تازہ ترینکھیلوں کی خبریں

کالاش ویلی بمبوریت کے بالائی گاؤں شیخاندہ میں پندرہ روزہ ٹورنامنٹ کا انعقاد

چترال ( محکم الدین ) دہشت گردی کا خاتمہ اور کرونا وائرس کے خوف میں کمی آنے کے بعد پہاڑی نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے اور سیاحت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے نوجوان سوشل ایکٹی وسٹ عدنان مجید اور اُن کے ساتھیوں نے کالاش ویلی بمبوریت کے بالائی گاءوں شیخاندہ میں پندرہ روزہ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا ہے ۔ جس کا افتتاح ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیت عتیق احمد نے شیخاندہ بمبوریت کے قدرتی نظاروں سے بھر پور ایک خوبصورت سپورٹس گراءونڈ میں کیا ۔ اس ٹورنامنٹ میں فٹبال ، والی بال کے علاوہ علاقائی کھیل بزکشی ، تیر اندازی ، پہاڑی دوڑ ، بال تھرو و دیگر کھیلوں کے مقابلے ہوں گے ۔ جس میں اپر چترال اور لوئر چترال ے تعلق رکھنے والی سولہ ٹیمیں حصہ لیں گی ۔ اس موقع پر علاقائی معززین سابق ممبر جندولہ خان ،سابق ناظم عبد المجید ، ڈی ایس پی سرکل ایون احسان اللہ ، ایس ایچ او بمبوریت شمشیر خان ، ریٹائرڈ صوبیدار میجر محمد یوسف ، ممتازسپورٹس پروموٹر و رہنما تحریک انصاف محمد علی جناح لال و نور محمد وغیرہ موجود تھے ۔ مہمان خصوصی عتیق احمد نے ٹورنامنٹ کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ کھیل نوجوانوں کی صحت اور سوچ میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اور کالاش ویلی بمبوریت کے بالائی گاوں شیخاندہ میں ٹورنامنٹ کا انعقاد اس لئے اہمیت کی حامل ہے ۔ کہ یہاں کے نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع دستیاب ہی نہیں ہیں ۔ ا س لئے موجودہ ٹورنامنٹ سے نوجوانوں کو صحت مند تفریح کے مواقع ملیں گے ۔ اور دوسری طرف سیاحوں کی اس علاقے میں آمد سے لوگوں کو روزگار ملے گا ۔ انہوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی ۔ کہ کھیل کو کھیل کی حد تک رکھنے کی کوشش کریں ۔ اور باہمی اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیلوں کے ذریعے مثبت ماحول میں روزگار کے مواقع پیدا کریں ۔ سابق ناظم یوسی ایون عبدالمجید نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ شیخاندہ ایک پسماندہ لیکن سیاحتی لحاظ سے ایک خوبصورت علاقہ ہے ۔


ٹورنامنٹ کا مقصدسیاحوں کو شیخاندہ کے نظاروں کی دعوت دینے کے ساتھ سا تھ شیخان کلچر سے روشناس کرانا ہے ۔ جو کہ نہایت منفرد اور قدیم تہذیب ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس ریجن میں طالبانائزیشن کی وجہ سے نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثر پڑا ہے ۔ جسے کھیلوں کے ذریعے مثبت سمت کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے ۔ شیخان کلچر ایک رچ کلچر ہے ۔ جسے ہم ترقی دینا چاہتے ہیں ۔ تاکہ مقامی لوگوں اور سیاحوں کو تفریح کے مواقع ملیں ۔ نتیجتاسیاحتی آمدنی لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنے ۔ ٹورنامنٹ کے آرگنائزر عدنان مجید نے کہا ۔ کہ ہماری کوشش ہے ، کہ شیخان قبیلے کے ٹریڈیشنل گیمز جو معدومیت کی طرف جا رہے ہیں ۔ اُنہیں دوبارہ زندہ کریں ۔ ا س سے شیخان تہذیب و ثقافت کو معدومیت سے بچانے میں مدد ملے گی ۔ اور اس قبیلے کے نوجوان اپنی ثقافت کو بطور کاروباری ٹول کے استعمال کرنے کے قابل ہوں گے ۔ جس طرح دنیا کی بہت سی قو میں اپنے کلچر کو اجاگر کرکے اُس کو آمدنی کا ذریعہ بنا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم نے ذاتی زمین کھیلوں کیلئے گراونڈ کے طور پر نوجوانوں کو پیش کیا ہے ۔ اس گراءونڈ میں بہتری لا کر مستقبل میں عظیم الشان ٹورنامنٹ کے انعقاد کا رادہ رکھتے ہیں ۔ ہماری کوشش ہو گی ۔ کہ یہاں امن و محبت بانٹیں ۔ اور روایتی مہمان نوازی سے سیاحوں کا استقبال کریں ۔ اور یہی ہمارا وژن ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ٹورنامنٹ کے اختتامی میچ نہایت جاندار ہوں گے ۔ اور ہم لوکل سیاحوں اور شائقین کھیل کو اس خوبصورت قدرتی نظاروں سےمالا مال سیاحتی مقام میں کھیلوں سے لطف اندوز ہونے کی دعوت دیتے ہیں ۔ جہاں قدرت کا دیا حقیقی حسن اور شیخان تہذیب و ثقافت اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

إغلاق