تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کا برطانیہ میں مقیم پاکستانی اورسیز پاکستانیوں کے ایک وفد سے ملاقات

چترال(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ اس وقت ملک اور صوبہ خیبرپختونخوا میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے جو ساز گار ماحول موجود ہے وہ نہ پہلے کبھی تھا اور نہ بعد میں ہوگا، بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے مختلف ٹیکسوں میں چھوٹ کے علاوہ متعدد دیگر مراعات بھی دئیے جارہے ہیں تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھا کر یہاں کے لوگوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جاسکیں اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑاکیا جاسکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی اورسیز پاکستانیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے ہاؤس آف کامن کے ڈپٹی لیڈ افضل خان کی قیادت میں ان سے ملاقات کی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاریوں کی طرف سے صوبے میں مختلف شعبوں خصوصاً ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر ہاؤسنگ امجد علی خان کے علاوہ محکمہ ہاؤسنگ کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفدسے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سیاحت، پن بجلی، ہاؤسنگ سمیت دیگر متعدد شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاروی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور صوبائی حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو ہرممکن تعاون اور سہولیات فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صوبے میں مختلف اکنامک زونز کے قیام پر تیز رفتاری کے ساتھ کام کر رہی ہے، ان اکنامک زون کے قیام سے یہ صوبہ تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کا ایک مرکز بن جائیگا۔
ملکی معیشت اور بیرون ملک پاکستان کے بہتر تشخص کو اجاگر کرنے میں اورسیز پاکستانیوں کے کردار کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ہاؤسنگ سکیموں میں دس فیصد حصہ اورسیز پاکستانیوں کے لئے مختص کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اورسیز پاکستانیوں کی طرف سے ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کا نہ صرف خیر مقدم کرے گی بلکہ سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات اور تعاون بھی فراہم کرے گی۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق