تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد….کر ب و بلا کے دو پہلو…..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

عشرہ محرم الحرام اور واقعہ کر ب و بلا کے دو پہلو خا ص طور پر لائق توجہ ہیں پہلی بات یہ ہے کہ دین اور دنیا کے معا ملا ت کی جدائی واقعہ کر بلا کی بنیا د میں شامل تھی دوسری بات یہ ہے کہ عشرہ محرم اور خصو صی طور پر نویں یا دسویں محرم کو دنیا میں کہیں بھی فساد کا خد شہ ظا ہر نہیں کیا جا تا صرف پا کستان میں فسادبرپاہو تا ہے اس کی وجہ کیا ہے یہ بات لا کھوں کروڑوں بار کہی اور لکھی گئی ہے کہ امام حسین ؑ نے کر بلا میں جان کا نذرانہ دے کر اسلام کو زندگی بخشی اس لئے علا مہ اقبال نے کہاکہ ”اسلام زندہ ہو تا ہے ہر کر بلا کے بعد“ لیکن اس بات پر بہت کم توجہ دی جا تی ہے کہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکا ر کی وجہ کیاتھی؟ اور یہی وہ نکتہ ہے جو نظروں سے اوجھل رہا ہے ڈاکٹر کرار حسین نے پشاور یو نیورسٹی میں اسلام کے سیا سی نظام پر لیکچر دیا تھا غا لباً 1981ء کی بات ہے لیکچر کے بعد ایک سوال یہ پوچھا گیا کہ اسلامی تاریخ میں دین اور سیا ست کی جدائی کب ہوئی؟ پرو فیسر کرار حسین نے کسی کر دار کا نام لئے بغیر کہا کہ اس کا آغاز وہ تھا جو واقعہ کر بلا کی اساس کا درجہ رکھتا ہے خلفائے راشد ین کے ادوار میں بھی اور حضرت امیرمعا ویہ ؓکے دور میں بھی ایک ہی شخص حکومت کا سر براہ بھی ہو تا تھا اور مسجدو محراب کا وارث بھی وہی ہو اکر تا تھا اُن کے بعد ضرورت پیش آئی کہ حکومت جس کے ہاتھ میں ہو محراب و منبر اس کو نہ دی جائے محراب و منبر کو کسی دوسرے کے حوالے کیا جائے گو یا جہاں خلا فت کو ملو کیت کا لبادہ پہنا یا گیا وہاں دین اور دنیا کی جدائی عمل میں آئی علا مہ اقبال نے اس کو چنگیز ی کا نام دیا ہے ”جدا ہو دین سیا ست سے تو رہ جا تی ہے چنگیزی“ پر وفیسر کرار حسین کا ذاتی اور فکری پس منظر اس بات کا تقاضا کر تاتھا کہ محتاط انداز میں ملفوف بات کی جائے بین السطور تک رسائی ہو تو بات سمجھ میں آئیگی ہمارا بھی یہی مسئلہ ہے تا ہم بات کی تھوڑی سی گنجا ئش نکا لی جا سکتی ہے المسعودی اور الطبری سمیت تما م مو رخین کا اس پر اتفاق ہے کہ یزید محراب و منبر کو سنبھالنے کی استعداد اور صلا حیت نہیں رکھتے تھے فو جی معا ملات، انتظا می امور اور سیا ست کے داؤ پیچ جا ننے کے ما ہر تھے امام حسین ؑ اور عبد اللہ ابن زبیر سمیت جلیل القدر صحا بہ کی ایک جما عت کا مو قف یہ تھا کہ اگر حکمران نے محراب و منبر کی وراثت نہیں سنبھا لی تو دین اور دنیا میں علیٰحدگی ہو جائیگی دینی معا ملات کسی اور کے ہاتھ میں ہو نگے دنیوی امور اور سیا ست مدن پر کسی اور کی دسترس ہو گی اور یہ ایسا رجحا ن ہو گا جو حکومتی امور میں دینی احکام کی بجا آوری کو مشکل بنا ئے گا اس مشکل کی اگلی منزل نا ممکنات کی طرف اشارہ کرے گی جو اسلام کے منشا کے خلاف ہو گی اسلام کا منشایہ ہے کہ مسلما نوں کا حکمران جو بھی نام اور لقب اختیار کرے اپنے علم، زُہد اور تقویٰ کی بنیا د پر وہ محراب و منبر کا وارث ہو نا چاہئیے علا مہ اقبال کا مصرعہ بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کر تا ہے حضرت اما م حسین ؑ اور عبد اللہ زبیر ؓ کا مو قف یہی تھا یہ ایک فتنہ تھا جو دین و دنیا کی علیٰحدگی کے نام سے اب تک مو جود ہے دوسرا قا بل غور نکتہ یہ ہے کہ مو جودہ زمانے میں لبنا ن سے لیکر بھارت تک 40ملکوں میں ما تمی جلو س نکلتے ہیں لیکن پا کستان کے سوا کسی اور ملک میں ما تمی جلو س پر مخا لفین کا حملہ نہیں ہو تا لکھنو اور سری نگر میں محرم کا جلوس پر امن رہتا ہے امن عامہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہو تا پو لیس اور فوج کی ڈیو ٹیاں نہیں لگا ئی جا تیں جنازے نہیں اٹھا ئے جا تے کراچی اور گلگت یا مظفر اباد میں امن عا مہ کا مسئلہ ہو تا ہے،جھنگ، پشاور، کوئٹہ، ہنگو اور پاڑہ چنار میں فسادات کا اندیشہ کیو ں ہوتا ہے؟ اس پر باقاعدہ غور فکر، تحقیق اور تفتیش کی ضرورت ہے علمی لحا ظ سے منا ظرے، مبا حثے، مکا لمے لبنا ن اور بھا رت میں بھی ہو تے رہے ہیں مسلح جھڑپ کسی دوسرے ملک میں نہیں ہوا پڑو سی ملک افغا نستا ن گذشتہ 40سا لوں سے خا نہ جنگی کا شکار ہے افغا نستان میں بھی ہزارہ آبادی رہتی ہے ان کا ما تمی جلو س ہو تا ہے لیکن وہاں سے کبھی محرم کے حوالے سے کسی بد امنی کی کوئی خبر نہیں آئی وجہ کیا ہے ہے شا ید بھارت، لبنا ن اور افغانستان کا کوئی ایسا دشمن نہیں جو وہاں مذہبی منا فرت اور فرقہ ورانہ جھگڑوں پر دولت لٹا تا ہوایسا دشمن صرف پا کستان کے حصے میں آیا ہے محرم کی بد امنی گھر کا اندرونی مسئلہ ہر گرز نہیں یہ با ہر سے درآمد ہوا کرتی ہے اگر یہ گھر کا مسئلہ ہوتا تو لکھنو، کا بل اور بیروت سے بھی محرم کے جلوس پر حملوں کی خبریں آجا تیں یہ صرف پا کستان کا طرہ امتیاز نہ ہوتا اس نکتے پر غو ر کرنے کے بعد لازمی طور پر نتیجہ اخذ کیا جا تا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے وا لی طا قتیں اس طرح کے وا قعات کو ہوا دیتی ہیں اگر تا ریخی اعتبار سے جا ئزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہو تی ہے کہ 1970ء کے عشرے میں یہ مسئلہ شروع ہو ا1980ء کے عشرے میں گھمبیر صورت اختیار کر گیا اور اب تک گھمبیر صورت میں مو جو د ہے 1998ء میں سلطان حنیف اورکزی ملا کنڈ کے ڈی آئی جی تھے کرنل جہانزیب صو بائی ہوم سکرٹری تھے انہوں نے جگہ جگہ لو گوں کو اکھٹا کر کے ایک خفیہ دستا ویز کا پردہ چاک کیا دستاویز میں کہا گیا تھا کہ 1965ء کی پا ک بھارت جنگ کے بعد بھارت کی قیادت نے جنگی حکمت عملی تبدیل کی انہوں نے پاکستانی فوج سے دو بدو لڑا ئی کی جگہ اندرونی خا نہ جنگی پر کام کرنے کا منصو بہ تیا رکیا مشرقی پا کستان میں یہ منصو بہ کامیاب ہوا تو مو جو دہ پا کستان میں اس کو ازما یا گیا اب تک ازما یا جا رہا ہے چنا نچہ اندرونی محا ذ پر جتنے لوگ مرے ہیں پا ک بھارت جنگوں میں اتنے لو گ نہیں مرے تھے اس نکتے پر خصو صی تو جہ کی ضرورت ہے تاکہ اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ دہشت اور بد امنی کا مہینہ ہونے کی جگہ امن وا ٓشتی کا مہینہ ہو

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى