تازہ ترین

حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے،مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔جے یو آئی امیر مولانا فضل الرحمن کا چترال میں ختم نبوت کانفرس سے خطاب

چترال (چترال ایکسپریس)جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ حالات وہاں پر نہ لے جایا جائے جہاں قوت برداشت جواب دے جائے اور قوم کو لڑانے اور حکومت کا وطیر ہ ترک کیا جائے جوکہ فرغونی طرز حکمرانی ہے اور احتساب کے نام پر اپوزیشن کو بدترین انتقام کا نشانہ بنانے کی مذموم اور بھونڈے طریقے کو ترک کرنا ہوگا اور دوسروں کا احتساب کرنے والے خود بھی سوچ
لیں کہ ایک دن انہیں احتساب کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہوگا۔ جمعرات کے روز چترال شہرکے پریڈ گراونڈ میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کی معیشت تاریخ کی بدترین پوزیشن پر ہے جہاں شرح نمو صفر سے بھی نیچے گر گئی ہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب ملک معیشت کھوبیٹھتی ہے تو وہ ملک وجود بھی کھوبیٹھتا ہے جوکہ سوویت یونین کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے اور مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف ملک معاشی طور پر کنگال ہے تو دوسری طرف فرقہ واریت کے فروع کے ذریعے رہی سہی کسر نکالی جارہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج نہ ہماری زندگی محفوظ ہے، عقیدہ ختم نبوت اور عظمت صحابہ محفوظ ہے اور نہ اس قوم کا ووٹ محفوظ اور نہ نوجوان کا روزگار محفوظ جہاں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور تاجر سے لے کر مزدور اور وکیل اور ڈاکٹر سے لے کر اساتذہ تک سب پریشان ہیں تو مذہبی طبقہ مزید مضطرب ہے اور وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں اور ایسے حالات میں جے یو آئی نے ہی عوام کی ترجمانی کرنے کا بیڑا اٹھایاہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اس ملک کی آئین کی حفاظت نہیں کرسکتا جبکہ اسلام، پاکستانی قوانین، عقیدہ ختم نبوت کا آئین کا تحفظ حاصل ہے لیکن حکمرانوں نے تمام ذمہ داریوں سے اپنے آ پ کو دستبردار کردیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت دھاندلی کی پیدوار ہے جس کے لئے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقتدر قوتیں ہمیں ڈرارہے ہیں کہ ہمیں دھاندلی کے خلاف کچھ نہیں بولنا ہے لیکن خدا کی قسم، ہم بندوق کی نالی اور تختہ دار پر بھی ڈانکے کی چوٹ پر کہہ دیں کہ تم نے دھاندلی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے آباواجداد اور اسلاف نے ہمیں غلامی کا درس نہیں دیا ہے اور نہ ہی ہم ایسے ماؤں کی گود میں پلے بڑھے ہیں جسے خوف کی ہو ا کبھی چھوئی ہو۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے سامنے کھڑے مت رہو، ہم ایسے قوتوں کو روندنا خوب جانتے ہیں جبکہ ہم امن کے بھی سب سے بڑے داعی ہیں اور وطن کو خونریزی سے ہم نے بچائی ہے اور ملی یکجہتی کے حالات بھی پید اکی ہیں جبکہ قوم خوب جانتی ہے کہ اس خرابی کے ذمہ دار کون ہیں اور ملکی آئین اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں سے سب باخبر ہیں۔ جے یو آئی کے سربراہ نے کہاکہ امن کی زندگی اور عزت کی روٹی کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اگر یہ دو چیزیں عام آدمی کو ریاست فراہم نہیں کرسکتی تو اُس ریاست کو غریب عوام سے ٹیکس لینے کا حق بھی نہیں پہنچتاجہاں قوم کے پیسوں کو اللوں اور تللوں میں خرچ کیا جائے اور جہاں انصاف نام کی چیز ناپید ہو اور جہاں اپوزیشن لیڈر کو مجرم کے طور پر پیش کیا جائے اور جہاں طاقتور محفوظ ہو۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران رسولؐ کی ناموس کی دھجیاں اڑانے میں ممدومعاون ثابت ہورہے ہیں تو عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کرنے والوں اور صحابہ کرامؓ کے ساتھ خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے لئے ملک کو غیر محفوظ قرار دے کر انہیں باہر جانے کے لئے راستہ فراہم کررہے ہیں جس طرح اسلام کے خلیفہ اول کے گستاخ کو راتوں رات برطانیہ پہنچادیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وناموس بھی محفوظ نہیں ا ور چند روز ایک خاتون کے ساتھ موٹر وے میں ذیادتی کا چرچا ہے لیکن ایک سال کے اندر ہزاروں خواتین زیادتی کا نشانہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میگا پراجیکٹ گزشتہ حکومت میں جاری تھے مگر اس حکومت میں ان کی جگہ انڈہ، مرغی، کٹا پالنے اور بیچنے کی معیشت کو اپنا نے کی باتیں ہورہی ہیں اور دیر چترال کے لئے سی پیک منصوبے کو ختم کیا گیا ہے جوکہ ان کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اس منصوبے سے عام آد می کی زندگی بدل جانے والی تھی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت خارجہ پالیسی کے فرنٹ میں بھی مکمل طور پر ناکام ہے جس میں سعودی عرب اور چین جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات اپنی پست ترین درجے پر ہیں اور ناعاقبت اندیشن حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کرکے اس کی خصوصی حیثیت کو بھی ختم کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی خارجی، داخلی، معاشی، امن وامان اومعاشی پالیسی کو درست سمت میں استوارکرنے کے لئے ان حکمرانوں سے نجاب حاصل کرنا ہوگا جس کے لئے قوم تیار رہے۔ اس سے قبل جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمن، نائب امیر مولانا عطاء الحق درویش اور ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن نے بھی خطاب کیا۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق