تازہ ترینناصر علی

نرس, نرسنگ کی تاریخ اور نوجوانان…تحریر:ناصرعلی شاہ

معاشرے کی فلاح و بہبود اورمریضوں کی دیکھ بھال میں ایک نرس کے کردارسے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی. درحقیقت نرسنگ ایک مقدس پیشہ ہی نہیں بلکہ عبادت ہے کیونکہ اس پیشے میں دکھی, بیمار,مجبور اورتکلیف زادہ انسانیت کی خدمت کی جاتی ہے.
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیان

Advertisements

ایک پروفیشنل کی حلیم گفتاری, دست شفقت اور حقیقی جذبہ خدمت سے تکلیف ذادہ مریض کو آرام اور صحت یابی کی امید ملتی ہے جو نرسنگ پروفیش کو تمام پیشے سے ممتاز کرتی ہے یہ بات عیاں ہے کہ نرسز دکھی انسانیت کے دکھ کم کرنے کا بوجھ اٹھانے کی زمہ داری قبول کر چکے ہیں اس کا اندازہ ادھی رات کو ڈیوٹی پر معمور نرس کی خدمات سے لگا سکتے ہیں درد و تکلیف سے کراہتے ہوئے جب ہسپتال پہنچ جاتے ہیں تو شفقت و مہربانی سے درد دور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوتے ہیں.
نرسنگ ایک تاریخ ہے کیونکہ اس پیشے کو ہمارے پیارے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حد درجہ اہمیت دی آپ نے عالم اسلام کی پہلی خاتون نرس بی بی رفیدہ بنت کعب جنہوں نے نرسنگ کا ہنر اپنے والد (جو ایک طبیب تھا) سے سیکھی تھی کو بھرپور طریقے سے مریضوں کی دیکھ بھال کا حکم صادر فرمایا. آپ مختلف جنگوں میں نبی کریم صلہ علیہ وسلم کیساتھ شریک رہی اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی رہی, غزوہ احزاب میں حضرت سعد بن معاز رض شدید زخمی ہوگئے تو آپ کی انتھک خدمت و علاج سے اللہ نے ان کو شفا بخشی. بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صحابیات کو ٹرینگ دی نیز آپ کی اجازت سے بی بی رفیدہ نے مسجد نبوی کے اندر خیمہ لگا کر علاج بھی کیا کرتی تھی. حضرت ابوبکر کی صاحبزادی حضرت اسما بھی علاج و معالج میں مشہور تھی.
افسوس کے ساتھ نرسنگ کا پیشہ تنگ نظری کی وجہ سے زوال پزیر رہی اور انگریزوں نے یہ پیشہ ہم سے چھین لیا اور اب لمحدود ترقی کر چکے ہیں. 1860 میں فلورنس نائٹ اینگل نے جدید نرسنگ کی بنیاد رکھی اور جدید نرسنگ کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی نے پاکستان میں متعارف کروایا اور دکھی انسانیت کی جذبہ خدمت کو ابھار کر پورے پاکستان میں پھیلا دیا اور آج اللہ کے فضل و کرم سے نرسنگ کا پیشہ اپنی خدمات کی وجہ سے سبقت لے چکا ہے اور آنے والے کچھ سالوں میں یہ پیشہ عظیم تر ہوگا.
پورے پاکستان میں چترال سے تعلق رکھنے والے عظیم نرسز خدمت پر معمور ہیں اپنی ڈیوٹیاں بہترین انداز میں نبھانے کے ساتھ ساتھ چترال سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی خدمت و مدد بھی کرتے ہیں اگر کوئی غریب مریض اجائے تو آپس میں چندہ کشی کرکے ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے.
ان تمام کے باوجود بے کار بیٹھے عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے فتوی لگانے کا سلسلہ جاری ہے اگر ان کے ماں, بہن, بیٹی کا علاج اس دور میں بھی اگر مرد کئے ہوتے کیا قبول کر پاتے ؟ ہر گز نہیں. اس پیشے سے تعلق رکھنے والے قابل عزت مرد و خواتین نوجوانوں کی نازیبا الفاظ کے باوجود دکھی انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے غریب ماں باپ اور بچوں کے سہارا بننا قابل تحسین ہے اب بھی وقت ہے اپنے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کو اس عظیم پیشے کیساتھ منسلک کرکے ان کو دنیا و آخرت میں فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے تاکہ دنیوی لحاظ سے عزت کی نوکری اور اخرت میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کا سنہرا موقع ان کو مل سکے..
فیصلہ آپ کا مرضی آپ کی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى