تازہ ترین

ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخواکی طرف سے سوات میں پشاورکے صحافیوں کے لئے تربیتی ورکشاپ

سوات(چترال ایکسپریس)ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا کے کوآرڈینیٹرعبدالباسط نے کہا ہے کہ معاشرہ میں بیماریوں کے خاتمہ کے لئے شعورو آگاہی میں صحافیوں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کو عمر بھرکی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لئے صحافی عوام کو پولیو ویکسینیشن کی اہمیت اورافادیت سے آگاہ کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاورکے صحافیوں کے لئے تربیتی ورکشاپ کے دوران کیا اس موقع پرایمرجنسی آپریشن سنٹرخیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹرعبدالباسط نے ضلعی انتظامیہ، ڈی ایچ اوسوات،صوبائی محکمہ صحت، ای پی آئی کے اعلیٰ حکام، عالمی ادارہ اطفال (یونیسیف)،ڈبلیو ایچ او اور دیگر معاون اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی انہوں نے انسداد پولیو کی کاوشوں کے حوالے سے اظہار خیال کیاجبکہ معروف صحافی محمد ریاض نے پولیو کے خاتمہ میں میڈیا کے کردار پرتفصیلی پریزنٹیشن پیش کیا مقررین نے کہا کہ دنیا بھرسے پولیو کا خاتمہ کیا جاچکاہے تاہم بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان دوممالک میں شامل ہے جس سے ایک جانب معصوم بچے عمربھرکی معذوری سے دوچارہورہے ہیں تو دوسری جانب عالمی برادری میں بدنامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پولیوکے خاتمہ کے لئے قومی ایمرجنسی کا نفاذکرکے وفاقی اورصوبائی سطح پر تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کاوشوں کے نتیجہ میں پولیو کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی جاچکی ہیں تاہم ہمارا ہدف پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہے مقررین نے کہا کہ پولیو ویکسین ہرلحاظ سے،محفوظ اور موثر ہے اور اسی ویکسین کے استعمال سے اسلامی ممالک سمیت دنیا بھر سے پولیو کا کامیابی سے خاتمہ کیا جاچکا ہے یہ امرخوش آئند ہے کہ ہمارے ہاں پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے گمراہ کن پراپیگنڈا میڈیا کے فعال تعاون سے زائل ہوچکا ہے تاہم ایک صحت مند اورتوانا مستقبل کے لئے پاکستان سے پولیو کامکمل خاتمہ ناگزیر ہے جس کے لئے معاشرہ کے تمام طبقات بالخصوص والدین میں یہ شعور و آگاہی اجاگر کرنے میں ذرائع ابلاغ کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ انسدادپولیو کی ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاکر پولیو وائرس کی مکمل بیخ کنی کریں ورکشاپ کے آخر میں شرکاء میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى