تازہ ترین

(پیڈو) نے گزشتہ دو سالوں کے دوران پن بجلی کے مختلف منصوبوں کے ذریعے صوبائی محاصل میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے

پشاور(چترال ایکسپریس)پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) نے گزشتہ دو سالوں کے دوران پن بجلی کے مختلف منصوبوں کے ذریعے صوبائی محاصل میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ مالی سال 2018-19کے دوران 1571.14ملین روپے جبکہ اس کے مقابلے میں مالی سال 2019-20کے دوران 3458 ملین روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا ہے۔ سولر منصوبوں کے ذریعے مجموعی طور پر سالانہ 44لاکھ سے زائد کلو واٹ آورتوانائی کی بچت کی گئی ہے جبکہ ان سولر منصوبوں سے بجلی کے اخراجات کی مد میں 78.25 ملین روپے کی بچت کی گئی ہے۔یہ بات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو)کی دوسالہ کارکردگی کے بارے میں دی جانے والی بریفینگ میں بتائی گئی۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ، سیکرٹری انرجی محمد زبیر، چیف ایگزیکٹیو آفیسرپیڈو محمد نعیم اور دیگر متعلقہ حکام نے بریفینگ میں شرکت کی۔
گزشتہ دو سالوں کے دوران پن بجلی کے متعدد منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جن میں 17میگاواٹ رانولیا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کوہستان، 2.60 میگاواٹ کا مچئی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مردان اور 36.6 میگاواٹ کا حامل درال خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سوات شامل ہیں، ان تینوں منصوبوں کی مجموعی لاگت 14ارب روپے ہے اور ان منصوبوں سے سالانہ دو ارب روپے کا ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں 495میگاواٹ کے کاری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ضلع چترال اور 88میگاواٹ کے گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سوات کے منصوبوں کی فیزیبیلیٹی سٹڈی مکمل کی گئی ہے۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ صوبے کی پیدا کردہ پن بجلی رعایتی نرخوں پر صنعتوں کو فراہم کرنے کے لئے ویلنگ ماڈل اختیار کیا گیا ہے جو پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد اقدام ہے جس سے صوبے میں بیمار صنعتوں کی بحالی، نئی صنعتوں کے فروغ اور روزگار کے ذرائع پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ پیہور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے پیدا کی گئی بجلی کی صنعتی یونٹس کو فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ اسی طرح صوبے کی اپنی ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو بہت جلد فعال ہو جائیگی۔ یہ کسی بھی صوبائی حکومت کی طرف سے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جسکا مقصد صوبے میں پیدا کی جانے والی بجلی کی گرڈ سٹیشنز اور صنعتی زونز تک ترسیل کے عمل کو آسان اور بہتر بنانا ہے۔ صوبے میں پن بجلی کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ماڈل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت 496میگاواٹ لوئر سپاتگاہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کوہستان کا قیام عمل میں لایا جائیگاجسکا تخمینہ لاگت 165.3ارب روپے ہے۔ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت 188میگاواٹ ناران ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 96میگاواٹ بٹ کنڈی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ / ہاؤس، سول سیکرٹریٹ، صوبے کے مرکزی اور جنوبی اضلاع کے سو دیہات، ضم اضلاع میں تین سو مساجد، شمالی اضلاع میں سو دیہات کی سولرائزیشن کے منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کی مزید چار ہزار مساجد کی سولرائزیشن کی جائیگی۔ ضم شدہ اضلاع میں 13منی گرڈ اسٹیشنز تعمیر کئے جائیں گے جن کا تخمینہ لاگت 872ملین روپے ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران مختلف منصوبوں کے ذریعے تقریباً ایک ہزار براہ راست روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کے مکمل شدہ چیدہ اہداف سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ مختلف منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے رائلٹی میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔براتائی بلاک کے ڈھوک حسن میں کنواں کیلئے سپلائی لائن کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے، جون 2020کو پندرہ ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور تین سو بی بی ایل تیل ایس این جی پی ایل کے مین نیٹ ورک میں شامل کرلیا گیا ہے۔ منصوبے سے حکومت خیبرپختونخوا کو رائلٹی کی مد میں سالانہ آٹھ سو ملین روپے جبکہ پیداوار شروع ہونے پر نوے ملین روپے ون ٹائم پروڈکشن بونس حاصل ہوگا۔ مذکورہ بلاک کے دوسر ے کنوے سے بھی گیس کی پیداوار رواں سال دسمبر تک متوقع ہے، جس سے حکومت خیبرپختونخوا کو رائلٹی کی مد میں آٹھ سو ملین روپے سالانہ ملیں گے۔ علاوہ ازیں صوبائی کابینہ کی طرف سے خیبرپختونخوا کے بندوبستی اور ضم شدہ اضلاع کے شعبہ تیل اور گیس میں سرمایہ کاری پلان کی منظوری دی گئی ہے۔ منصوبوں کی تکمیل سے سال 2023 سے 2025 کے دوران سات سے تیرہ ارب روپے سالانہ ریونیو جنریشن کی توقع ہے۔تیل و گیس کی دریافت کیلئے ضم شدہ اضلاع میں تین نئے ایکسپلوریشن بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ادارے کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بجلی و توانائی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور نئے منصوبوں پر پیشرفت کو ٹائم لائنز کے مطابق یقینی بنانے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ ان کا بغیر کسی تاخیر سے صوبے کے عوام کو پہنچ سکے۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں توانائی کے مواقع کے بہتر اور موثر استعمال کیلئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت نتیجہ خیز اقدامات اُٹھا رہی ہے تاکہ نہ صرف صوبے میں توانائی کی ضروریات کوپورا کیا جا سکے بلکہ اس کے ذریعے صنعتوں کو ترقی دے کر یہاں کے لوگوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔
َِِ

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى