پروفیسر ممتاز حسینتازہ ترین

مستوج کی سڑک…….(پروفیسر ممتاز حسین)

قدیم زمانے میں ہمارے ہاں سڑکوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ پہاڑوں پر لوگوں کے چلنے سے پگڈندیاں وجود میں آ گئی تھیں، جو کہیں دریا کے کنارے کنارے جاتی تھی تو کہیں اوپر ہزاروں فٹ کی بلندی پر چڑھ جاتی۔ بہت سے مقامات پر یہ راستے اتنے خطرناک تھے کہ ان پر صرف تجربہ کار لوگ ہی گزر سکتے تھے۔  مقامی حکمران ان کو بہتر بنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ یہ خطرناک راستے باہر سے آنے والے حملہ اوروں کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھے۔ کئی بار بڑی بڑی فوجوں کو تنگ گھاٹیوں میں شکست دی گئی۔ جب انگریزوں نے اس علاقے میں قدم جمانے کی کوشش کی کہ انہیں بھی ان راسوں پر بڑی ہزیمتیں اُٹھانی پڑیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی۔ سرینگر سے گلگت کی دس فٹ چوری سڑک پہلے بنائی گئی۔ اس کے بعد گلگت سے چترال تک چھ فٹ کی سڑک تعمیر ہوئی اور کئی پل بنائے گئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دیر کے راستے چترال کی سڑک تعمیر کی گئی۔ لیکن یہ سارے راستے باربرداری کے جانوروں کے لیے تھے یعنی ان پر کوئی گاڑی نہیں چل سکتی تھی۔ 1930 کے لگ بھگ دیر کے راستے ایک نسبتاً بہتر سڑک کی تعمیر شروع ہوئی جو غالباً آٹھ فٹ چوڑی اور مستحکم تھی۔ لیکن یہ بھی گاڑیوں کے لیے نہیں تھی۔ اس سڑک کی تعمیر چترال میں اہم تبدیلی تھی، کیونکہ اس میں مقامی لوگوں کو بڑے پیمانے پر روزگار ملا۔ اس کا اثر مقامی فوک لور میں جمعہ خان بابو کے حوالے سے ملتا ہے۔

Advertisements

1939 تک سڑک سنوغر تک پہنچ چکی تھی اور تاو کے پہاڑ کے درمیاں سے کام شروع ہوچکا تھا۔ اس وقت دوسری جنگ عطیم چھڑ گئی اور برطانوی حکومت نے تمام وسائل جنگ کی طرف موڑ دیے، اور یوں کام وہیں پر بند ہو گیا ۔

قیام پاکستان کے بعد انہی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے کی کوشش کی گئی۔ یہ سڑکیں گاڑیوں کے لیے نہیں بنی تھیں اس لیے ان کی ڈھلوان زیادہ تھی (تقریبا 1:10)، نیز ان میں تنگ موڑ بہت زیادہ تھے، اس لیے حادثات بہت ہوتے تھے۔ یہ صورت حال 1970 کی دھائی تک رہی جب گاڑیوں کے چلنے کے قابل سڑک کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ کام رک رک کر جاری رہا اور بہت سے مقامات تک اب بھی باقاعدہ سڑک نہیں پہنچی۔ اکثر دیہات کے لوگ خود ہی جیپ ٹریک بنا کر کام چلا رہے ہیں۔ یہ سب سڑکیں کچی ہیں سوائے عشیریت سے چترال اور چترال سے بونی تک تقریباً 150 میل کے۔ یہ سڑک بھی دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب برائے نام پکی رہ گئی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوراں چترال کے اندر کوئی پکی سڑک نہیں بنی ہے۔

بونی سے آگے کی سڑک ایک بہت بڑے علاقے کو باقی ملک سے ملاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہی سڑک شندور سے گزر کر گلگت کو جاتی ہے۔ یہاں سڑک کی کی پختگی تو دور کی بات ہے، مناسب چوڑائی کی کچی سڑک بھی موجود نہیں۔  اس پر بار بار حادثات ہوتے ہیں اور لوگ مرتے ہیں۔ اس لحاط سے یہ علاقہ ڈیرھ سو سال پہلے کے دور میں ہے، جب کہ ملک کے دوسرے حصوں میں لوگ موٹر وے وغیرہ کی بات کر رہے ہیں۔

یہاں کے لوگوں کی تمام تر کوششوں اور جد و جہد کے باوجود حکومت نے اس سڑک کی تعمیر سے معذوری ظاہر کی ہے۔ اس پر علاقے کے لوگوں نے مایوس ہوکر ارادہ کیا ہے کہ سڑک کی تعمیر اور اس کی پختگی کا کام اپنی مدد آپ کے تحت کریں گے۔ اس تحریک کے روح روں پروفیسر اسمٰعیل ولی ہیں۔ بتیس کلومیٹر سڑک کی تعمیر اور اس کی پختگی ایک بڑا منصوبہ ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت آساں نہیں۔ لیکن یہ لوگ اس منصوبے پر تھوڑا بہت کام بھی کریں تو اس کی علامتی حیثیت بہت زیادہ ہوگی۔ یہ اقدام اس بات کا اظہار ہے کہ یہاں کے لوگوں کو حکومتوں سے کوئی امید نہیں رہی اور وہ اپنے طور پر زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مملکت کا کام لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں جیسے سڑک، پل، سکول، ہسپتال وغیرہ کی فراہمی ہے۔ اسی لیے لوگ حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں۔ جو حکومت یہ کام نہیں کرتی تو وہ جائز حکومت نہیں کہلائی جاسکتی۔ یہ اقدام علاقے کے منتخب نمائیندوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى