تازہ ترین

ڈرائیوریونین کی عبوری کابینہ کا اعلان حاجی محمد یوسف مرکزی صدر، میر عجم خان تحصیل لوٹ کوہ اور ممتاز علی خان دروش تحصیل کاصدر مقرر

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) تریچ میر ڈرائیورز یونین ضلع لویر چترال کے جنرل سیکرٹری انیس الدین نے یونین کی عبوری کابینہ کا اعلان کرتے ہوئے حاجی محمد یوسف کو مرکزی صدر، میر عجم خان کو تحصیل لوٹ کوہ اور ممتاز علی خان کو دروش تحصیل کاصدر مقرر کردیا ہے جوکہ تین ماہ کے اندر الیکشن منعقد کریں گے۔ عبوری کابینہ کے ارکان حاجی یوسف، ممتاز علی خان اور میر عجم کی معیت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موجودہ کابینہ کی مدت 10اکتوبر کو ختم ہورہی ہے اور یونین کے آئین کے مطابق تین ماہ قبل عبوری کابینہ تشکیل دی جاتی ہے جوکہ اس عبوری دور میں یونین کے انتظامات چلاتی ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ وہ ڈرائیور برادری سے متعلق تمام امور کے بارے میں آئندہ کے لئے اس کابینہ کے ساتھ رابطہ کرے جوکہ ڈرائیوروں کا نمائندے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال شہر میں تحصیل میونسپل کمیٹی کا ایک ہی منظور شدہ اڈہ ہے جس کے بغیر بھی غیر قانونی اڈے قائم ہیں اور ان غیرقانو نی اڈہ کے مالکان نے حکومتی شیڈول ریٹ سے ذیادہ کرائے بٹور کر عوام پر بھی بوجھ ڈال رہے ہیں لیکن انتظامیہ اس بارے میں اب تک خاموش ہے۔ انہوں نے غیر قانونی اڈوں کو فی الفور بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

Advertisements

ڈرائیور رہنما انیس الدین نے کہاچترال پہاڑی علاقہ ہے جوکہ سال میں چار مہینے برف اور کیچڑ سے ڈھکی رہتی ہے اور یہاں رکشے نہیں چل سکتے لیکن بعض افراد نے رکشا سروس شروع کردیا ہے جس سے ٹیکسی مالکان بے روزگار ہوگئے ہیں اس لئے رکشا سروس کو بھی فوری طور پر بند کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ جنرل الیکشن 2018ء میں ڈرائیور برادری نے الیکشن ڈیوٹی سرانجام دی تھی لیکن ابھی تک ان کے معاوضے نہیں ملے ہیں جوکہ28لاکھ روپے بنتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ معاوضے ادا نہ ہوئے تو ڈرائیور اگلے الیکشن میں ڈیوٹی کا بائیکاٹ کریں گے اور قانونی چارہ جوئی بھی کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ چترال سے اپر دیر اور چترال سے مستوج گاؤں کا فاصلہ برابر یعنی 110کلومیٹر ہے لیکن چترال سے دیر کرایہ 1000روپے اور چترال سے مستوج 550روپے ہے جوکہ اس علاقے کی غریب ڈرائیوروں پر ظلم ہے اور اس کرائے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پشاور میں بھی چترال کی غیر قانو نی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى