تازہ ترین

وزیراعظم کے مشیر برائے کلائمیٹ چینج کو جنگلات سے کٹائی شدہ سوختنی لکڑی کے اسٹاک کا مشاہدہ کرنا چاہیئے۔کہ چترال کے جنگلات ایند ھن کیلئے کس طرح تباہ ہو رہے ہیں۔

چترال (محکم الدین) چترال کے عوامی حلقوں نے گلوف ٹو پراجیکٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے۔ کہ اس پراجیکٹ ٹو کا انعقاد علاقے کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تاہم یہ پراجیکٹ اس وقت اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ جب چترال کی نوے فیصد آبادی جو قدرتی جنگلات کاٹ کر ایندھن کی ضرورت پوری کرتی ہے۔ کو متبادل ایندھن سبسڈائزڈ قیمت پر فراہم کیا جائے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول اور شجر کاری کو پہلی ترجیح قرار دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے عمل کو کم کرنے اور گلیشئر زکے پگھلاو میں کمی لانے کیلئے 6 ارب روپے کا فنڈ چوبیس وادیوں پر خرچ کیا جائے گا۔ جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن یو این ڈی پی کی زیر نگرانی گولین اور بندوگول گہکیرکے گلوف پائلٹ پراجیکٹ کے تجربات کچھ اچھے نہیں رہے ہیں۔ اس لئے اس بار ان کمزوریوں پر نگاہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے دونوں اضلاع میں روزانہ ہزاروں ٹن لکڑی چولہا جلانے اور تاپنے کیلئے قدرتی جنگلات کے نایاب درخت شاہ بلوط اور دیودار سے حاصل کی جاتی ہے۔ ا س لئے جب تک ان قدرتی جنگلات کو جو پہاڑوں پر کھڑے ہو کر بادلوں کو بارش برسانے اور ماحولیاتی حدت کم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ حفاظت نہیں کی جاتی۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو کم کیا جاسکتا ہے اور نہ سیلاب سے چترال کو بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے کلائمیٹ چینج کو چترال شہر میں قدرتی جنگلات سے کٹائی شدہ سوختنی لکڑی کے اسٹاک کا خود مشاہدہ کرنا چاہیئے تھا۔ جس کے بعد ان پر حقیقت واضح ہو جاتی۔ کہ چترال کے جنگلات ایند ھن کیلئے کس طرح تباہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ مشیر وزیر اعظم نے خود کہا ہے۔ کہ چترال میں خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے۔ کہ چترال کے قدرتی جنگلات پر شدید دباو ہے۔ جو چترال کے دونوں اضلاع کی نوے فیصد آبادی کی ایندھن اور عمارتوں کی تعمیرکی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جنگلات دن بدن سنگلاخ چٹانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ نتیجتا عالمی اور مقامی ماحولیاتی حدت کا اثر موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن کر گلیشیئرز کے پگھلاو کا موجب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ یو این ڈی پی کے گلوف پراجیکٹ کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں تب کمی لا سکتا ہے۔ جب چترال کو متبادل ایندھن کے طور پر سبسڈائزڈ ریٹ پر گیس کی فراہمی کو ممکن بنائے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق