اقبال حیات آف برغزیتازہ ترین

رائی کا پہاڑ… تحریر: اقبال حیات اف برغذی

حال ہی میں ملک کے ممتاز عالم دین اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے دورہ چترال کے دوران پریڈ گراونڈ میں منعقدہ بڑے جلسہ عام کے موقع پر سٹیج میں بدمزگی کا جوواقعہ ہوا۔وہ اگرچہ اپنی نوعیت کے اعتبا ر سے سوشل میڈیا  کے ذریعے غلط انداز میں وسیع پیمانے پراچھالنے کی ضرورت کا حامل نہ تھا۔ مگر ایم ۔پی ۔اے مولانا ہدایت الرحمن صاحب کی ہتک اپنی جگہ قابلافریں ضرور تھی۔کیونکہ ایک عالم دین اور عوام  نمائندے کی حیثیت سے آپ کی عزت وتکریم اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ مگر جس انداز سے اس واقعے کو معاشرے کے اندر موضع بحث او ر  ورد زبان بنایا گیا ۔اس میں مبالغہ آرائی او ر سیاسی مخالفت کا عنصر غالب رہا۔ جگہ جگہ  تبصرے ہوئے ۔علماء کو ہدف تنقید بنائے گئے ۔اور سیاست میں ان کے کردار پر ہرزہ سرائیاں کی گئیں۔ ہر فکر ہر سوچ اور گفتار میں حقائق کے برعکس سیاسی اختلافات کا رنگ جھلک رہا تھا۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ دینی اعتبار سے ان کی حیثیت اور مقام کو قابل لحاظ نہ سمجھا گیا۔ اور سراسر سیاسی رقابت کی بنیاد پر ایک معمولی بشری کو تاہی کو رائی کا پہاڑ بنانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑ ی گئی۔اور پگڑی کی طر ف انگلی اٹھانے والوں کو یہ خیال تک نہیں آیا۔ کہ دنیا میں آتے ہی کانوں کو اسلام کے مقدس نام سے مانوس کرنا انہی حضرات کاطرہ امتیاز ہے۔ اور مذہب کے خلاف کسی بھی عمل پر ان کی طرف سے آواز اٹھانے  اور ملک وملت کو اسلام کے رنگ میں رنگین دیکھنے کی  کاوشوں سے مذہبی اقدار کی رعنائیوں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ مغربی طر ز جمہوریت کے معاملے میں سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ علماء گلشن اسلام کے وہ پھول ہیں۔ جن کی مہک سے باطل کے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے جیسے افعال کے تعفن  کا تدارک ممکن ہوسکتا ہے۔


ہمارے عظیم پیغمبر محمد مصطفے ﷺجہاں علماء کرام کووارث الانبیاء  قرار دیتے ہیں وہاں ان کی ذات کو درخت  کے مماثل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ درخت اگر پھلدار ہو تو اس سے انسان استفادہ کرتا ہے۔ بصورت دیگر اس کے سائے میں استراحت  کا لطف اٹھاتا ہے۔ اور سوکھ جانے کی صورت میں بطور ایندھن استعمال میں لایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے۔ کہ یہ طبقہ ہمہ جہت اوصاف کا حامل ہوتا ہے ۔ البتہ بحیثیت           بشرکو تاہی سے مبرا ہونے کا دعوی کوئی نہیں کرسکتا۔  مگر جس طرح سفید قمیص کے دامن   میں معمولی سا داغ نمایاں نظر آتا ہے۔ اس طرح اس طبقے کی معمولی نغرش پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔

بد قسمی سے ہمارے معاشرے کا مزاج ایسے رنگ میں ڈھل گیا ہے۔ کہ ہر کوئی کسی کی تذلیل کا شوق پور ا کرنے کے لئے موقع کے انتظار میں آستین چڑھائے بیٹھا ہوتا ہے۔ درگزر اور ایک دوسرے کےعیوب کی پردہ پوشی کرنے کا اسلامی تصور دوربین لگانے سے بھی نظر نہیں آتا۔ خاص کر رائج الوقت سیاست میں اس فعل کو کامیابی کی کنجی کی حیثیت حاصل ہے۔ ان حالا ت میں نہ جانے انجام گلستا ن کیا ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق