تازہ ترین

چترال ڈولپمنٹ فورم کا اجلاس، لوئر اور چترال میں سڑکوں اور پلوں کی خراب صورت حال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال ڈولپمنٹ فورم کے نام سے نو تشکیل شدہ غیر سیاسی تنظیم کے اجلاس میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ چترال لوئر اور چترال اپر میں سڑکوں اور پلوں کی خراب صورت حال کا فوری نوٹس لے کر ان کی تکمیل اور مرمت کے لئے مطلوبہ فنڈز ہنگامی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں جبکہ اس وقت چترال کی سڑکیں انتہائی مخدوش اور ناگفتہ بہہ حالت میں ہونے کی وجہ سے عوام شدیدمسائل سے دوچار ہیں۔ پروفیسر (ریٹائرڈ) ممتاز حسین کے زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم کے ٹاسک فورس برائے ٹورزم کے ممبر شہزادہ سراج الملک نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ تحریک کے کنوینئر وقاص احمد ایڈوکیٹ کے علاوہ مختلف سیاسی اور سول سوسائٹی تنظیموں بشمول تجار یونین اور ڈرائیورز یونین کے نمائندوں شبیر احمد خان اور صابر احمد، پروفیسر سید توفیق جان، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن،الحاج خورشید علی خان، شاہ مراد بیگ، الحاج عیدالحسین،مولانااسرارالدین الہلال،عبدالولی ایڈوکیٹ، ساجداللہ ایڈوکیٹ،آفتاب اینڈ طاہر، ذاکر محمد زخمی، شریف حسین،مولاناجاوید، اور دوسروں نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ایک متفقہ قرارداد میں کہا گیاکہ چترال پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے، جہاں زندگی کے تمام شعبوں اور خصوصاً ذرائع آمد و رفت کے سلسلے میں یہ علاقہ باقی دنیا سے سینکڑوں سال پیچھے ہے۔ اس لیے اجلاس صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع کے اندر سڑکوں اور پلوں کی تعمیر اور بحالی پر فوری توجہ دی جائے۔ اجلاس میں خصوصی طور پر کلکٹک چترال روڈ کی توسیع اور بہتری، چترال بونی روڈ کی توسیع اور بہتری، بونی سے شندور تک معیاری پکی سڑک کی تعمیر،مستوج بروغیل پکی سڑک کی تعمیر، اویر تریچ روڈ کی تعمیر، چترال گبور معیاری روڈ کی تعمیر، آیون بمبوریت معیاری روڈ کی تعمیر، دروش شیشی کوہ روڈ، موڑکھو کے لئے لون گوہ کیر روڈ اور میرکھنی ارندو روڈ کی جلد ازجلد تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کے علاوہ دیہات کے لیے لنک روڈز کی تعمیر اور پختگی کے لیے فنڈز مختص کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے دونوں اضلاع کے اندر جاری منصوبوں پر کام کے تعطل اور سست رفتاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواری اپروچ روڈ دونوں سائڈ، لواری ٹنل اندرونی کام، بلچ روڈ، بونی بوزند (تورکھو) روڈ، آیون پل، اوسیاک پل، کوشٹ پل، مژگول پل کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور انہیں جلد از جلد مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اجلاس میں شرکاء نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ استارو کے مقام پر عارضی پل تعمیر کرکے تورکھو تحصیل کا رابطہ بحال کیا جائے۔ اسی طرح تریچ کا منقطع رابطہ بھی بحال کیا جائے۔ اجلاس میں چترال کے اندر تعمیراتی منصوبوں میں کام کے خراب معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اورحکومت سے مطالبہ کیا کہ پہلے سے کیے گئے کاموں کی انکوائریاں کرواکر ذمے داروں کو سزا دے اور آئیندہ کے لیے کاموں کے معیار کو یقینی بنائے۔ اجلاس میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ گزشتہ سالوں کے دوراں چترال میں سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں پر پیش رفت اور ان کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز کی تفصیلات عوام کو فراہم کرے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان مطالبات کو حکومت تک پہنچانے اور انہیں منظور کروانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی طریقے اختیار کیے جائیں گے۔ حکومت مذکورہ معاملات پر پیش رفت کو جلد از جلد یقینی بنائے۔ ایک مہینے کے اندر اس سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اس فورم کا اجلاس دوبارہ بلا کر آئیندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اجلاس میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چترال کے لوگ اپنی شاندار رویات کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے ملک میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ آخر میں تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائیٹی کے اداروں اور مذہبی علماء کے تعاؤن کے لیے شکریہ اد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ وہ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى