Pro: Navid Iqbalتازہ ترین

اسامہ احمد وڑائچ شہید : ایک عہد کا پورا نام(پہلی قسط )…تحریر: پروفیسر نوید اقبال (گورنمنٹ کالج چترال )

ڈپٹی کمشنر ہاؤس چترال کے وسیع اور خوشنما لان میں اکیلے پھیرنے یہ شخص نوجوان ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ ہے – جو تقریباً ڈھیڑ سال سے چترال میں تعینات ہے – چھ دسمبر کی رات کو وہ ڈی سی ہاؤس کے لان میں ٹہل رہا ہے – ایک عجیب سا بوجھ ان کے ذہن پر طاری ہے -دل میں کچھ سی محسوس ہو رہی ہے -وہ دور پہاڑوں کی اُس پار آسمان میں کچھ دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے -شاید ٹھنڈ لگ گئ ہے – تبھی دل بے چین اور طبیعت اداس ہے – وادئ چترال کی روشنیان اسے دھندلی سی محسوس ہو رہی ہیں – یہ وادی اور اس وادی کے لوگوں کی محبت اور چاہت ان کے دل میں ہمہ تن موجود ہے – نوجوان ڈپٹی کمشنر سوچا! کل گھر جارہا ہوں اس وجہ سے شاید دل اداس ہے -ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئ -شاید مجھے اس وادی سے محبت ہو گئ ہے – اس وادی کے سحر انگیز حسن شاید مجھے اپنے عشق میں گرفتار کی ہے – یہاں کے لوگوں کے بغیر میرے لیے شاید ایک دن بھی رہنا مشکل ہے – یہ سوچتے سوچتے گھر کے اندر چلا گیا -دل اکتا سا رہا تھا – آج کچھ بھی کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا -آنکھوں کے کٹورے نیند سے خالی تھے -سوچتے سوچتے ذہن میں ایک فلم چلنے لگی – چترال بائ پاس روڈ کی تکمیل , چترال میں زلزلے کے دوران ہنگامی اقدامات ,دن رات مختلف علاقوں کا دورا کر کے نقصانات کا تخمینہ لگانا , سیلاب کے دوران کے ہنگامی اقدامات , تجاوزات کا خاتمہ کر کے چترال بازار کی کشادگی , ڈی سی پارک کا قیام , کیرئیر اکیڈمی کا قیام اور اس سے وابستہ قوم کے نونہالوں کا مستقبال , ان کے لیے سکالرشپز کا اہتمام اور دوسرے فلاحی کام جو اس نے صرف اپنی مظبوط قوت ارادی کے بل بوتے پر پورا کیے تھے – اسی غلطان و پیچان کے دوران پتہ نہیں کب ان کی آنکھ لگ گئ -نیند کے دوران خواب دیکھتا ہے آسمان پر کرگس ان کے سر پر منڈلا رہے ہیں اور زمین پر لومڑیوں نے ان کا راستہ مسدود کر رکھا ہے -آنکھ کھلی تو دل گھبرایا ہوا ہے -بہر حال پھر سے نیند اسے آجکڑتا ہے – صبح اٹھا تو وہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے دل کی دھڑکنین بے جان سی ہیں -دل کے کسی گوشے سے آواز آرہی ہے کہ آج اسلام آباد مت جاؤ ! چترال کی ٹھنڈی ہوائیں کہہ رہی ہیں ہمارا محسن پلیز آپ آج نہ جائیں – چترال کی حسین وادی ان کے قدموں کو چوم کر درخواست کر رہی ہے اے محسن چترال ! اے وطن کا عظیم سپوت , اے فخر ملک و ملت ,اے غریبوں کا ہمدرد آپ آج مت جائیں – ڈی سی پارک کے در و دیوار آواز دے رہی ہیں اے پیارے ہمیں چھوڑ کر نہ جانا ,کیرئیر اکیڈمی کے معصوم چہرے اپنے محسن سے التجا کر رہے ہیں کہ سر! ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں ……لیکن ذہن کوئ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے -ویسے بھی اس طرح کے فیصلے دل پسند و نا پسند کے مطابق رد نہیں کیے جا سکتے – یہی تو ذندگی ہے –
ناشتے کی میز پر اپنی چھوٹی بیٹی کو خالی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے – ننھی پری ماہ رخ بھی آج اداس ہے -شاید اسے بھی چترال سے کچھ عرصے کے لیے جانا اچھی نہیں لگتی ہے -وہ کومل پری بھی چترال کو اپنا گھر سمجھتی ہے …اسامہ کی اہلیہ آمنہ بھی پریشان نظر آرہی ہے – آمنہ اسامہ صاحب کو تیار کر کے دفتر بھیجتی ہے – دروازے پر رخصت کرتے ہوئے اپنی قسمت پر رشک کرتی ہے کہ اسامہ جیسا زندگی کا یار انھیں ملا ہے – اسامہ صاحب آفس کے معاملات نپٹاتا ہے لوگوں سے ملاقات کرتا ہے ان کے مسائل حل کرتا ہے –


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق