تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…..شاباش کوہ کنو!…..محمد جاوید حیات

مستوج شندور روڈ پرواک سے آگے تاو پہاڑی کے ساتھ پل کے زریعے دریا پار کرتا اور آگے ایک ویران میدان سے ہوتا ہوا دریاے لاسپور پار کرکے مستوج میں داخل ہوتا اور داین طرف شندور روڈ آگے بڑھتا _ہم دریاے لاسپور کراس کرکے باین کو موڑتے تو دودورگاز کی چھوٹی سی ندی آتی جس کے پانی کی لذت اور مٹھاس تاریخی حیثیت کا حامل ہے ۔پل کے ساتھ دکان، چھوٹا ساہوٹل جو جشن شندور کے موقع پر بہت ہلچل کا حامل ہوتا ۔۔یہ روڈ کوہکنی کی شاندار مثال تھی ۔۔۔دوہزار پندرہ کے سیلاب اور آگے اوپر پہاڑی سے پتھر اور تودے گرنے سے سڑک بند ہو گئ ۔۔پھر کوئ پرسان حال نہ رہا عوام کی دھائ صدا بصحرا رہی ۔۔حکومت کی تجاہل عارفانہ اور عوام کی بے حسی تھی کہ ابھی تک اس پر کوئ توجہ نہیں دی گئ ۔۔۔کرونہ کا بھلا ہو ۔۔علاقے سے احساس زیان اور عوامی درد رکھنے والے جو اکثر گاوں سے با ہر ہوتے ہیں اس لاگڈاون میں سب گاوں آگے ہیں ۔۔۔مستوج کے شہزادہ پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ولی بھی اپنے گاوں آگے ہیں ۔۔بیدار معز اعلی تعلیم یافتہ اور درد رکھنے والے فرزند کھو نے دیکھا کہ یہ خوبصورت سڑک حکومت اور عوام کی بے حسی کا رونا رو رہی ہے ۔۔۔رین بسیرا جسے کھوار میں (بویکو زوخ بطن )کہتے ہیں بہت پیارا یوتا ہے


۔۔۔ڈاکٹر صاحب نے گاوں کے جوانوں کو جمع کیا اور اپنا راستہ بنانے کا قصد کیا ۔۔بڑے لوگ اپنا راستہ خود بناتے ہیں ۔ہر قوم ہر دور ہر زمانے میں ایک جوان مرد کی ضرورت رہی ہے یہ زمانہ ساز ہوتا ہے قوم کی تقدیر اپنی تدبیر اور مضبوط ارادے سے بدلتا ہے ۔۔قرآن کی اصطلاح میں اس” جوان مرد “جو اقبال کی اصطلاح ہے کو “رجل رشید “کہا گیا ہے یہ اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔۔اور “عوام” کو “قوم” میں بدل دیتا ہے ۔۔ڈاکٹر اسماعیل ولی صاحب اپنا یہ مثالی کردار ادا کر رہے ہیں مستوج روڈ کی مرمت ہو رہی ہے چند دن میں مکمل ہوجاے گا ۔۔ان کو شاباشی دینے والا کوئ نہیں ہوگا ۔ان کی حوصلہ افزائ بھی کہیں سے نہ ہوگی البتہ ان کی جوانمردی کو زمانہ یاد رکھے گا ۔یہ جذبہ زوندرانگرام میں بیدار ہوا تو سڑک بنی بجلی گھر کی مرمت ہوئ ۔۔اجنو میں بیدار ہوا تھا تو بجلی گھر بنایا گیا تھا ۔اگر تورکھو اور موڑکھو میں بیدار یوتا تو تورکھو تریچ روڈ کب کا بن چکا ہوتا ۔یہ کبھی کبھی بیدار ہوتا ہے ۔۔زندہ اور خوش قسمت قوموں کی تقدیریں بدلنے کے لیے یہ جوان مرد میدان میں اترتے ہیں ۔۔ہم جیسے پسماندہ علاقوں اور سوے ہوے عوام میں ایسے جوان مردوں کی ضرورت ہے ۔اللہ کرے کہ ایسی بیداری آجاے ۔۔ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ایسی کرشماتی اور نرالی ہے ۔۔آپ کی کتاب میں شاید لفظ مشکل نہیں ۔انھوں نے مرد کوہساتنی کا کردار ادا کیا ہے جو قابل تقلید اور خراج تحسین کے لایق ہے ان کی تربیت یافتہ جوانوں کا یہ گروپ آگے بڑھے گا اور روام کو قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔حکومت سالانہ وعدہ کردہ شندور بھی بنے گا ۔ان کے حوصلے کے آگے حکومت مجبور ہو جاے گی ۔۔چترال سیاسی لحاظ سےبسا اوقات یتیم رہا ہے ۔قوم کو چاہیے کہ اپنی تقدیر بدلنے کی خود کوشش کرے ۔۔۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق