تازہ ترینشمس الحق قمر

دیوانوں کی باتیں—-(چوہوں سے جنگ )..شمس الحق قمرؔ چترال ،حال گلگت

میں اپنے پورے ہوش حواس  کے ساتھ  سر ِتسلیم  خم کر کےعلالاعلان اور انتہائی وثوق اور ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوا ہوں  کہ ہم سبھی انسان بلا امتیازِرنگ و نسل ، ملک و ملت ،اورمسلک و مذہب چوہوں  کے باج گزار ہیںیہ ظالم اپنا محصول  کسی بھی حال اور کسی بھی صورت  ہر خاص  اور عام سے اُٹھانے  میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں  کرتے  یہی نہیں بلکہ وہ ہر گھر کو اپنے باپ کا  گھر   اور ہر مکین کو   اپنا حلقہ  بگوش اور ذاتی ملازم  سمجھتے ہیں   ۔  اُن کے غرور ، چاپلوسی ، لڑائی  جھگڑوں   اور بد چلنی  سے مجھے بعض مرتبہ یقین سا ہونے لگتا ہے  کہ وہ   اپنے آپ کو اشرف المخلوقات  اور ہمیں  ناقص المخلوقات سمجھتے ہیں    اور وہ یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ  دنیا کی یہ ساری  اسائش و آرام جاہ و حشمت  اور جمال و آرائش  اُن ہی کے واسطے  ہیں اور اِدھر ہمارا خیال ِ خام  ہے کہ ہم اشرف المخلوقات ہیں  , ہم  خود مختار  ہیں ، جنتا گند پھیلانا ہے  وہ  ہمارے فرائض میں شامل ہے یہاں تک کہ ہم اپنی مرضی سے    زنا بالجبر  ، قتل و غارت   ، ڈاکہ زنی وچور چکاری اور بھتہ خوری تککے جملہ حقوق محفوظ رکھتے ہیں   ۔  جناب عالی ! میں اِس وقت  یہ فیصلہ کرنے سے قطعی طور پر  قاصر ہوں کہہم میں سے چوہے کون ہیں اور ہم میں سے ہم کون ہیں ؟     بہرحال


            ؎                                        مہمل ہے نہ جانیں تو جانیں تو وضاحت ہے

جٹیال  حسین  آباد کالونی  میں جس گھر میں  مَیں رہتا ہوں وہ گویا   چیرمن  شیر نادر سے چوہوں نے  کرایے پرلیا  ہو یا یہ کہ  میں چوہوں کے گھر میں  رہائش پذیر ہوا  ہوں ۔ساری رات  چھت پر   ٹین کی چادر اور لکڑی کی سیلنگ کا  درمیانی  خلا پانی پت  کا میدان   بنا رہتا ہے   اور  اُن  کی بے تکی و بے  سری سماع کی  سمع خراش   محفلو کے عین   نیچے ہم  ہیں کہ  صبح کی آذاں تک بے  خانماں پڑے رہتے ہیں۔ مولوی کی آذان کے ساتھ  یہ بھی خاموش ہوتے ہیں  شاید  ساری رات  کی بے ہودگی  کے اذالے کےلئے  یہ بھی نماز پڑھتے ہوں گے اور گڑگڑا  کر دعائیں مانگتے ہوں گے کہ  یا رب   رات بھر  جن آلائشوں  میں ہم ڈوبے رہے وہ در اصل شیطان کا غلبہ تھا  ،  ہم  توبہ کرتے ہیں۔   لیکن پھر اگلے دن وہی شور شرابا اور پھر وہی خطاوں کی بخشش کی دعائیں ۔ اب ان کم بختوں کو کون سمجھائے کہ   اپنے اشرف  الخلوقات  ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہوئے زندگی بھر   انہی غلاظتوں کا مرتکب ہوتے رہے ۔ توبہ کرکے پھر توڑتے رہے  اب   اللہ کے سامنے  بار بار جاتے  ہوئے تمہیںذرہ برابر  بھی شرم نہیں آتی ؟  اچھا ہوا کہ کل رات کے واقعے کے بعد  ہمارا یہ   یقین تو کم از کم  محکم ہوا کہ  حد سے زیادہ شرافت   کو  انسان ہی  دوسرے انسان کی    کمزروی نہیں   سمجھتا بلکہ چوہے بھی اس کار خیر میں  برابر کے شریک ہیں  یعنی اس خیال سے ہم یہ نتیجہ بھی  اخذ کر سکتے ہیں کہ  جو آدمی  آپ کی شرافت کو  آپ کی کمزوری سمجھتا ہے در اصل وہ  انسانی   حلیے  کا چوہاہی  ہے۔  جتنی شرافت سے پیش آؤ  اُتنی سر پر سوار ہو جاتے ہیں۔  اُن کی در اندازی وجاسوسی کی حد یہ ہوئی کہ ” ریڈیو آپ  کی دنیا”     کے پروگرام کی طرح  میاں بیوی کے بستر  تک جھانک کے  بھی شرمندہ   نہیں ہوئے ۔پچھلی رات    ہم  پر جو بیتی سو بیتی    دشمن پر نہ بیتے   ، ابھی ابھی آنکھ لگی تھی کہ   ٹین کی چادر اور  سیلنگ  کے درمیانی سکٹر سے   کنڑول لائن  پھلانگ کر آیا ہوا  جاسوس    “چر چر”  سیٹی بجاتے سر کے اوپر سے ہمیں للکار تے  گزر گیا اور  ہم   خواب اور ہوش کی درمیانی کیفیت میں  اُٹھ بیٹھے ، حلیہ درست کیا ، جو پہننا تھا  پہن لیا  اور جو نہیں پہننا تھا وہ بھی پہن لیا  ( ٹارچ) دستی بجلی  نکالی اور تعاقب شروع کیا ۔ دشمن کی یہ  بے جا دراندازی رات کے ٹھیک بارہ بجے ہوئی تھی اور ہم نے کمرہ سل کر کے رات ایک بجے تک کمرہ اور  واش روم   کا کونہ کونہ اور کھدرا کھدرا   چھان ماری   یہاں تک کہ گلگت میں مقیم   نیم فوجی  محافظوں   کی  طرح جسم کے مشکوک خفیہ خانوں کی بھی تلاشی لی  چوہے کا  سراغ   نہ ملنا تھا نہ ملا ۔ آخر  ہم نے ایک حربہ یہ سوچا کہ گزشتہ چار سالوں سے ناز ونعم کے ساتھ پالی ہوئی ایرنی نژاد بلی  ” لیوؤ”  کیا قیامت کے دن شفاعت میں  کام آئے گی ؟ لیکن پھر  یاد  آیا کہ اس نے تو تین سال پہلے چوہوں کے سامنے  ہتھیار ڈالے تھے   ۔ لیوؤ  ایک بھاری بھر کم قد کاٹھ  ، گندمی رنگ ، نشیلی آنکھیں اور گول چہرہ والی وہ خوبصورت بلی  ہے جس کی شان و شوکت اور ناز و نخرے  دیکھ کر آپ میں سے ہر ایک کو  اُس  پر  چھوٹا ی شیر یا  شیر کا  بچہ   ہونے کا گمان گزرےگا  ۔ چار سال قبل جب ہمارے گھر پر چوہوں نے بلا وجہ  دھاوا بولا تھا تو  عین اُس وقت ہمارے پڑوس میں ایک اعلٰی نسل کی ایرانی بلی نے چار بچوں کو جنم دیا تھا ۔ اُن میں سے ایک کو ہم نے گھر لایا اور لیوؤ نام رکھا  اور ہم نے سوچا کہ آج کے بعد چوہوں کی شہنشاہیت اور راج کا سورج  ہمیشہ کےلیے غروب ہوگا۔ہماری بلی جبغفوان شباب کو پہنچی تو اُس کی مستی دیدنی ہوگئی  ،  گرمیوں کی شروعات میں عجیب و غریب آوازیں نکالنا ، اُچھلنا کودنا اور راتوں کو کئی گھنٹوں تک گھر سے غائب رہنا  معمول بن گیا ۔ ان کا یہ اغیانہ اور غیر مہذب  حرکتیں  ہمیں بری تو لگتی تھیں لیکن ہم کوئی اعتراض نہیں کر سکتے تھے   کیوں کہ  ادھر ہمارے  گھر میں چوہوں کےلیےبلی  کے اخلاق سے زیادہ   اُس کے وجود کی ضرورت تھی  لہذا جب سے ہمارے گھر سے بلی کی میاؤ میاؤ کی آوازیں آنی شروع ہوئی تھیں  تب سے چوہے اپنے مورچے چھوڑ کے  غائب تھے ۔ اب  چوہوں کو بخوبی علم تھا کہ اس گھر میں  جھانکنااپنی بے وقت  موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ ایک دن ہم نے اپنے داخلی دروازے کے قریب ایک  بھٹکاہوا چوہا دیکھا وہ شاید  اپنے  گھر کا راستہ بھول چکا تھا   کیوں کہ ہمارے دروازے کے باہر مین روڈ پر ایک ہی نقطے  پر کھڑے  عرصے سے سوچے جا رہا تھا کہ اُن کے یہاں تشریف آوری کی توجیہہ کیا ہے  ؟ موقعے کو غنیمت  جان کر ہم نے  یہ ٹھان لیا  کہ  یہ اپنی بلی کی دہشت اور  جاہ جلال  کو آزمانے کا  نادر موقع ہے لہذا ہم نے ” لیوؤ” کو اُٹھا کر دروازے سےباہر لایا ۔ آمنا سامان ہوادونوں نے ایک دوسرے کو گھورنا شروع کیا ۔ ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ بلی اپنے شکار کو کتنی  ہشیاری اور بہادری سے  پکڑتی ہے ؟  ہمیں احساس ہوا کہ ہم  اپنے ممولے کو شہباز سے لڑا رہے تھے ۔ ہم نے اپنی     لیوؤ  کو  پہلی بار جب ایک چوہے سے نبر اذما ہوتے دیکھا  تو چوہوں سے اپنی حفاظت کی جتنی بھی اُمیدیں لیوؤ سے وابستہ تھیں اُس دن ہمارے سینے میں دم توڑ  کر ہمیشہ کے لئے دفن ہو گیں ۔ چوہے کو دیکھ کر  موصوف  میری  گود میں  آکر  لمبی لمبی سانسیں لینے لگی   ۔ میں شاید  اُسے  بہلا کر   دشمن کے مقابلے کےلیے  تیار کرتا  لیکن وہ اپنے سامنے سیسہ  پہلائی ہوئی دیوار کی طرح   کھڑے چوہے  کو دیکھ  کر  اتنا سہم گیا تھا     کہ بے حد نا  خوشگوار  باد شکم   خود سختہ طور پر باربار   اس سے سرزد ہونے لگی تو میں  نے اپنی ناک   پکڑتے ہوئے  لیوؤ  کو چھوڑ دیا  اور لیوں  جان کی امان میں     بھاگ کے میرے صحن میں استادہ  چیری  کے درخت   پر چڑھ   کر چوہے سے محفوظ رہی ۔ تا حال محفوظ ہے

            لہذا  آج  چوہے   کے سوتے سوتے  میرے سر کے اوپر سے گزر جانے اور  پھر  کمرے کے اندر غائب ہونے پر   لیوؤ کو  مدد کے لیے بلانا    کتنی حماقت تھی  اس کا اندازہ آ پ بخوبی کر سکتے ہیں ۔     ہمارے پاس دوسرا حربہ یہ تھا کہ  کمرہ کھول کر دوسرے کمرے سے کیڑے مار دوا لاکر چھڑک دیں ۔   ہمارا دروازہ جوں ہی باہر کی طرف  کھلا تو   واش روم  میں لٹکے ہوے آئینے کی دھڑام سے گر نے کی آواز آئی ۔اور چوہا  فاتحانہ انداز سے  واش روم سے نکل کے  دوسرے کمرے میں داخلہ ہوا    اور مؤذن نے صبح کی اذان دی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق