تازہ ترینشجاعت علی بہادر

خالد بن ولی کی یاد میں…تحریر: شجاعت علی بہادر

ماہ ستمبر اور اکتوبر سے اپنی کچھ تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ 12 ستمبر 2002 کو پیارے بھائی احمد اکبر اچانک وفات پاگئے۔ اور جوان بیٹے کی جدائی کے غم میں صدر تَت (رحمت اکبر رحمت) 14 اکتوبر 2002 کو دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ محض ایک مہینے کے اندر خاندان کے دو قریبی عزیزوں کا ایسے بچھڑنا ہمارے لیے بہت بڑا امتحان تھا۔


جولائی 2003 میں گرمی کی چٹھیاں گزارنے گلگت سے گھر آیا۔ پھر بڑی بہن سے ملنے چترال (ٹاون) چلا گیا۔ ان دنوں انٹرنیٹ، فیس بک اور موبائل کا رواج نہیں تھا۔ سی ڈی، اور ڈی وی ڈی کا زمانہ تھا۔ علیک سلیک کے کچھ ہی دیر بعد میری بہن نے پوچھا کہ آپ نے ”صدر تت” کی ویڈیو دیکھی ہے؟ جو کہ میں نے نہیں دیکھا تھا۔

بہن نے بتا دیاکہ وکیل برار (عبدلوالی ایڈوکیٹ) نے سی ڈی بھیجا ہے۔ ہم نے سی ڈی لگادی۔ وہ خالد بن ولی کی کتاب ”ہردیان اشٹوک” کی رونمائی کی تقریب تھی۔ اور تقریب کی صدارت، صدر تت رحمت اکبر رحمت کررہے تھے، جو کہ کسی تقریب میں ان آخری شرکت تھی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے خالد بن ولی کو محمد بن قاسم سے تشبیہ دی تھی کہ بن قاسم نے19 سال کی عمر میں دبیل فتح کیا۔ اور بن ولی 19 سال کی عمر میں دیوان لکھ کر دلوں کو فتح کیا۔ اس ویڈیو میں ایک خوبصورت نوجواں کیمرے کی مرکز نگاہ تھا۔ میری بہن نے بتا دی کہ یہی خالد بن ولی ہیں۔ اس طرح خالد سے پہلی شناسائی ہوئی۔

ہردیاں اشٹوک کے منظر عام میں آنے کے بعد خالد کو بہت شہرت ملی۔ پھر منصور علی شباب نے اپنے شیرین آواز میں ان کی غزلیں گاکر اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔

جب میں نے گریجویشن کیلیے پشاور میں داخلہ لیا، تب خالد پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی کررہے تھے۔ اگرچہ ایک دو بار ان سے ملاقات ہوئی، مگر یہ واجبی سلام دعا کی حد تک رہی۔ پھر انجمن ترقی کھوار (پشاور) نے پشاور میں کھوار مشاعرے کا اہتمام کیا۔ موقع کو غنیمت جان کر میں بھی ایک ناپختہ کلام لیکر شریک ہوا۔ میرے کلام سنانے پر خالد بھائی نے جس پرتپاک انداز میں اس نووارد کی حوصلہ آفزائی کی۔ اس نے واجبی تعلق کو دوستی میں بدل دیا۔ پھر یہ سلسلہ خاندانی تعلقات میں ڈھل گئے۔

خالد مجھے ”بہادر” کہہ کر پکارتے۔ ایک دفعہ پشاور یونیورسٹی کے گیٹ نمبر1 کے سامنے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگا چھوٹی بہن کے لئے جوتے خریدا تھا۔ اب پتہ چلا ایک چھوٹی ہے،دوسری بڑی۔ تبدیل کرنے صدر جانا ہے۔ میرے ساتھ چلیں۔ شدید گرمی کے دن تھے، مگر خالد کو انکار نہیں کرسکا۔ صدر جاکر جوتے تبدیل کیے۔ مجھے بھوک لگی تھی۔ خالد نے کھانے کا پوچھا نہیں، اور میں نے بتایا نہیں۔ بھوکے واپس آگئے۔

ہفتے بعد اپنی بھانجی سے ملنے ایگریکلچر یونیورسٹی ہاسٹل چلا گیا۔ اُدھر خالد کی بہن سے بھی ملاقات ہوئی جو میری بھانجی کی کلاس فیلو اور دوست ہیں۔ میں نے خالد کی شکایت لگائی کہ آپ کے کنجوس بھائی نے پورا صدر گھمایا مگر کھلایا پلایا کچھ نہیں۔ اگلے دن خالد دور سے ہی آواز لگائی۔۔بہادر۔۔آپ کی شکایت موصول ہوئی ہے مجھے۔
آو کھانا کھاتے ہیں۔ ” ہانون بہتو ساری تیل نیسیرن ” تو بھی کیا یاد رکھے گا کہ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔

پشاور میں طالبعلمی کے دنوں میں خالد چترال اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے سرگرم رکن تھے۔ ایل ایل بی فائنل ائیر میں اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف میرے چچا زاد بھائی شیراز الدین بھی میدان میں کود پڑے۔ اپنے انتخابی مہم میں خالد یونیورسٹی میں ہم سے ملا۔ اور شیراز سے کہنے لگا، بہادر آپ کے لئے مہم چلا رہا ہے۔ مگر ووٹ مجھے دے گا۔ ”ہش نا لا بہادر”؟

انتخابی مہم جاری تھا کہ خالد بھائی کو حیات آباد سے اغوا کرلیا گیا۔ ہم سب دھنگ رہ گئے۔ ان کے موبائل پر کال ملانے کی کوشش کی، مگر نمبر بند تھا۔ پھر ہم ان کی بازیابی کے لئے مسلسل احتجاج کرتے رہے۔ حیات شیرپاو کی برسی کے موقع پر ایڈوکیٹ عبدوالولی صاحب بھی موجود تھے۔ ہم نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

غالباً ایک مہینہ بعد خالد بازیاب ہوئے۔ ہم یونیورسٹی کے دوست، بشمول ڈاکٹر ارشد جعفر، شیراز الدین، ڈاکٹر فیاض رومی، رضوان رومی اور کمال مجتبیٰ (سول جج) وغیرہ ان سے ملنے حیات آباد گئے۔ باقی سب ٹھیک تھا مگر خالد کی خوبصورت مونچھیں نہیں تھیں۔
اس بابت توجہ دلانے پر کہنے لگا، بند کمرے میں اور کچھ کرنے کو نہیں ملتا تو مونچھوں کو تختہ مشق بنا لیتا، اور اکھاڑ لیتا تھا۔

خالد ایک بار ہمارے گھر ”گوچ دور چپاڑی” عزیز نواز لال کے ہاں تشریف لائے۔ عزیز نواز لال کے بیٹے عالمزیب نے مجھے خبر دی کہ آپ کے دوست آئے ہوئے ہیں۔ جاکر دیکھا خالد چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے، اور ٹانگ پر پلستر چھڑھایا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی کہنے لگا۔ بہادر، تم بہت بے وفا آدمی ہو۔ گھوڑے سے گر کر یہ حالت ہوئی ہے۔ آپ نے پوچھا تک نہیں، تو میں خود آگیا ہوں۔

2018 کے انتخابات میں، میں پی ایم ایل این کو سپورٹ کررہا تھا۔ انتخابی مہم میں شہزادہ افتخار الدین اور ایڈوکیٹ عبدالولی صاحب کیساتھ یارخون تک گئے تھے۔ اس سلسلے میں روزانہ خالد بھائی سے فون پہ بات ہوتی، اور میں اسے روزانہ کے احوال سناتا۔ ایک دن کہنے لگا۔۔بہادر، میرے والد پرخلوص اور محنتی آدمی ہیں۔ ان کو ایک بار موقع ملنا چاہیے۔ الیکشن کے بعد غالباً 18 آگست کو ان سے ملاقات ہوئی۔ یہ ان سے آخری ملاقات تھی۔ 20 اکتوبر کو دفتر سے واپسی پر سوگیا تھا۔ جاگ کر فیس بک کھولا تو، اک حشر برپا تھا۔ چترال خالد کے غم میں ڈوبا ہوا تھا۔

خالد بن ولی چترال کا سرمایہ تھے۔ پروردگار نے آپ کو سیرت، صورت، زہانت اور شرافت سے نواز رکھا تھا۔ آپ نے کم عمری میں ہی ایک شاعر اور پولو کھلاڑی کی حیثیت سے نام کمایا۔ پھر پی ایم ایس افیسر، سول جج اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کی حیثیت سے اپنی ذہانت اور قابلیت کا لوہا منوایا۔ مگر ان سب سے بڑھ کر آپ ایک انسان دوست اور محبت کرنے والا انسان تھے۔ یاروں کا یار تھے۔ اگر جنازے میں لوگوں کی شرکت محبت کا پیمانہ ٹھہرے، تو خالد چترال کا محبوب تریں بیٹا تھا کہ ان کے جنازہ میں پورا چترال امڈ آیا تھا۔ پروردگار ان پر اپنی خاص رحمتیں نازل کرے، اور انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ اور ان کے خاندان والوں، اور چاہنے والوں کو صبر اور ہمت عطا کرے۔ آمیں

آج خالد کی دوسری برسی ہے۔ میں ان کے میسجز پڑھ رہا ہوں۔ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ سو انہی کے الفاظ کا سہارا ہے۔

ای بس جو بس بیرائے نغمہ سرائی،
ہتے سُم عُمرا پَت درونگار جدائی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق