تازہ ترینتقدیرہ خان

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی…(آخری قسط)..تقدیرہ خان

جب محافظ راہزن بن جائیں، حکومت بے معنی ہو جائے، حکمران لوٹ مار اور جبر کو جائز تصور کرلیں،خزانے کی چابیاں چوروں کے ہاتھ آجائیں، اہل علم و دانش شہوت اور شہرت کے نشے کے عادی ہو کر بلم باعور کے مقلد ہوجائیں، زنجیر عدل ہلانے والا مجرم بن جائے اور مجرم معتبر اور معززٹھہریں، قانون کے محافظ قانون شکنی پر انعامات اور اعزازات حاصل کرنے لگیں، قانون کی تشریح قانون شکن کرنے لگ جائیں اور بقول مولانا فضل الرحمان کے مقدس پارلیمنٹ میں بحث چھڑ جائے کہ ملکی خزانہ لوٹنے والوں کے لیے محفوظ راستہ کیسے تلاش کیا جائے اور آئیندہ ملکر ملک لوٹنے اور عوام کو مزید ذلت و رسوائی کے گڑھے میں دھکیلنے کا کونسا قانون وضع کیا جائے کہ وہ بے حس و بے زبان جانوروں کی طرح مافیائی سیاسی اور چانکیائی انتظامی مشینری کی رحم و کرم پر جینے کے عادی بن جائیں۔
آج کل ہماری نیشنل اسمبلی کے ممبران جو مچھلی کے سر، پہاڑ کی چوٹی اور دودھ کی بالائی کی طرح کریم آف دی نیشن ہیں اس بات پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش میں ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں سیاستدانوں، کارخانہ داروں، سرمایہ داروں اور نوکر شاہی نے جتنا مال لوٹا، قومی خزانے کو نقصان پہنچایااسے قصہ ماضی سمجھ کر سرف نظر کیسے کیا جائے۔ اس بات کی بھی ڈیمانڈ ہے کہ قومی احتساب بیوروایک ارب سے ایک روپیہ کم کی کرپشن پر کوئی انکوائری نہ کرے۔ ہاں۔ اگر ایک ارب سے ایک روپیہ زیادہ ہوجائے تو تحقیق کی جاسکتی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ اقبال جرم اور مستقل لوٹ مار کا سٹرٹیفکیٹ ہے۔ یوں لگتاہے کہ جو لوگ پانچ سال پہلے اسمبلیوں میں تھے انہوں نے کم از کم ایک ارب کی چوری کر رکھی ہے۔ اگر کسی اسمبلی ممبر نے ایک ارب کما رکھے ہیں تو جس بیوروکریٹ یا سہولت کار جیسے جاوید صادق کا نام بھی بڑی سودے بازی میں سامنے آتا ہے نے دس بیس ارب تو ضرور کمائے ہونگے۔ شاید ہماری پارلیمنٹ کے ممبر اور کریم آف دی نیشن دنیا کی واحد سیاسی اشرافیہ ہے جسے اس طرح کے قانون کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر حکومت وقت نے انہیں ریلیف نہ دیا تو پاکستان فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے قانون کے مطابق مسلسل گرے لسٹ میں رہے گایا پھر بلیک لسٹ ہو کر دیوالیہ ہو جائے گا۔
کیایہ ملک دشمنی، خودغرضی اور قوم فروشی نہیں۔ کیا یہ لوگ جن پر قوم بھروسہ کرتی آئی ہے اور جان بوجھ کہ ان کی غلامی کا چوغہ پہن رکھا ہے عہد حاضر کے میر جعفر، میرصادق،پورنیا اور شیخ عبداللہ نہیں۔ آخر غداری، قوم فروشی اور وطن دشمنی کی بھی کوئی تعریف ہوگی جو ہمارے دانشوروں اور علمأ کے ذہن میں نہیں آرہی یا پھرضمیر کی آواز زبان پر آنے سے مراعات اور سہولیات کے بندہوجانے کا اندیشہ ہے۔
مایوسی اور محرومی کے اس دور میں عام آدمی جسے کچھ احساس ہے سپریم کورٹ کی عمارت کی طرف دیکھتا ہے کہ شاید ایوان عدل سے کوئی آواز اٹھے اور چور بازاری اور ڈاکہ زنی کو جائز قرار دینے والے قانون کا راستہ بندہوسکے۔ اگر اس بار یہ قانون نہیں بن سکا تو اگلی بار بن جائے گا۔ آخر اٹھارویں ترمیم بھی تو پاس ہوگئی تھی۔ حکومت بھی تو فرشتوں کی نہیں اورنہ ہی حکمران جماعت کے وزیر مشیر اور ممبران غوث، قطب اور ابدال ہیں۔ خزانے کا ڈھکن کھلا ہو تو ہر کوئی اپنی جیب بھرنا جائز سمجھتا ہے۔ پھر یہ سب لوگ ایک ہی قبیلے کے افراد اور ایک جیسی تربیت کے ہونہار ہیں۔ کسی کا دادا رسہ گیر تھا اور کسی کا پر دادا انگریز کا پالتو جانشین تھا۔ کوئی گداگر تھا تو کوئی گدی نشین تھا۔ گداگروں نے دروازہ کھلا دیکھا تو گھر پر قبضہ کرکے گھر کے مکین بن گئے اور گدی نشینوں نے روحانیت کی آڑ میں شیطان سے رابطہ کیا اور حکمران بن گئے۔
نو دولتیوں میں سمگلروں، جرائم پیشہ گھرانوں، قبضہ گروپ کے سرغنوں اور کارندوں کے علاوہ نچلی ذاتوں اور پیشوں کے لوگوں نے اشرافیہ کا روپ دھارا اور حکومت پر قابض ہوگئے۔
جرم چاہے کسی بھی نوعیت کا ہو ان کے سرشت میں ہے جس سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ سانپ اس لیے ڈنگ مارتا ہے چونکہ اسے کچلے جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہی حال سیاست اورنوکرشاہی کے سانپوں کا ہے۔ وہ اس ملک میں کوئی قانون نہیں بننے دینگے جو ان کی مکارانہ سیاست پر قدغن لگائے اور انکے جرائم کا پردہ چاک کرے۔ کیا ستم ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ مسلمانوں کے ملک میں قانون سازی کا اختیار قانون شکنوں اور جرائم کی آبیاری کرنے والوں کا استحقاق ہے۔
سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس حافظ ایس ڈی جامی اپنی کتاب
“Police, crime and politics” Memorie of an IGP میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی سیاستدانوں نے پولیس کو سیاست کا حصہ بنا لیا۔ پولیس ان جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ افزائی کرنے لگی جو سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے خاص کارندے اور ان کے اشاروں پر جرم کرتے تھے۔ پولیس سیاستدانوں اور اعلیٰ اشرافیہ کے حکم کی محتاج ہو کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں کھو کر جرم کا حصہ اور مجرموں کی تربیت گاہ بن گئی۔ بعد میں کارخانہ دار، سرمایہ دار اور دیگر پیشوں سے وابستہ افراد اور گھرانے سیاست کے میدان میں اترے تو سیاست لاقانونیت کے بازار میں بدل گئی۔
تیسری دنیا کے سیاسی اور انتظامی امور پرمغربی محققین نے بہت کچھ کہا اور لکھا چونکہ تیسری دنیا جس میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں طویل عرصہ تک نوآبادیاتی نظام کے تابع رہے ہیں۔ اس خطہ کے عوام نفسیاتی طورپر کچلے ہوئے ذہنوں کے حامل غلامانہ زندگی کے خوگر ہو کر غلامی اور جبر میں آفیت اور راحت محسوس کرتے ہیں۔ بدمعاش اور غنڈے آج بھی قومی ہیرو ہیں اور اسی قماش کے سیاستدان، تھانیدار اور پٹواری مشہور اور اہم شخصیات شمار ہوتی ہیں۔
عالمی سطح پر سیاسی اور سماجی تجزیہ نگار ہماری خصلت اور اجتماعی شعور اور نفسیات پر مسلسل کام کرتے ہیں تاکہ ہم ایک تہی دست، محتاج اور مفلوک الحال قوم رہیں تاکہ معاشی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط اقوام اور عالمی مالیاتی ادارے اپنی مرضی کے حکمران اور نوکر شاہی مسلط کرکے ہمیں غلامی کے شکنجے میں جھگڑے رکھیں۔ سینئر سفارتکار اور تجزیہ نگار آغا ھلالی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پہلے کس طرح ملک میں معاشی بحران پیدا کیا جاتا ہے، اشیأ خورد و نوش کے علاوہ پٹرول اور دیگر اشیائے ضرورت کی قمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں تو پھر سیاستدان اور بیوروکریسی مل کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں اور ممالک سے قرض مانگنے چل پڑتے ہیں۔
یہ لوگ عالمی مالیاتی اداروں کے ایجنٹ بن کرسودے بازی کرتے ہیں اور انہیں بتلاتے ہیں کہ کون کون سی شرائط کے عوض قرض دینا ہے۔ سرفہرست بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور ایسی اشیائے ضروریہ پر ٹیکس کی تجویز دی جاتی ہے جس سے عوام کی چیخیں تو نکل جاتی ہیں مگر وہ کوئی احتجاج نہیں کرتے، یہی لوگ اور ان سے فائدہ اٹھانے والے سوداگر اور صنعت کار اپنے ہی لوگوں کے ذریعے مہنگائی اور اشیأ کی عدم دستیابی کے خلاف چند بیانات اور کسی کسی جگہ چھوٹی موٹی ہڑتال یا احتجاج کرکے عوام کو مطمئن کر دیتے ہیں۔ اس بار آئی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کی تنخوائیں اور ریٹائیرڈ ملازمین کی پنشنیں نہ بڑھانے کا حکم دیا اور اس پر من و عن عمل بھی ہوا جبکہ حکومت نے بجٹ کے ساتھ ہی دس فیصد مہنگائی کی خوشخبری بھی دی مگر بلاول، مریم، احسن اقبال، شہباز شریف اور قوم کے سب سے بڑے غم خوار خواجہ آصف کو جیسے سانپ سونگ گیا۔ کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ وہ عوام کا مقدمہ اسمبلی میں پیش کرتا۔ سیاست کے اس گھناؤنے کاروبار میں کیا حکومت، کیا اپوزیشن، کیا بیوروکریسی اور کیا مذہبی جماعتوں کے لیڈر اور گدی نشین پیر سب کے سب برابر کے شریک ہیں۔
میلکم والس اپنی تحریر میں لکھتا ہے کہ:۔
“Bureaucracy” Its role in third world development ” Bureaucracy” is a word which in ordinary use conjures up negative images in people’s minds. It suggests a slow moving organisation, usually associated with government, which serves the public with a mixture of arrogance, deliberate obstruction and incompetence. The word is often employed as a insult, whilst, bureaurates some times seen a figures of fun. This picture is a caricature. Whilst it contains a grain of truth, as most caricatures do, it obscures a great deal of reality. In that sense, it is an unfortunate image and is in urgent need of correction.
میلکم والس کا تجزیہ سو فیصد درست ہے اور نوکر شاہی ہی اس ملک کی تباہی اور عوام کے دکھوں کی ذمہ دار ہے۔ نوکر شاہی کا کردار در حقیقت سیاسی اداروں میں کرپشن، نااہلی اور عوام سے نفرت کا شاخسانہ ہے۔ اگر سیاسی ادارے مضبوط اور سیاستدان عوام دشمنی نہ کریں تو نوکر شاہی کا قبلہ چند دنوں میں درست ہوسکتا ہے۔ بقول صفدر ہمدانی کے ہر ادارے میں صرف پانچ لوگ کام کرتے ہیں اور پانچ ہزار صرف تنخواہ لیتے ہیں۔ ایس ایچ او اور آئی جی کے اختیار ایک جیسے ہیں۔ آئی جی صرف پوسٹنگ ٹرانسفر کا کام کرتا ہے۔ پٹواری کا لکھا ملک کا صدر بھی نہیں مٹا سکتا اور چیف سیکرٹری تک ہر عہدیدار پٹواری کا محتاج ہے۔ یہی حال سیاستدانوں کا ہے۔ تھانیدار اور پٹواری کے بغیر سیاستدانوں کا کاروبار بھی نہیں چلتا۔ خاص کر پنجاب کی سیاست تھانے اور پٹوارخانے کی محتاج ہے۔
سابق صدر آزادکشمیر جنرل حیات خان کی کابینہ صرف ایک مشیر پر مشتمل تھی۔ یہ صدارتی مشیر ریٹائرڈ گرد اور یعنی سینئر پٹواری تھا۔ آزادکشمیر میں جنرل حیات کا دور حکومت ہر لحاظ سے مثالی ہے۔ اسی خطہ میں اب ایک وزیراعظم، صدر اور وزیروں مشیروں کی فوج ہے اور کوئی بھی کرپشن کے الزامات سے بری نہیں۔ ہندوستان کی تاریخ میں شیر شاہ سوری کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ شیرشاہ کے دس گورنر، پانچ مشیر اور دس وزیر تھے۔ موجودہ پاکستان، ملحقہ افغانستان کے چھ صوبے اور آدھا بھارتی پنجاب ایک ہی صوبہ تھا جس کا گورنر ہیبت خان نیازی تھا۔ ہیبت خان کے دور گورنری میں چوری، ڈاکے اور دیگر جرائم کا نام و نشان تک نہ تھا۔
حال ہی میں پی ٹی آئی کی حکومت نے سول سروسز اصلاحات کا عندیہ دیا ہے مگر جو فارمولہ پیش کیا گیا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے قابل عمل نہیں۔ بیس سال بعد ریچھ کی کارکردگی دیکھی جائے گی کہ وہ کتنا خونخوار تھا۔ اگر کام کا نہ ہوا تو اسے ایسے جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا جہاں وافر مقدار میں مچھلی اور شہد دستیاب ہوگا۔
بیس سال بعد بیوروکریٹ بیسویں گریڈ میں ہوتا ہے اور تب تک اس کا پیٹ بھر چکا ہوتا ہے۔ نوکری سے برخاست کرنے پر اسے خانسامہ، ٹیلیفون کی مفت سہولت، ڈرائیور اور جو گاڑی اس کے استعمال میں ہوتی ہے ساتھ لے جانے کی اجازت کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ پنشن اور دو کروڑ کیمیوٹیشن ملتی ہے۔ جج صاحبان کی دس بارہ لاکھ پنشن اور دیگر مراعات زندگی بھر کے لئے مہیا کی جاتی ہے۔ گریڈ اکیس اور بائیس کے سول اور فوجی افسران کی مراعات اور پنشن سے دوسوگھرانے خود کفیل ہوسکتے ہیں۔گریڈ بیس سے اوپر کے افسران چاہے وہ فوج میں ہوں یا سول میں اپنی مراعات کا خود تعین کرتے ہیں اور حکومت اس پر خاموشی سے مہرلگا دیتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سیاسی اداروں کی کمزوری، سیاستدانوں کی نا اہلی اور کرپشن ہے۔ حکومتیں بیوروکریسی کی مرضی سے چلتی ہیں سیاسی، آئینی اور قانونی قوت سے نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں پنجاب کی بیوروکریسی نے ہڑتال کی اور حکومت کو اس کی اوقات یاد دلائی۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے ہمیشہ بیوروکریسی کی بات مانی اور کامیابی سے قومی خزانہ لوٹ کر ملک سے باہر لے گئے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس غلامی سے کبھی نجات ملے گی یا یہ فرسودہ نظام یوں ہی جاری رہے گا۔ یہ سوال عوام سے بھی ہے اور حکومت سے بھی، فوج سے بھی ہے اور عدلیہ سے بھی؟؟؟؟؟؟؟

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى