وجود قطعی طور پر ناممکن ہے لیکن جب انسان اپنے آپ کو ڈرا کر حواس باختہ ہوتا ہے تو اُس کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ” میں نہیں جانتا کہ ڈر کس شے کا نام ہے ”
لیٹل کریم سے اجازت لیتے لیتے ہم نے پوچھا کہ اس حقیقت سے سرمو انحراف ممکن نہیں کہ آپ اپنے پیشے میں اتنے یکتا رہے ہیں کہ دنیا میں آپ کا ریکارڈ کوئی آج تک نہیں توڑ سکا کیا اب بھی کچھ کر گزرنے کی خواہش ہے؟ بولے، ” میری صحت تھوڑی درست ہو تو میں کوہ پیمائی دوبارہ شروع کروں گا ” ان تمام باتوں سے قطع نظر ایک بات جو میں محترم لیٹل کریم صاحب کے ساتھ نشست کا خلاصہ سمجھتا ہوں وہ یہ کہ عالمی شہرت یافتہ شخصیت ہونے کے ناطے آپ ہمیشہ اپنی بے بسی کی پردہ داری کرتے ہیں، حکومت وقت اور اہل ثروت سے اپنی بد حالی کے تذکرے کواپنی شہرت کے ساتھ توہین سمجھتے ہیں لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کرنے والا یہ ہیرو لباس، مکان اور متوازن غذا کے علاوہ روزمرہ کی ضروریات کا محتاج ہے۔ ذاتی طور پر مجھے یہ بات بے حد عجیب لگی کہ پاکستان کی سر بلندی کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ رکھ کر پہاڑوں، دریاوں اور گلیشروں کے خونخوار دراڑوں کے منہ سے زندگی چھیننے والا اپنے وقت کا یہ عظیم ہیرا دنیا کے کسی اور ملک میں پیدا ہوتے تو اپنی شرٹ پر دستخط کرکے رونالڈو کو تحفے کے طور پر دے چکے ہوتے صد افسوس کہ اپنے ملک میں یہ ہیرا زمانے کی دھول اور گردو غبار کے لپیٹ میں آکر اتنا مدہم پڑ چکا ہے کہ ہماری حکومت کو نظر نہیں آتا۔ مجھے یقین ہے کہ پہاڑوں کے شہزادے کو حکومت سے کہیں زیادہ پہاڑوں کے محافظ ہی سنبھالا دے سکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى