تازہ ترین

خیبرپختونخوامیں موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا اجراؤزیراعلیٰ نے باضابط افتتاح کیا

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے آٹھ ڈویژنل ہیڈکوارٹرزکیلئے موبائل واٹرکوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا باضابطہ افتتاح کیا ہے اور کہا ہے کہ موبائل لیبارٹریز کا اجرائسماجی خدمات کے شعبوں میں عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی کاوشوں کا تسلسل اور ایک اہم پیشرفت ہے جس پر محکمہ آبنوشی خیبرپختونخواخراج تحسین کا مستحق ہے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز دوردراز علاقوں کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہا?س پشاور میں موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹری کا باضابطہ افتتاح کیا۔محکمہ آبنوشی خیبرپختونخوا کے اعلیٰ حکام نے اس موقع پر وزیراعلیٰ کو مذکورہ موبائل لیبارٹریز کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر صوبے کے آٹھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کیلئے مذکورہ موبائل لیبارٹریز کا اجرائکیا گیا ہے جو محکمہ آبنوشی کا ایک اضافی اقدام ہے کیونکہ ڈویژنز کی سطح پر مستقل واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز بھی پہلے سے فعال ہیں۔ موبائل لیبارٹریز دو دراز کے علاقوں اور ہنگامی ضرورت کے تحت پینے کے پانی کے نمونوں کے معائنے کیلئے استعمال کی جائیں گی اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ حکام نے آگاہ کیا کہ مذکورہ اقدام کو عنقریب ضم شدہ اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے ایک منصوبہ پہلے سے منظور ہو چکا ہے جس کے تحت ضم اضلاع میں تین موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا اجرائکیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے پینے کے پانی کے معائنے کیلئے موبائل لیبارٹریز کے اجرائکو صوبائی حکومت کا ایک اور اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سماجی خدمات کے شعبوں میں عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے دستیاب وسائل کا کار آمد استعمال یقینی بنارہی ہے۔ صوبے میں صحت عامہ کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مذکورہ لیبارٹریز کا اجرائبھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اُنہوں نے موبائل لیبارٹریز کے اجرائپر متعلقہ حکام کی کارکردگی کو سراہا اور اُمید ظاہر کی کہ محکمہ آبنوشی میں خدمات کی فراہمی کے عمل میں بہتری کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى