تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کا”اخپل کمپلینٹ سیل” کا دورہ ،عوامی شکایت کے ازالے بارے شکایات کنندگان سے فیڈ بیک بھی لیں

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان منگل کے روز “اخپل کمپلینٹ سیل” کا دورہ کیا اور بذریعہ ٹیلیفون براہ راست عوامی شکایت سننے کے علاوہ کمپلینٹ سیل میں عوامی شکایت کے ازالے بارے شکایات کنندگان سے فیڈ بیک بھی لیں۔وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی کامران بنگش اور ضیاءاﷲ بنگش بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ عوامی شکایات سننے کے دوران وزیراعلیٰ نے موٹر سائیکل کی چوری سے متعلق پشاور کے علاقہ گلبہار سے تعلق رکھنے والے شہری کی شکایت پر تھانہ گلبہار اور چمکنی پولیس اسٹیشنز کے محرر کو فوری طور پر معطل کرنے جبکہ دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز کو لائن حاضر کرکے ان سے جواب طلبی کے احکامات جاری کئے۔ اس موقع پرانہوں نے سی سی پی او پشاور کو شہر کے تھانوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی۔ کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے شہری کی زمین کے انتقال کے سلسلے میں پٹواری کے خلاف شکایت پر وزیراعلیٰ نے پٹواری کو فوری طور پر معطل کرنے اور کمشنر کوہاٹ کو واقعے کی تحقیقات جلدمکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔شہری نے وزیراعلیٰ سے شکایت کی کہ مقامی پٹواری نے زمین کے انتقال کے سلسلے میں اُن سے سرکاری فیس سے زیادہ رقم وصول کی ۔ اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ پٹواری کے خلاف الزام ثابت ہونے پر انہیں سیدھا گھر بھیج دیا جائے اورسرکاری فیس سے زائدوصول کی گئی رقم شکایت کنندہ کو واپس کی جائے۔ قتل کے واقعے سے متعلق ہنگو سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی شکایت پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ پولیس کو ایک ہفتے کے اندر اندر قتل کے ملزمان گرفتار کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو ڈی پی او سمیت متعلقہ پولیس کے تمام ذمہ داروں کو معطل کیا جائے۔ صفائی ستھرائی سے متعلق پشاور کینٹ کے ایک رہائشی کی شکایت پر انہوں نے ٹی ایم او ٹاو¿ن تھری سے تحریری وضاحت طلب کرنے جبکہ مسئلہ تین دنوں کے اندر اندر حل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ گاڑی کی چوری کے واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج میں سٹی تھانہ ہری پور کی طرف سے تاخیرسے متعلق ہری پور کے شہری کی شکایت پر وزیراعلیٰ نے ڈی پی او ہری پور کومسروقہ گاڑی کی برآمدی کے لئے فوری اقدامات اٹھانے اور واقعے کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى