تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کا دورہ باجوڑ، عمائدین کے جرگہ سے خطاب خار سب جیل کی عمارت کا سنگ بنیاد، 132 کے وی گرڈسٹیشن کا افتتاح بھی کیا

باجوڑ(چترال ایکسپریس)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو بے روزگار لوگوں کا ٹولہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں نے اس ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے، عمران خان نے ان کی کرپشن پہ ہاتھ ڈالا ہے اسلئے یہ لوگ اپنی کرپشن بچانے کیلئے پی ڈیم اے کے نام پر اکھٹے ہوئے گئے ہیں لیکن یہ لوگ یاد رکھیں کہ عمران خان ان لوگوں کا کڑا احتساب کریں گے، ملک کی لوٹی ہو ئی دولت ان سے واپس لے لیں گے اور انہیں کبھی این آرو نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عوام نے ان لوگوں کو مستر د کر دیا ہے اور یہ مسترد شدہ عناصر اپنی ذاتی اور سیاسی مقاصد کیلئے ایک تماشا لگایا ہو ا ہے، یہ اپنی سیاست چمکانے کیلئے ملکی اداروں کے خلاف بے بنیاد باتیں کر رہے ہیں اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے موثر حکمت عملی کے ذریعے مفاد پرست سیاستدانوں کی تباہ کردہ معیشت کو صحیح سمت پر ڈال دیا ہے اور ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی موثر حکمت عملی اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہم کورونا کی وبائپر قابوپانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس وقت عمران خان ہی واحد لیڈر ہیں جو اس ملک کو صحیح سمت میں لیڈ کر سکتے ہیں۔ وہ جمعہ کے روز ضم شدہ ضلع باجوڑ کے ہیڈ کوارٹر خار میں قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ بعض لوگ اسلام کے نام پر سیاست چمکا رہے ہیں تو بعض لوگ پختونوں کے حقوق کے نام پر اپنی سیاست کی ڈبوتی کشتی کو سہارا دینے کی کوشش کر رہے ہیں، پختونوں کے نام نہاد لیڈروں نے پانچ سال اس صوبے پر حکومت کی لیکن اُنہوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے موثر قانون سازی کی ہے اور ان کی معیشت اب استحکام کی طرف گامزن ہے۔ضم اضلا ع کے حوالے سے موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور ترقیاتی حکمت عملی کا ذکرکرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ گذشتہ دور حکومت میں تمام پارٹیوں نے ضم شدہ اضلاع کو این ایف سی کا تین فیصد دینے کا وعدہ کیا تھا مگر موجودہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے علاوہ کسی نے بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ محمود خان نے کہاکہ قبائلی علاقے اب صوبے کا حصہ بن گئے ہیں اب یہاں پر صوبائی اور وفاقی قوانین کا پورا اطلاق ہوگا۔قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے قبائلی عوام کو ہر ممکن سہولت اور رعایت دیں گے، وزیر اعلی نے واضح کیا کہ قبائلی عوام کو درپیش مشکلات کو بھر پور ادراک ہے ان کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔قبائلی اضلاع کو ٹیکسوں میں مزید پانج سال رعایت دینے کے لئے وزیر اعظم کے ساتھ معاملہ اُٹھا یا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں بارڈر مارکیٹس کے قیام کے لئے کوششیں جاری ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع میں معدنیات کے شعبے کو فروغ دے کر لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں، قبائلی عوام کے جرگہ سسٹم کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ علاقے میں پائی جانی والی معدنیات پر مقامی لوگوں کا حق تسلیم کرنے کے لئے قانون سازی کی گئی ہے،اس قانون کے تحت باہر سے کوئی بھی یہاں کی معدنیات کا لیز نہیں لے سکتا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ضم شدہ اضلاع میں سرکاری استعمال کے لئے زمین کی خریداری کے لئے بھی قانون سازی کر لی گئی ہے،قانون کے تحت سرکاری مقاصد کے لئے زمین کی خریداری باہمی مشاورت سے ہوگی، انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اب قبائلی اضلاع میں بچوں کے ہاتھ میں بندوق کی جائے قلم کتاب ہونگی، ضم شدہ اضلاع میں موجودہ تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سیکنڈ شفٹ شروع کی جائے گی۔ ضم شدہ اضلاع میں صحت، تعلیم، بجلی اور روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری پر کام ہو رہا ہے،انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع کے سرکاری ملازمتوں میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے گی اور قبائلی اضلاع کے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا جائے گا۔محمود خان نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں سیاحتی مقامات کو فروغ دیا جائے گا اور ان اضلاع میں پریس کلبوں کے نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی،باجوڑ میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ باجوڑ کو سوات موٹروے وے تک آسان رسائی دینے کے لئے برانگ ٹنل کی فیزیبلٹی پر کام جاری ہے،باجوڑ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو کٹیگری اے میں اپگریڈ کرنے کا نوٹیفکیشن جلد جاری کر دیا جائے گا،باجوڑ کے باقی ماندہ شہید خاصہ داروں کوشہدائپیکج میں شامل کیا جائے گا۔ شعبہ اعلیٰ تعلیم جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے محمود خان نے کہاکہ قبائلی اضلاع کے لئے پندرہ ڈگری کالجز کا منصوبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جہاں جہاں ضرورت ہوگی وہاں پر ڈگری کالجز قائم کئے جائیں گے، انہوں نے واضح کیا کہ فیزیبل ہونے کی صورت میں باجوڑ میں میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ باجوڑ میں ایک اور سب ڈویژن کے قیام کیلئے بورڈ آف ریونیوسے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ جرگے سے صوبائی وزیر انور زیب، باجوڑ سے منتخب اراکین قومی اسمبلی انجینئر اجمل خان، گل داد خان اور سینیٹر ہدایت اللہ کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے نو قائم شدہ 132 کے وی خار گرڈ سٹیشن کا افتتاح کیا اور سب جیل خار کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى