تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان۔۔حکمران کا حکم۔۔محمدجاوید حیات

دنیا میں انسانیت نے کیا کیادور نہیں دیکھی،کہتے ہیں کہ انسان غاروں میں تھا۔یہ تاریخ ہے اسلام میں کسی غار کا ذکر نہیں۔غیر مہذب اور مہذب انسان کے قصے تاریخ کے اوراق میں بکھرے پڑے ہیں۔ذور آور اور کمزور کی دستانیں ہیں۔زبردست اور زبردست کی کہانیاں ہیں۔انصاف اور ظلم کی تاویلات ہیں۔مگر جس دور کو دیکھو زبردست زبردست کا تابع فرمان رہا۔زبردست کا حکم چلتا رہا۔لاٹھی جس کے ہاتھ میں رہی بھینس بھی اسی کی رہی۔بادشاہ،شاہنشاہ سلطان وغیرہ کا حکم آخری ہوتا۔ان کے جی میں جوبھی آیا کہا۔حکم لاگو ہوا۔ظلم انصاف،جائز ناجائز کا فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں۔ان کا حکم قانون،اصول،مرضی جو بھی نام دو۔شاہ کا حکم شاہ کی مرضی۔کسی کو جلتے تیل میں ڈال دیا۔کسی کو زندہ آگ کے شعلوں میں پھینک دیا۔کسی کا چمڑہ اُتارا،کسی کو معاف کردیا کسی کو بے گھر بے در کردیا۔کسی کی جھولی موتیوں سے بھردیا انسان ان کے سامنے غلام ازلی،ایک بے یقینی،مایوسی کا دوردورا۔زمانے نے کروٹ لی وہ الگ ورنہ تو یہ طاقت جس کے ہاتھ میں جائے حکم اسی کا چلے۔
اسلام نے آکر دنیا کو قانون کی حکمرانی دی،قانون اللہ کا اس کے سامنے سب مجبورمحض،حکمران بھی اس کے تابع اور رعایا بھی۔پھر اسلام میں ملوکیت آئی تب پھر سے شاہ کا حکم چلنے لگا۔تب بھی کوئی اس کو یاددلاتا توخوف خداکہیں سے خم لیتا اور انصاف کے ایوان جگمگااُٹھتے۔پھر دنیا نے سوشلزم،کمیونزم،کپٹیلزم،مارکینزم،فاشزم کتنے ازم دیکھ لی۔لیکن اسلامزم کے سامنے سب خاکستر وکہتر تھے۔کوئی ازم دنیا کو حقیقی امن،فلاح خوشحالی اور سکون نہ دے سکی۔پھر جمہوریت کا نعرہ بلند ہوا۔۔۔۔”لوگوں کی،لوگوں پر لوگوں کے ذریعے حکومت“نعرہ بڑا دلنشین تھا۔قانون بنے،آئین بنے،ایوان سجے لیکن انسان کا بنایا ہوا قانون انسانوں کے لئے تھا اس میں بھی بہت ساری کوتاہیاں رہ گئیں۔مرد قلندر اقبال نے مرد فرنگی کے حوالے سے اس کا تعارف کیا۔
اس راز کو ایک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔
بہرحال دنیا میں جمہوریت اپنے ہزار نقائص کے باجود اس شاہنشاہیت سے بہتر ہے اس لئے کہ اس میں قانون کو اہمیت دی جاتی ہے۔حاکم کا حکم اپنے آب وتاب کے ساتھ لاگو نہیں ہوتا۔ماننے والے مانیں نہ مانیں یہ درس قرآن نے پہلے سے دے رکھی تھی۔کہ قانون کی طاقت حاکم کے حکم سے زیادہ ہے۔قرآن نے کہا ”اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے“دنیا نے دیکھا کہ ایک مجرم کا قصاص ہوا تو سینکڑوں سال کسی دوسرے مجرم کو قتل جیسے جرم کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔
اللہ کے اس قانون کو بربریت کہنے والے جدید جمہوریت کے چمپینوں نے مجبور ہوکر ”سزائے موت“کو جائز قراردے دیا ہمارے ہاں بھی سنگین جرم کے مرتکب مجرموں کے لئے اس سزا کی تجویز ہوئی۔دیکھا جائے تو جمہوریت کے ان عظیم دعوے داروں نے جب طاقت پکڑا۔تو پھر سے”حکمران کا حکم“پھر سے توانا آواز بن گیا۔عالمی طاقت،بڑی طاقت،ورلڈ ارڈر،نیوولڈارڈر نام کے حکم نامے آنے لگے۔اور دنیا اس شکنجے میں جھکڑنے لگی۔لیکن ”حکمران کے حکم“میں معیار ہونا چاہیئے۔۔۔پل میں تولہ پل میں ماشا۔۔۔یہ تو کیفیت نہیں ہوئی۔ہمارے ہاں جمہوریت نقل ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ذرا اصلی صورت میں موجود ہے اس لئے ہم اس کی مثالیں دیتے ہیں کہ وہاں عدالتوں میں جھوٹ نہیں بولا جاسکتا۔وہاں پولیس قانون کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی وہاں پر ادارے اور محکمے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔محنت اور صلاحیت کی قدر ہے۔اہل کو کام سونپا جاتا ہے جو اپنے کام میں ناکام ہوتو وہ اس کو زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ہمارے ہاں جمہوریت نقل کی نقل ہے اس لئے عوامی حکومت کے وہ ثمرات نہیں مل رہے ایسے میں عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام پر حکومت خواب ہے۔عوام ایک بے ربط اجتماع کانام ہے جس پر حکمرانی کے لئے مضبوط قانون کی ضرورت ہوتی ہے۔جس کے سامنے حکمران تک جوابدہ ہو اس کافائدہ یہ ہوگا کہ حکمران پر انگلی اٹھانے کی کسی کو جرات نہیں ہوگی۔اگر ایسا نہ ہو تو حکمران کا الگ مطلق کوئی حکم ہونا چاہیئے جو ماورائے عدالت ہو۔مثلاًکوئی بچی معاشرے میں بربریت کا شکار ہوئی۔اس کے لئے حکمران کا ماورائے عدالت حکم ہو کہ سفاک قاتل کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اگر اس کو قانون کے حوالہ کیا گیا تو قانونی موشگافیاں اور تقاضے ہونگے ان کو پورا کرنے میں بہت دیر ہوچکی ہوگی۔بے شک اس مفلق حکم پر واویلا مچے گا۔مخالفین شور مچائیں گے۔لیکن یہ حکم نامہ اگر عدل انصاف اور خلوص پر مبنی ہوگا تو اس کا دوررس فائدہ ہوگا۔ایسا کہ پھر کوئی زینب کا قاتل سر اُٹھانے کی جرات نہ کرے گا۔استاد اپنی ڈیوٹی نہیں کررہا اس کو فوراً فارغ کیاجائے۔اس کے لئے پھر قانون کا کوئی دروازہ نہ ہو کیونکہ جرم عیان ہے۔ٹریفک پولیس کا قانون ہے۔18سال سے کم بچے کوئی بھی گاڑی بائیک لے کے روڈ پہ نہیں آسکتے۔مگر ہرسال سینکڑوں بچے شاہراہوں پر بائیک دوڑاتے ہوئے حادثے کا شکارہوتے ہیں۔اس بچے کو ایسی سرعام سزادی جائے کہ اس کی گاڑی چھینی جائے اور اس کے ابو کو10سال کے لئے جھیل میں ڈالا جائے۔ٹھیکہ دار نے اپنا کام غلط کیا۔اس کو ایسی کڑی سزا دی جائے کہ قانون کے سارے دروازے اس پر بند ہوں۔عدالت کا کوئی فیصلہ غلط آیا تو حکمران کا اس کے لئے ماورائے عدالت حکم ہو کہ اس کو لٹکایاجائے۔تاکہ قانون مکھڑی کا جالا نہ بن جائے اور من مانیاں خود بخود ختم ہوں ہمارے ہاں انتشار اور مایوسی ہر بدعنوانی کی بڑی وجہ اس حکم نامے کا نہ ہونا ہے۔ارباب اختیار مصلحت کا شکار ہوتے ہیں ان کو اپنی کرسی کی بھی فکر ہوتی۔
پختہ ہوتی ہے اگرمصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
تاریخ شاہد ہے۔اس مطلق حکم نامے میں بڑی طاقت ہوا کرتی ہے اگر خلوص نیت،استقلال اور درد دل سے نکلا ہو،عدل وانصاف پر مبنی ہو ایسے حکم کی تعمیل اور اس کے نتائج کامیابی کے سوا کچھ نہیں۔خلیفہ رسولؐ نے کہا میں ان سے لڑوں گا خدا کی قسم لڑونگا جو نماز اور زکواۃ میں فرق کرے۔حالانکہ مصلحت کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔تمہیں میدان جنگ میں فاروق اعظم ؓ کا حکم نامہ خالدؓ کی جگہ ابوعبیدہؓ کو بنایا جائے ”طارق جو برکنارہ اندلس سفینہ سوخت“میں سلیبیوں سے لڑونگا جب تک میری تلوار تیڑھی نہ ہو۔سلطان صلاح الدین ایوبی۔ہندوستان میں سومنات بت توڑنے کا حکم،بابائے قوم کا اعلان ”میں پاکستان کے لئے تنہا لڑونگا جب تک ہمارے دشمن ہمیں اٹھاکر بحیرہ عرب میں نہ پھینک دیں ہم ہار نہیں مانیں گے“۔گھاس کھائیں گے ایٹم بم بنائیں گے“ میں ڈیم بناکے چھوڑونگا ایوب خان۔
یہ مثالیں اور اس قسم کی ہزارو ں مثالیں ہیں جو کسی سے مشورے سے نہیں فرد کے حکم تھے۔انکے دل سے نکلی ہوئی آواز تھی۔ان کے خلوص اور جرات کی للکار تھی۔جو وقت کے ساتھ کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔اس کو جمہوریت کی زبان میں وژن اور پالیسی بھی نہیں کہتے ہیں۔
ہمارے ایوانوں میں جس طرح کے مباحثے ہوتے ہیں اور گالم گلوچ ہوتے ہیں اس کو جمہوریت کا حسن کہتے ہیں۔ہم جیسوں کا دل ٹوٹتا ہے جو وژن عوام کے وسیع مفاد میں نہ ہو وہ توبدصورتی ہوئی۔ایک کرپشن کے خلاف بولے تو اس کو اڑے ہاتھوں لیا جائے۔ایک احتساب کی بات کرے تو اس کو الزام دیاجائے۔ایسی پریکٹسیں جمہوریت اور قانون کی دھجیان اُڑاتی ہیں۔ادارے کمزور پڑتے ہیں کرپشن اقربا پروری اور قانون شکنی کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور حکمراان کا حکم نامہ صدا بہ صحرا ہوتا ہے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق