تازہ ترین

تعلیم برائے انسانی عظمت…حفیظ علی

انسانی سرمائیے اور سماجی و اقتصادی ترقی میں غیر معمولی حصہ لینے والے سر سلطان محمد شاہ، آغا خان سوئم،شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 48 ویں مورثی امام ہیں۔ آپ مؤرخہ 2نومبر، 1877ء کو کراچی، پاکستان، میں پیدا ہوئے۔آپ برصغیر میں مسلمانوں کے عظیم راہنماؤں سے تھے۔ آپ کے دادا، حضرت امام حسن علی شاہ آغا خان اوّل نے اُن کا نام سلطان محمد رکھا جس کے معنی راہنما، بادشاہ یا حکمران کے ہیں۔ انسانیت کے لیے اپنی بے مثال خدمات کے ذریعے،سر سلطان محمد شاہ نے بھی، خود کو اپنے نام کے مطابق ثابت کیا۔اْن کی سالگرہ کے موقع پر ، ہم اْنہیں ایک عظیم انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں اور،انسانی ترقی کے لیے،ان کی غیر معمولی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

Advertisements

سر سلطان محمد شاہ ایک سماجی راہنما اور مصلح تھے جن کی فکر کا محور انسانی زندگی کے ہرشعبے میں بہتری تھا۔ ایک عظیم سیاسی راہنما کے طور پر انہوں نے، برصغیر میں، مسلمانوں کے تشخص کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔ سنہ 1937ء میں،سر سلطان محمد شاہ، آغا خان سوئم، لیگ آف نیشنز کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اِس ادارے کو اب اقوام متحدہ کہا جاتا ہے۔سنہ 1906ء میں انہوں نے، مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کرنے والے،شملہ وفد کی قیادت بھی کی۔اس کے علاوہ آپ سنہ 1906ء سے سنہ 1913 ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ بھی رہے اور قائد اعظم، محمد علی جناح کے ہمراہ، ایک مسلمان راہنما کے طور پر، پہلی گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے اورتحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔

تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، سر سلطان محمد شاہ نے اِس میدان میں غیر معمولی کام انجام دیا۔آپ تعلیم کو فروغ دینے والے عظیم راہنماؤں سے میں سے تھے۔مورخہ 4 دسمبر، 1911ء کو دہلی، بھارت میں، آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:”میں جہاں اعلیٰ تعلیم کے نظام کے قیام کی حمایت کرتا ہوں وہیں مجھے، لازماً، آپ کی توجہ ابتدائی تعلیم کے ایک مضبوط نظام کے قیام کی جانب بھی مبذول کرانا چاہیے۔ نرم زمین پرمحفوظ اور اعلیٰ ترین نظام کبھی بھی کھڑا نہیں کیا سکتا۔ اپنے لوگوں کو طاقت، رْسوخ، سود مندی کے جائز مقام تک پہنچانے کے لیے ہمیں عوام کے فائدے کے لیے یقینا ایک کارآمد نظام قائم کرنا چاہیے اور اُسے وسعت دینا چاہیے۔“

سر سلطان محمد شاہ، آغا خان سوئم کا بھی وہی نظریہ تھا جو سر سید احمد خان کا تھا یعنی مسلم آبادی میں زوال کی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ سر سید احمد نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی لیکن اْن کے خواب کو پھیلانے،حقیقت بنانے اور اْس کا تسلسل قائم رکھنے کا سہرا سلطان محمد شاہ کے سر جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے قیام اور انتہائی ضروت مند طلبا کو،آغا خان فارن اسکالرشپ کے نام سے،اسکالرشپس کی فراہمی کے لیے فنڈز اکھٹا کرنے میں وہ ہمیشہ ایک بااثر ساتھی ثابت ہوتے تھے۔

سر سلطان محمد شاہ نے پہلا آغا خان اسکول گوادر میں قائم کیا، جس کے بعد 20ویں صدی میں 2,000 اسکول قائم کیے گئے۔ اِن اسکولوں میں، پاکستان کے دور دراز علاقوں میں، لڑکیوں کے لیے قائم کیے گئے اسکول بھی شامل ہیں جن کے ذریعے خواتین کے لیے اختیار یقینی بنایا جا رہا ہے۔ آغا خان ایجوکیشن سروس، پاکستان(اے کے ای ایس،پی) اْن اقدامات میں سے ایک ہے جن کے بنیاد سر سلطان محمد شاہ نے رکھی تھی۔ آ غا خان ایجوکیشن سروس، پاکستان نے پورے پاکستان میں 156 اسکول قائم کیے ہیں جو 44,500 سے زائد طلباء و طالبات کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہیں۔

ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات کے دوران، جب اْن کے پیروکاروں نے انہیں سونے اور ہیروں کے تحفے پیش کیے، سر سلطان محمد شاہ نے وہ تحائف افریقہ، بھارت اور پاکستان میں تعلیم اور صحت کی دیکھ بھا ل بہتر بنانے کے لیے وقف کر دئیے۔ اُن عطیات سے پاکستان کے دوردراز علاقوں میں لڑکیوں کے لیے ڈائمنڈ جوبلی اسکول قائم کرنے کے علاوہ صحت کی دیکھ بھال کے متعدد مراکز، ہوسٹلوں اور زچہ خانوں کے معیار کو بہتر بنایا گیا۔ اْن کی بصیرت کو سنگ بنیاد بناتے ہوئے آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این)کے زیر انتظام کام کرنے والی ایجنسیوں کو پورے پاکستان میں وسعت دی گئی تاکہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، قدرتی ماحول کے تحفظ، خورک، امن و امان، مالی خدمات و معاشی مواقع تک رسائی سمیت ثقافت، روایات، موسیقی، فن اور آرکیٹکچر کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا جا سکے۔

معیاری تعلیم کے حوالے سے آغا خان ایجوکیشن سروس، پاکستان غیر معمولی عمدہ ساکھ رکھتی ہے۔ پورے پاکستان میں، اِس کا نصاب تعلیم یکساں ہے جس سے تمام ارکان کے درمیان مساوی معیار ی تعلیم کے حوالے سے امتیاز میں کمی ہوئی ہے۔ طلباء و طالبات کی نہ صرف تعلیم کے حوالے سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ اْنہیں اخلاقی، نفسیاتی اور سماجی ترقی کو سمجھنے کے لیے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں، طلباء و طالبات کی مجموعی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے اورا نہیں نصابی سرگرمیوں، کھیلوں، فن، آرکیٹکچر، موسیقی، رقص اور سیکھنے کے دیگر شعبوں سمیت زندگی کے ابتدائی مراحل میں ہی مہارت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سر سلطان محمد شاہ نے ایک ایسی زندگی بسر کی جس سے انسانیت کے لیے اْن کی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ اْنہوں نے، رنگ، مذہب، ذات پات اور سرحدوں کی پراہ کیے بغیرانسانیت کے لیے بے غرضی سے کام کیا۔ انسان اور کمیونٹی کے ترقی کے لیے اْن کی وراثت دنیا بھر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اْن کی انتھک کوششیں اور مدد قائم رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے گواہی دیتی رہیں گی۔ سر سلطان محمد شاہ نے اس مادی دنیا کو مورخہ 11 جولائی، 1957ء کو خیر باد کہا اور اَسوان، مصر میں میں ہمیشہ کے لیے آسودہ خاک ہوئے۔

٭٭٭

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى