تازہ ترینسید اولاد الدین شاہ

لوئر چترال: دو بیٹوں کا قتل بیٹی زخمی،کسی بھی کیس میں ایف آئی آر تک نہیں ہوا۔۔۔سید اولاد الدین شاہ

لوئر چترال: دو بیٹوں کا قتل بیٹی زخمی پولیس کہتا ہے کوئی دعویداری کرے گھر کے مرد مارے جا چکے ہیں تھانے کون جائے۔ اور کسی بھی کیس میں ایف آئی آر تک نہیں ہوا۔


خاتون کے خاندان کا تعلق ضلع چترال کے علاقہ استار سے ہیں ۔ اور 60 سالوں سے دروش گول میں رہائش پذیر ہے۔ خاتون کی عمر 26 سال تھی اس کی شادی ایوب اور بخت روان کے زرئعے دیر کے تحصیل براوال میں دلاور خان نامی 65 سالہ شخص سے کروا دی گئی۔
شادی کے چالیس دن بعد جب خاتون اپنے گھر چترال واپس آئی اور انھوں نے گھر والوں کو بتایا کہ سسرال والوں کا رویہ اُس کے لئے نا قابل برداشت ہے۔ اس وجہ سے واپس سسرال جانے سے انکار کر دیا۔

خاندانی زرائع کے مطابق جون 2016 کی رات گیارہ بجے دلاور خان کے آدمیوں کےعلاوہ اپنے گاؤں کے کچھ لوگ جن کو وہ اچھی طرح پہچانتے ہیں، گھر میں گھسے اور گھر والوں کو مارا پیٹا، باپ کے ایک دانت کے ساتھ پسلی بھی توڑ دی، اور گھر والوں کو رسیوں سے باندھ کر خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اورپہاڑوں کے راستے سے دیرمنتقل کر دیا۔ اورلوگوں کو پولیس نے پکڑ بھی لیا تھا بعد میں ضمانت پہ رہا کر دیا۔ اس کے بعد لگ بھگ ایک سال چھ ماہ بعد خاتون واپس چترال آئی اور واپس جانے سے انکار کردیا۔ اور کورٹ میں خلع کا مقدمہ درج کر دیا-

بہنوئی اورماں کےمطابق کورٹ میں خلع کا مقدمہ چل رہا تھا۔ اس دوران 9 دسمبر 2017 ء کو خاتون کے بھائی ضیاء الرحمان جو لکڑی کاٹنے لگ بھگ صبح دس بجے حیدر زمان کے بچوں فضل، حسن اللہ اور ایوب کےساتھ پہاڑوں پرگیا ہوا تھا۔ دن کے بارہ بجے ہمیں ضیاءکے پہاڑ سے گر کر موت کی اطلاع ملی اور تین بجے لاش کو گھر پہنچا دیا۔ اور لاش کو پوسٹ مارٹ بھی نہیں کرنے دیا۔ جلدی میں دفنایا گیا۔ بعد میں ایس ایچ او آیا تھا۔ جگہے کا معائینہ کرکے چلا گیا۔

ماں کا کہنا ہے۔ جو لوگ میرے بیٹے کے ساتھ تھے۔ ان سب نے گرنے کے بارے میں الگ باتیں بتائی۔ لیکن پولیس نے پوچھ گچھ کرنے کی زخمت نہیں کی۔

اس سلسلے ڈاکٹر شاہ فیصل خان کا کہنا ہے۔ اگر پوسٹ مارٹم نہیں کیا۔ اس کا تو کھوپڑی کی ہڈی سے بھی پتہ چل جاتا ہے۔ کہ اس کو کلھاڑی سے مارا گیا ہے یا وہ خودگر گیا ہے۔
25 ستمبر 2018 خاتون کا دوسرا بھائی عزیز الرحمان اپنے بہنوئی فضل مولا اور ایک گاؤں والانور الدین ساتھ پہاڑوں میں لکڑی کاٹنے گیا تھا۔ یہ دونوں تھوڑا آگے جا رہے تھے اورعزیز ان کے پیچھے تھا۔ ان کے درمیاں 20 منٹ کا فاصلہ تھا- کام کے جگہ پہنچ کرکچھ دیر انتظار کیا پھر فون کیا۔ فون بھی نہیں اُٹھایا۔ پھر دونوں اُس کو ڈھونڈتے ہوئے واپس آگئے۔ جب دیکھا جائے وقوعہ پر پہلے رومال نظر آیا پھر خون اس کے بعد لاش پڑی تھی۔ اُس کو بھی کلھاڑی سے وار کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔
خاندانی زرائع کے مطابق پولیس نے اس کے لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا۔ اور ایف آئی آر بھی ہوا عزیز کو دفنا دیا اور ساتھ ساتھ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد فائل کو بھی دبا دیاگیا۔

ماں کا کہنا ہے۔دونوں بیٹوں کے قتل کے بعد پولیس والوں نے میرا شوہر کو یہاں تک کہہ دیا کہ استخارہ کر لو خواب میں جو بھی نظر آئے گا اس پر ایف آئی آر کاٹ لیں گے۔ ایک اوراس کے علاوہ اللہ کے نام پر معاف کرنے کی بھی تجویز دے دی گئی۔ اس بات کی بہن اور بہنوئی نے بھی تصدیق کر دی۔

28 جولائی 2019 کو باپ کا انتقال ہو گیاہے۔ خاندانی زرائع کے مطابق باپ کی موت بھی گاؤں اور دیر والوں کے دیے گئےزخموں کی وجہ سے ہوئی۔

کیس جیتنے کے بعد خاتون نے شادی کر لی۔ اوراب اُن کے دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹے کی عمر نو ماہ ہے۔
11 جولائی 2020 کے رات تین بجے خاتون پربھی قاتلانہ حملہ ہوا۔ ٹانگ میں گولیان اوروہ زخمی ہے۔

اس سلسلے میں پیر مختار نبی جو معروف سماجی کارکن ہیں۔ اوراس خاندان سے مل کر ویڈیو بھی سوشل میڈیا میں جاری کر چکے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے۔ اس خاندان کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ اور پولیس بھی اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ اور اب بھی ان کے خاندان کو خطرات لا حق ہیں، اور دھمکیاں مل رہے ہیں۔ اگر پولیس اور انسانی حقوق کے تنظیموں نے ایکشن نہ لیا۔ فیملی کے مزید افراد کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس کے گھر کے مردوں کو ختم کیا جا چکا ہے۔ اس کیس کو حکومت کی طرف سے آگے بڑھانے اور مجرموں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔

پولیس زرائع کے مطابق سارے کیسز ایک دوسرے کے ساتھ لنک ہیں۔ لیکن متاثرہ خاندان کی طرف سے دعویداری سامنے نہیں آیا ہے۔ اگر یہ لوگ کسی پر شک کرتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں۔ کیس کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جا چکا ہے۔ اور ورثاء کے بیانات بھی قلمبند کئے جا چکے ہیں۔

ہیومن رائیٹس ایکٹیوسٹ سید مختارعلی شاہ ایڈوکیٹ کا کہنا ہے۔ یہ تسلسل کے ساتھ قتل کا واقعہ ہے۔ پولیس دعویداری کی بات کرتا ہے۔ اس گھر کے مرد حضرات کو قتل کرکے ختم کیا جا چکا ہے۔ لیکن کسی بھی کیس میں ایف آئی آر نہیں ہوا۔ ان کی ماں کا ویڈیو پیغام جاری ہوا ہے۔ اور وہ اپنے پیعام میں قتل کے ملزموں کا نام لے کرحکومتی اداروں سے انصاف کا طلب گار ہے۔ پھر پولیس اُن کی ماں کا بیان قلمبند کرکے ملزمان کو قانوں کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے۔

اس کیس کے سلسلے دروش کے رہائشی رضیت بااللہ کا کہنا ہے، گاؤں والوں کے مطابق یہ ایک مشکوک کیس ہے۔ اتنے کم آبادی والے علاقے میں ایک ہی گھر کے دو بیٹوں کا پہاڑ سےگرنا مخص اتفاق نہیں ہو سکتا۔ اور بیٹی پر فائرنگ کے واقعے کو دیر والوں سے جوڑتے ہیں۔

اس کیس کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال عبدالحئی خان سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی، کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

إغلاق