تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد….محنت کش کی تعلیم..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

ہا ئیر ایجو کیشن کمیشن نے اعلیٰ تعلیم کے لئے پرائیویٹ امتحا ن دینے پر پا بندی لگا کر محنت کش اور غریب طبقے کے لئے اعلیٰ تعلیم کا دروازہ بند کر دیا ہے اور یہ آج کی بات نہیں 2010سے اس تجویز پر کام ہو رہا تھا سول سو سائیٹی نے حکومت کی توجہ غریب اورمحنت کش طبقے کو اعلیٰ تعلیم کی سہو لت سے محروم کرنے کی اس کو شش کے خلا ف بار بار آواز اُٹھا ئی لیکن پا لیسی سازوں نے تو جہ نہیں دی کیونکہ یہ دوسرے پا کستان کا مسئلہ تھا ”ایک نہیں دو پا کستان“ کا پرانا نعرہ یہاں کام آیا پہلا پا کستان ایک کروڑ یا 5فیصد دولت مند، سر مایہ داراورجا گیر دار طبقے کا ہے اس طبقے میں کوئی محنت کش اور غریب نہیں کسی کو مزدوری کر کے پرائیویٹ بی اے اور ایم اے کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں دوسرا پا کستان 19کروڑ عوام کا ہے جو کل آبادی کے 95فیصد کے برابر ہے اس طبقے کے پا س دووقت کی روٹی کما تے ہوئے تعلیمی استعداد بھی بڑ ھا نے کا مسئلہ ہے کسی جا گیر دار سر مایہ دار اور یورپ یا امریکہ میں پرورش پا کر پا کستان آنے والے سیا ستدان کا یہ مسئلہ ہی نہیں ایم اے اردو، ایم اے اسلا میات،ایم اے تاریخ یا ایم اے پولٹیکل سائنس جیسی ڈگریوں کی ان کو ضرورت ہی نہیں جو دوسرے پا کستان کے شہریوں کی ضرورت ہے حکومت کا اعلان بہت بے ضرر ہے اس اعلان کو دیکھ کربظا ہر ایسا نہیں لگتا کہ کسی غریب کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا یا کسی محنت کش کو اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم کیا گیا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے وہ لو گ ہیں جنکے ماں باپ نے ان کی تعلیم پر ایک کروڑ پاونڈ یا ایک کروڑ ڈالر خر چ کئے اُن کے ہاتھ میں اختیار آنے کے بعد انہوں نے سو چا کہ بی اے اور ایم اے کوئی تعلیم ہی نہیں حکم جاری کردیا کہ 2020سے تعلیمی نظا م سمسٹر میں بدل جا ئیگا بی ایس کی ڈگریاں ملینگی 4سال لگا کر 8سمسٹر وں میں امتحا نات پا س کرنے ہو نگے اس اعلا ن یا حکمنا مے کو پڑ ھ یا سن کر ایسا نہیں لگتا کہ کسی غریب اور محنت کش پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے خیبر پختونخوا کے پہا ڑی علا قے میں ہائیر سکینڈری سکول کے سٹاف روم میں اس حکمنا مے پر بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ قرب جوار کے 12سر کاری سکو لوں میں اساتذہ کی بڑی تعداد یعنی 85فیصد نے محنت مزدوری کر کے اعلیٰ تعلیم حا صل کی ہے یہ وہ لو گ ہیں جن کے گھر میں کما نے والا کوئی نہیں تھا ماں باپ بوڑھے، بیمار اور بے روز گار تھے ان لو گوں نے کراچی، لاہور یا پشاور میں جا کر محنت مزدوری سے ماں باپ کے لئے دووقت کی روٹی کمائی اور شام کے وقت اکیڈیمیوں میں ٹیو شن پڑھ کر گریجو ویشن کی، پوسٹ گریجو یشن کے امتحا نا ت پا س کئے مختلف ملا زمتوں کے لئے امتحا نات اور انٹر ویو کے مر احل طے کئے اور عمر کی با لائی حد پار کر نے سے پہلے ملا زمتوں میں آگئے جو نئیر کلر ک بھر تی ہونے والا سیکشن افیسر بن گیا، کا نسٹیبل بھر تی ہونے والا ڈی ایس پی کے رینک تک پہنچ گیا، پرائمیری ٹیچر بھرتی ہونے والا ہیڈ ما سٹر یا پرنسپل بن گیا بی اے، اور ایم اے کا پرائیویٹ امتحا ن اُن کے لئے کا میا بی کی کنجی ثا بت ہوا پرو فیشنل امتحا نا ت، بی ایڈ، ایم ایڈ، پی ایم ایس، ایل ایل بی، سی ایس اے وغیر ہ کے راستے بھی گریجو یشن کے بعد ہموار ہو گئے 2020میں سمسٹر آنے کے بعد دوسرے پا کستان سے کوئی غریب اور محنت کش نہ 8سمسٹر پڑھ کر بی ایس کر سکیگا نہ وہ گزیٹیڈ پو سٹ حا صل کر سکے گا خواتین کے لئے پرائیویٹ امتحا ن بہت بڑی نعمت کا درجہ رکھتا تھا غریب خواتین کی بھاری اکثریت گھر پر تیا ری کر کے گریجو یشن کر لیتی تھی پرائیویٹ امتحا ن دینے پر پا بندی کے بعد کوئی خا تون گھر پر تیاری کر کے گریجو یشن نہیں کر سکے گی شہر کے بار روم میں اس پر بحث ہوئی وکلا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پا لیسی سازوں میں عوام کی نما ئندگی نہیں غریبوں اور محنت کشوں کی نمائند گی نہیں تاہم پا رلیمنٹ میں ہماری نما ئندگی ہے یہ بات پارلیمنٹ کی سطح پر کیوں نہیں اُٹھا ئی جا تی؟ پریس کے نما ئندے نے نکتہ اٹھا یا کہ حکومت نے پا رلیمنٹ کو وقعت ہی نہیں دی پارلیمنٹ کی حیثیت ربر سیٹمپ کی طرح ہے ایک سینئر وکیل نے پارلیمنٹ کے اجزائے تر کیبی کا ذکر کیا اسمبلیوں میں وڈیروں اور سرمایہ داروں کے نما ئیندے آتے ہیں غریبوں اور محنت کشوں کے نما ئیندے نہیں آتے مذہبی جما عتیں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو ٹکٹ دیتی ہیں لیکن مذہبی جما عتوں کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور سنیٹر ز کو جدید تعلیم کے داؤ پیچ کا علم نہیں ہو تا انگریزی اخبار وہ نہیں پڑھتے اردو اخبارات میں غیر سیا سی خبروں پر وہ توجہ نہیں دیتے اسمبلی میں بولنے کے لئے تحقیق کا رواج نہیں ہے اس لئے غریب اور محنت کش طبقے کے مسائل کا کوئی ذکر نہیں ہو تا بڑی پارٹی کا بڑا لیڈر کسی ضلع میں بڑا جلسہ کرے تو اس ضلع کے ساتھ ہونے والی 22نا انصا فیو ں میں سے ایک کا ذکر بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ معاشرتی نا انصا فیوں سے بے خبر ہو تا ہے چنا نچہ محنت کش اور غریب طبقے پر اعلیٰ تعلیم کا دروازہ بند کیا گیا پرائیویٹ امتحا ن پر پا بندی لگا ئی گئی کسی رکن اسمبلی کے کا نوں میں جوں تک نہیں رینگی ملک کی آبا دی کا 95فیصد طبقہ اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوا مگر کسی نے اُف تک نہیں کی۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق