تازہ ترین

پولیو کا خاتمہ ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لئے ناگزیر ہے،گورنرخیبر پختونخواہ شاہ فرمان

پشاور(چترال ایکسپریس) صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان نے کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لئے ناگزیر ہے جس کے لئے تمام تر توانائیاں اور وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسدادپولیو کے عالمی دن کے سلسلے میں پاک افغان سرحد طورخم پر پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کے مابین پاک افغان سرحد طورخم پر زیرو پوائنٹ پر انسداد پولیو کی منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کے مہمانان خصوصی پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر شاہ فرمان اورافغانستان کے سرحدی صوبہ ننگرہار کے گورنر ضیاء الحق امیرخیل تھے جبکہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر محمود اسلم وزیر سمیت دونوں اطراف سے اعلیٰ حکومتی حکام اور قبائلی عمائدین اور مشران نے اس تقریب میں شرکت کی۔
پاک افغان خطہ میں پولیو کی عفریت کے مقابلہ کے لئے زیرو پوائنٹ پر منعقد ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی اور غیرمعمولی تقریب تھا، صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط نے اپنے علاقہ میں انسداد پولیو کی حالیہ کاوشوں اور مہمات پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔ عبدالباسط نے اس تقریب کو انسداد پولیو کے لئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں سے آنے والے دنوں میں انسداد پولیو مہمات زیادہ مربوط اور موثر ہوں گی۔
گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان نے قبائلی عمائدین سے کہا کہ پولیو کے خاتمہ کی کاوشوں کا کسی بیرونی ملک یا ایجنڈے سے تعلق نہیں بلکہ یہ ہمارے اپنے بچوں کی زندگیوں کا سوال ہے ہم اپنے بچوں کو حالات اور پولیو کے رحم و کرم پر چھوڑ کر انہیں عمر بھر کی معذوری کا دکھ نہیں دے سکتے، انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کا یہاں جمع ہونا دنیا بھر کے لئے یہ واضح اور دوٹوک پیغام ہے کہ ہم دنیا کے اس آخری خطہ سے بھی پولیو کے مکمل خاتمہ کے لئے پوری طرح متحد اور پرعزم ہے یہ نہ صرف ہمارے اپنے بچوں بلکہ دنیا بھر کے بچوں کی زندگیوں اور صحت کے لئے ضروری ہے۔
تقریب سے اپنے خطاب میں افغانستان کے مشرقی سرحدی صوبہ ننگرہار کے گورنر ضیاء الحق امیرخیل نے کہا کہ بدقسمتی سے اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت جب دنیا بھر کے ممالک اپنے ہاں سے پولیو کا کامیابی سے قلع قمع کرچکے پیں پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی یہ وائرس موجود ہے اور اس کے نتیجہ میں عالمی سطح پر ہمارا وقار مجروح ہوتا ہے جس میں بیرونی ممالک کے ائرپورٹس پر ہمارے باشندوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسکے مختلف سفری بندشوں کے بھی خدشات ہوتے ہیں، گورنر امیرخیل نے کہا کہ اگر دنیا کے دیگر ممالک اپنے ہاں سے اس بیماری کا کامیابی سے مکمل صفایا کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کرسکتے، انہوں نے کہا کہ پولیو کاخاتمہ دونوں ممالک کا مشترکہ مشن ہے اور آج کی اس غیرمعمولی تقریب میں ہم یہ عزم کرتے ہیں پولیو کے خاتمہ کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل بروئے کار لائیں گے۔
پاک افغان سرحد طورخم پر زیرو پوائنٹ پر منعقدہ یہ تقریب ہر لحاظ سے اہم اور غیرمعمولی تھی جس میں دونوں ممالک نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جس کی منزل دونوں ممالک سے پولیو کا مکمل خاتمہ اور پولیو وائرس کی ٹرانسمشن کا مکمل صفایا ہے، دونوں ممالک کے ان رہنماؤں نے پولیو کے خاتمہ کے لئے تعاون اور رابطوں میں اضافے کی نئی راہیں ڈھونڈنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
اس وقت جب دنیا بھر کے تمام ممالک اپنے ہاں سے پولیو کا کامیابی سے خاتمہ کرچکے ہیں پاکستان اور افغانستان ایسے دو ممالک ہیں جہاں اب بھی نہ صرف ہر سال درجنوں بچے پولیو وائرس کا شکار ہوکر عمر بھر کی معذوری سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ اس خطہ سے پولیو وائرس کی دنیا بھر میں منتقلی کے خدشات اور خطرات کے پیش نظر یہ ممالک سفری پابندیوں کی زد میں بھی آسکتے ہیں۔ اس سے قبل دونوں گورنرز نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاکر انسداد پولیو کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
انسداد پولیو کے لئے ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق پولیو سے بچاؤ کی ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ اور موثر ہے اسی ویکسین کے استعمال سے دنیا کے تمام ممالک نے اپنے ہاں سے پولیو کا کامیابی سے خاتمہ کیا جبکہ پاکستان میں سال رواں کے دوران اب تک پولیو کے 79 کیس سامنے آئے ہیں اور سرحد پار افغانستان میں اس سال 53 بچے پولیو کے ہاتھوں عمر بھر کی معذوری سے دوچار ہوچکے ہیں.

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى