تازہ ترین

صوبے میں گیس کے کم پریشر معاملہ وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے، مسئلے کے حل کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائیں گے۔وزیراعلیٰ محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے رواں موسم سرما میں صوبے میں گیس کے کم پریشر کے مسئلے کو ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے اور اُن پر واضح کیا گیا ہے کہ صوبے میں گیس کے کم پریشر کا سبب بننے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے اور اُمید ہے کہ متعلقہ حکام اس سلسلے میں صوبے کے صارفین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سنجیدہ رویہ کا مظاہرہ کرکے مسئلے کے حل کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائیں گے۔ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت عوامی مفاد میں دستیاب تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کرے گی۔ وہ جمعہ کے روز صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی کابینہ ممبران کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ گزشتہ کابینہ اجلاس میں جاری سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق احکامات پر دیئے گئے ٹائم لائنز کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور تمام محکمے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل تمام منصوبوں کے پی سی ونز کی مقررہ مدت کے اندر متعلقہ فورم سے منظوری کو یقینی بنائیں۔ کابینہ نے بلدیاتی انتخابات کیلئے صوبے کے سات ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹی لوکل گورنمنٹ کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے علاوہ نجی ہا?سنگ سکیم سے متعلق محکمہ بلدیات کے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کاجائزہ لینے کیلئے اُمور کو طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی جو کورونا کی موجودہ صورتحال میں ان تمام اُمور کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد 10 دنوں کے اندر سفارشات کو حتمی شکل دے کر کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کرے گی۔کمیٹی کے ممبران میں وزیر بلدیات، وزیر قانون، وزیر صحت، وزیرتعلیم کے علاوہ ایڈوکیٹ جنرل شامل ہوں گے۔ کابینہ نے محکمہ بلدیات کے تحت قائم ڈی لمٹیشن اتھارٹی کو کورآرڈنیشن یونٹ میں تبدیل کرنے کی بھی منظوری دے دی۔
علاوہ ازیں کابینہ نے سرکاری ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی طبی عملے اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے قانون کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔ اس قانون کی منظوری سے مریضوں کے تیمارداروں اور طبی عملے پر تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کا تدارک کیا جا سکے گا۔ اجلاس میں صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں منتخب کردہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کیلئے ان ہسپتالوں کی آ?ٹ سورسنگ کی اُصولی طور پر منظوری کے علاوہ گجو خان میڈیکل کالج کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے، صوبے کے نجی میڈیکل کالجوں میں داخلوں کیلئے 90 فیصد کوٹہ خیبرپختونخو اکے سکونتی اُمیدواروں کیلئے مختص رکھنے جبکہ 10 فیصد دیگر صوبوں کے اُمیدواروں کیلئے مختص رکھنے کی منظوری دے دی۔ اسی طرح کابینہ نے ایمبولینس سروس کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے محکمہ صحت کے ایمبولینسز کی بمعہ عملہ ریسکیو1122 کو حوالے کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کی تجدید کاری کے کاموں کی جلد تکمیل کیلئے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کی خدمات حاصل کرنے کی اُصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کہ اس طرح کے مخصوص تکنیکی کاموں کیلئے صوبائی حکومت کے اپنے ایک ادارے کے قیام پر کام شروع کیا جائے۔
کابینہ نے متعلقہ سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں صوبے کے آٹھ سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کیلئے ناموں کی منظوری دے دی جن میں پشاور یونیورسٹی کیلئے پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے پروفیسر ڈاکٹر سردار خان، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کیلئے ڈاکٹر خیر الزمان، باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کیلئے ڈاکٹر بشیر احمد،یونیورسٹی آف صوابی کیلئے ڈاکٹر شاہد محمود بیگ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کیلئے ڈاکٹر ظہور الحق، شہدائے اے پی ایس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ کیلئے ڈاکٹر ظفر ایم خان اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کیلئے ڈاکٹر افتخار حسین کے نام شامل ہیں۔ اجلاس میں واٹر سپلائی اینڈ سنٹیشن کمپنیزکوہاٹ اور سوات کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کے نئے ممبران کی تعیناتی کی بھی منظوری دے دی گئی۔ اسی طرح کابینہ نے رائٹ ٹو سروسز کمیشن کے چیف کمشنر کی خالی آسامی پر تعیناتی کیلئے سابق چیف سیکرٹری محمد سلیم خان کے نام کی منظوری دے دی۔
کابینہ نے ضم اضلاع میں معدنی وسائل کے لیز کے حوالے سے موجودہ قوانین میں پیچیدگیوں کو دور کرنے کیلئے متعلقہ قانون میں ترامیم پر غورو خوض کے بعد ا س سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈوکیٹ جنرل پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو معاملے کا جائزہ لے کر کابینہ کے اگلے اجلاس میں سفارشات پیش کرے گی۔ کابینہ نے شیخ ملتوں ٹا?ن مردان میں پبلک پارک کے قیام کے سلسلے میں زمین کی خریداری کیلئے 650 ملین روپے سپلمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام اضلاع میں سرکاری تعمیرات ترجیحی بنیادوں پر سرکاری ملکیتی زمینوں پر کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ صوبے بھر میں مختلف محکموں کے ملکیتی زمینوں کی انفرادی ملکیت کو ختم کرکے اُن تمام زمینوں کو صوبائی حکومت کی ملکیت میں یکجا کرنے اور سرکاری تعمیرات کیلئے زمینوں کی خریداری سے متعلقہ جملہ اُمور کو اسٹریم لائن کرنے کیلئے ایک جامع میکنزم تیار کی جائے۔ کابینہ نے اس سلسلے میں سینئر ممبر بورڈز آف یونیو کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو ایک مہینے کے اندر اس حوالے سے کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ کابینہ نے صوبے میں قائم پناگاہوں کے بہتر انتظام و انصرام کے لئے محکمہ سماجی بہبود کو پاکستان بیت المال کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرنے کی اُصولی منظوری دینے کے علاوہ زمونگ کور کے انسٹیٹوٹ مینجمنٹ کمیٹی کے نئے ممبران کی تعیناتی کی بھی منظوری دے دی۔ کابینہ نے کورونا کی حالیہ صورتحال سے متاثرہ تاجروں کے مسائل کے ازالے کیلئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے مالی قوانین سے متعلق ترمیمی آرڈنینس کے مسودے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے جنگلات میں پڑے ونڈ فال سے گرے درختوں کونکالنے کیلئے پہلے ہی سے دی گئی اجازت کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی بھی منظوری دے دی۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى