تازہ ترینمحمد شریف شکیب

آفت زدہ ملاکنڈ ڈویژن….محمد شریف شکیب

حالیہ طوفانی بارشوں نے خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں تباہی مچادی،سوات، دیر، چترال،بونیر، شانگلہ اور کوہستان میں بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ، کچے مکانات کی چھتیں گرنے کے واقعات میں درجنوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں، اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں سیلابی ریلوں نے کئی دیہات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔کھڑی فصلیں، باغات، رہائشی مکانات، سرکاری عمارتیں، سکول، ہسپتال، حفاظتی پشتے، عبادت گاہیں اور چھوٹے پن بجلی گھر بھی سیلاب کی نذر ہوگئے مدین میں شاہ گرام اور تیرات نالے میں طغیانی سے 40 مکانات اور رابطہ پلوں سمیت دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ 17 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ کوہستان کے دور افتادہ گاؤں لائچی نالے میں سیلاب سے ایک ہی خاندان کے سات افراد بہہ گئے۔ بارش سے اپر کوہستان میں 8 افراد جاں بحق ہوئے شانگلہ میں مٹی کا تودہ گھر پر گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے،اپرچترال کا تاریخی گاؤں ریشن دس سالوں میں تیسری بار اجڑ گیا، خوفناک سیلاب سے اٹھارہ رہائشی مکانات، مرکزی جامع مسجد، چھ رابطہ پل، کھڑی فصلیں، باغات اور اپرچترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا ریشن آرسی سی پل بھی تباہ ہوگیا۔جس کی وجہ سے بالائی چترال کی لاکھوں کی آبادی محصور ہوکر رہ گئی ریشن کے علاوہ زئیت، کوراغ، چرون، نصر گول، لاسپور، مستوج، یارخون، بریپ، وادی کیلاش اور سوئیر میں بھی ندی نالوں میں طغیانی سے بڑے پیمانے پر مالی نقصانات ہوئے ہیں۔

Advertisements

سینکڑوں خاندان سیلاب میں گھر بہہ جانے کی وجہ سے کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے ہیں علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ ادویات کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ پل اور سڑکیں تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاروائیاں بھی تعطل کا شکار ہیں۔گولین گول بجلی گھر تین ماہ قبل سیلاب کی وجہ سے بند پڑا ہے۔ بجلی کے کھمبے حالیہ سیلاب میں اکھڑ جانے کی وجہ سے بالائی چترال کا پورا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔حالیہ طوفانی بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ملاکنڈ ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ امدادی کاموں میں زیادہ تر مقامی رضاکار مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں قومی تعمیر کے اداروں کی کارکردگی آزمائش کی اس گھڑی میں کچھ زیادہ اطمینان بخش دکھائی نہیں دے رہی۔مرکزی اورصوبائی حکومت اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کی طرف سے قدرتی آفت میں جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے تاہم عملی طور پر متاثرین کی مدد کے لئے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔جن گھروں کی کفالت کرنے والے زندہ نہیں رہے اور جن لوگوں کی سرچھپانے کی جگہ نہیں رہی، زندگی بھر کی پونجی پلک جھپکتے ہی تباہ ہوگئی۔اظہار تعزیت اور ہمدردی کے دو بول کہنے سے ان کے زخم اور پیٹ نہیں بھر سکتے۔متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے مالی وسائل کی ضرورت ہے جس کا اب تک کوئی اعلان نہیں ہوا۔صوبائی حکومت کے پاس اگر مالی وسائل کی کمی ہے تو وہ ملاکنڈ ڈویژن کو آفت زدہ قرار دے کر وفاقی حکومت اور دیگر ممالک سے مدد کی اپیل کرسکتی ہے۔پہاڑی علاقوں میں آنے والے سیلاب اور میدانی علاقوں کے سیلاب میں ایک واضح فرق ہے کراچی شہر ہفتوں سے جاری طوفانی بارشوں کی وجہ سے تالاب میں تبدیل ہوگیا ہے لیکن وہاں جانی نقصانات زیادہ نہیں ہوئے۔ پانی اگر اتر گیا تو لوگ اپنے گھروں میں سکون سے رہ سکتے ہیں پہاڑی علاقوں میں آنے والا سیلاب اپنے ساتھ دیوہیکل چٹانیں بھی لے آتا ہے اور جس علاقے سے گذرتا ہے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔اگر جانیں بچ بھی جائیں تو دوبارہ آباد کاری میں کئی سال لگتے ہیں یہ بے سہارا اور بے یارومددگار لوگ حکومت، قومی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور مخیر لوگوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔قومی اداروں اور دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کے علمبرداروں کو سوات، دیر، چترال، کوہستان، بونیر اور شانگلہ میں بے یارومددگار کھلے آسمان تلے پڑے متاثرین کی فوری خبر لینی چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ امداد پہنچانے میں دانستہ یا نادانستہ تاخیر سے متاثرین بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوکر کسی کی امداد سے بے نیاز ہوجائیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى