تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…کاش میں بیٹا ہوتا!…محمد جاوید حیات

لازم ہے انسان پر عمر کے مختلف دور گزرتے ہیں ان میں سے دو دور اہم ہوتے ہیں ایک بیٹا ہونے کا دور پھر باپ ہونے کا دور ۔۔۔آج کوئ بیٹا ہے تو کل باپ ہے ۔۔میں بھی کل بیٹا تھا آج باپ ہوں لیکن لگتا ہے کہ میں بیٹا ہونے کا وہ خوش گوار تجربہ محسوس تک نہیں کیا جب میں بیٹا تھا ۔میں ابھی پاوں پاوں چلنے گا تھا ابو کی خواہش ہوتی کہ میں چل کر اس کو دیکھاوں مگر میں منہ بنا کر انکار کرتا ۔وہ چمکارتا بلایں لیتا گزارش کرتا کہ میں چل کر اس کو دیکھاوں مگر میں مسلسل انکاری ہوتا ابو کا دل ٹوٹ جاتا ۔۔وہ بازار سے کپڑے ،جوتے ،کھیلونے اور ٹافیاں لاتے میں ضد کرتا کہ سایکل لاو وہ ہزاروں بہانے بناتا اس کو ایک ڈر میرے گرنے اور زخمی ہونے کا شاید ہوتا اور دوسرا اس کے پاس سایکل خریدنے کے پیسے نہ ہوتے مجھے کیا پتہ تھا کہ مجبوری کیا ہوتی ہے ۔میں روز ابو سے پیسے مانگتا ابو امی کی طرف دیکھتا امی سر جھکاتی مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ابو کی جیب خالی ہے ۔۔سکول میں داخل ہوا تو فرمایشیں اور بڑھیں ۔ میرا اور زیادہ خیال کیا جانے لگا ۔۔میرے کپڑے میراجیب خرچ میری وردی میرے جوتے میری کتابیں کاپیاں قلم پنسل ۔۔میں جوتے روز گندہ کرکے آتا ان جوتوں سے فٹبال کھیلتا یونیفارم گندہ کرتا ۔۔کتابیں پھاڑتا کاپیاں چاک کرکے پھینگ دیتا ۔۔ابو خریدتے لیکن کیسے خریدتے مجھے کیا پتہ تھا ۔۔پھر میرے سکول کے فیس بھرنے کادور آیا ۔ابو کی قلیل تنخواہ آتی تو امی ابو کوئ مشاورت کرتے پہلے میری فیس بھرتے ۔خود کیسے گزارا کرتے گھر کیسے چلاتے مجھے کیا پتہ ہوتا ۔پھر میں نے سمارٹ فون کا مطالبہ کیا ۔۔ابو نے خرید کے دیا ابو کے nokia کی سیٹ بہت پرانی ہوگئ تھی وہ اس کی تعریفیں کرتے تھکتے نہ تھے وہ کہتے کہ میں سمارٹ فون استعمال کرنا جانتا ہی نہیں مجھے اس کی اناڑی پن پہ غصہ آتا مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میری دلجوئ کے لیے ایسا کر رہا ہے خود خرید نہیں سکتا ہے ۔۔پھر میری فرمایش اور گزارش “حکم” بن گیے ۔۔مجھے اپنی پڑھائ کی کوئ پرواہ نہ ہوتی ۔۔وہ کڑھتا پریشان ہوتا دعایں کرتا توقعات کے پل باندھتا لیکن میں بے خبر سا تھا ۔میں منہ بناتا ۔بات کرنے سے متلاتا کتراتا اکثر خاموش رہتا ۔۔ایک ہاتھ میں سمارٹ فون دوسرے ہاتھ میں چپاتی کاٹکڑا میں ناشتہ کر رہا ہوتا یا سمارٹ فون میں مگن رہتا یہ مجھے احساس تک نہ ہوتا ۔۔۔ ایک دن میں نے ماں سے کہا ۔”اپنے شوہر سے کہو کہ میرے لیےموٹر بایک خریدے “۔ماں نے کہا کہ بیٹے کے لیے بایک اگر خریدیں تو گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی ہونگے ۔۔۔اب گھر کے کام کیا ہوتے میں بہت لاپرواہی سے بایک چلانے لگا تھا ایک طرف یہ روگ کہ میرا اکسیڈنٹ ہو جاے گا دوسرا تیل وغیرہ کا اضافی خرچہ ۔۔۔پھر میری بےروزگاری کا غم میری شادی کا غم ۔۔۔میرے ابو کی ہڈیاں گھل گیں ۔ اور اس بے وفا دنیا میں اپنے حصے کی عمر گزار کر چلے گیے ۔اب سوچتا یوں کہ بیٹا ہونا کتنا اسان اور باپ ہونا کتنی مشکل ہے ۔۔سوچتا ہوں کاش پھر سے بیٹا بن جاوں ۔ماں کی گود سے نہ اتروں ۔۔ہاتھ کپڑے گندے نہ کروں ۔۔ابو کا ہاتھ پکڑ کر پاوں پاوں چلوں اس کو دیکھ دیکھ کر مسکراوں کھل کھلا کے ہنسوں۔ جب تک ابو تھک نہ جاے میں چلتا رہوں اس لیے کہ اس کی خواہش ہے ۔میں سکول جانے لگا ہوں ۔۔سویرے اٹھوں منہ ہاتھ خود دھو لوں ۔۔کپڑے خود پہنوں ۔۔ناشتے میں انڈے نہ کھاوں کیونکہ مہنگائ ہے ابو پر بوجھ ہوگا ۔۔سایکل کی فرمایش نہ کروں ضروری نہیں کہیں گر جاوں تو ٹانگ ٹوٹے گی ۔۔جیب خرچ بچاوں ۔مہینے میں ڈھیر سارے پیسے ہونگے ۔۔کلاس میں اول آکر انعام حاصل کروں گا ابو کاسر فخر سے بلند ہوگا ۔۔گھر آکر ماں باپ کا ہاتھ بٹاوں گا ۔مہمان آگیے سارے کام میں دوڑ دوڑ کر کروںگا ۔۔۔کالج پہنچوں گا تو ابو کے کہنے کے باوجود سمارٹ فون کی فرماہش نہیں کرونگا ۔۔ابو خود خرید کر دےگا اس لیے کہ دور ایسا ہے ساراعلم سمارٹ فون میں آگیا ہے ۔۔میرے ابو کے خواب ہونگے میں ان کی تعبیر بن جاونگا ۔وہ مجھے دیکھ کر مسکرا اٹھے گا ۔۔ماں مجھے دیکھ کر سراپا دعا بن جاے گی ۔محلے میں میری شرافت کی مثالیں دی جاینگی ۔بچے بوڑھے مجھے دیکھ کر خوش ہونگے ۔۔۔میں بے سہاروں کا مونس و غمخوار بن جاونگا ۔۔پھر خوب پڑھ کر بڑا ادمی بن جاوں ۔۔۔اچھا بنوں یا نہ بنوں اچھا بیٹا بن ضرور دیکھاونگا ۔۔۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق