پروفیسر اسرار الدینتازہ ترین

اپنے کام سے کام….پروفیسر اسرار الدین

انگریزی میں ایک مقولہ ہے کہ مانیڈ یوراون بز نس،یعنی اپنے کام سے کام رکھ۔لیکن ہم ہرایک پاکستانی کی یہ عادت ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھنے کے بجائے دوسروں کے کام سے کام رکھتے ہیں۔یہ تحریر لکھتے ہوئے شاید میں خود بھی اسی عمل کا مرتکب ہورہا ہوں۔
میں کئی سال انگلینڈ میں طالب علم رہا۔اس دوران کسی پروفیسر کو نہ کلاس روم میں اورنہ ہی نجی محفل میں سیاست پر بحث کرتے دیکھا۔اتنے سالوں میں مجھے یہ اندازہ نہ ہوسکا۔کہ میرا کونسا پروفیسر کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔اس دوران ایک دفعہ جنرل الیکشن بھی آئے۔پھر بھی مجال کہ کسی کوسیاست پرایک لفظ کہتے یاکسی امیدوار کے حق میں یا مخالفت میں کچھ کہتے سنا ہو۔اسی طرح سٹوڈنٹس کا حال تھا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ سیاست سے دلچسپی نہیں رکھتے۔بات دراصل یہ ہے کہ وہ سیاست کو ہرایک کا پرائیویٹ معاملہ سمجھتے ہیں۔خواہ کوئی کس جماعت سے تعلق رکھتا ہو میں کون ہوتا ہوں کہ کسی پر اثرانداز ہوجاؤں اور کسی پارٹی کی طرف داری کے لئے کوشش کروں اسکے لئے پارٹی کے اپنے ورکر ہوتے ہیں جن کا یہ فل ٹائم کام ہوتا ہے۔کہ اپنے پارٹی کے حق میں کنویسنگ یا کنونسنگ(Convessing or Convincing)کا کام کریں۔جبکہ ہمارے ہاں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں قائم ہیں۔جوکھل کر اپنی پارٹی کے منشور اور ان کے پراگراموں اور ان کی Activitiesکو آگے بڑھانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔سٹوڈنٹس بچارے اساتذہ کے ہاتھوں ایذا سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی پارٹی کے ساتھ اپنے آپ کو نتھی کرتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض سٹوڈنٹس تنظیمیں پارٹیوں کے ساتھAffiliatedہوتی ہیں۔اور وہ ان کے اشاروں سے وہی کچھ کرتے ہیں جو ان کو کہا جاتا ہے۔اسطرح روز روز تعلیمی اداروں میں فسادات کا خطرہ رہتا ہے۔اساتذہ تنظیمیوں کے طریقہ واردات دوطرح کے ہوتے ہیں۔ایک طرف وہ سٹوڈنٹس کو دھونس دھاندلی سے اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔دوسری طرف اداروں میں ملک کے صنعتی اداروں کے لیبر یونین کی مانند اپنے اثرورسوخ سے جاکے اپنے کام نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اب کسی بھی شعبے میں اگر بدقسمتی سے کسی خاص جماعت سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی Clique(منڈلی)بن جائے۔توپھر خداہی حافظ اس ادارے میں دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی اعلےٰ سے اعلےٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والاشخص داخل نہیں ہوسکتا۔اگر بدقسمتی سے کوئی کسی طرح اس میں آیا ہو تو اس کے لئے زندگی ایسی اجیرن بن جاتی ہے۔کہ اس کے لئے آگے بڑھنے کے Chancesبھی ختم۔ایک دن مجبوراً اسکو شایدفرار ہونا پڑے۔اگر کوئی کنٹریکٹ پر اسمیں آیا ہوتو پھر اسکے مستقل ہونے کی صورتیں عنقا ہوجاتی ہیں۔وہ سالوں کنٹریکٹ پررہے گا اسکے شاگرد اسکے بعد مقرر ہوکے مستقل ہوچکے ہوں گے لیکن وہ بچاراضمیر کے قیدی بند کے دھکا کھاتا رہے گا۔سیاست کو تعلیمی اداروں میں رسوخ دینے کی گناہ میں سیاسی پارٹیوں کے علاوہ حکومتوں کا اپنا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔یہ بات تو عام ہے کہ وائس چانسلر کی تقرری سیاسی تقرر ہوتی ہے۔گذشتہ سالوں میں ایک حکومت کے دوران جب کسی یونیورسٹی میں وائس چانسلرکے تقرر کا مسئلہ پیش ہوا تو اس پارٹی کے سربراہ نے پوچھا کہ یہ امیدوار کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔بتایا گیا کہ فلان پارٹی سے لیکن بڑا قابل آدمی ہے،بین الاقوامی کیلیبر والی شخصیت ہے۔پارٹی کے سربراہ نے یہ کہہ کہ اسکو ریجکٹ کیا کہ میری اپنی پارٹی سے اگر کوئی گدھا بھی ہوتو میں اس کو اس بین الاقوامی شخصیت پر ترجیح دوں گا۔ڈاکٹر متین مرحوم بتارہے تھے کہ ایک زمانے میں وہ وائس چانسلر کمیٹی کے سربراہ تھے۔ایک کیس پیش ہوا۔اسمیں ایک ایسے صاحب بھی امیدوار تھے جو دوسروں کے مقابلے میں بہت پیچھے تھا۔چنانچہ اس کے لئے کوئی چانس نہ تھا۔حکومت کے بڑے نے ایک دن مجھے فون کیا کہ ڈاکٹر صاحب فلان شخص کو اگر سلکٹ کریں تو مشکور ہوں گا۔“ڈاکٹر متین صاحب نے ان سے کہا کہ جناب والا!میں ایڈوایزرہوں یا آپ۔دراصل میری حیثیت ایک ایڈوایزر کے ہے میں تو جو مجھے موزوں لگے گا اسکے لئے سفارش کروں۔باقی آپ کی مرضی جسے آپ سلیکٹ کریں“۔پھر اسی کو سلیکٹ کیا گیا جسکو کمیٹی نے رد کیا تھا۔
اگر حمیں ملاوحمیں مکتب۔کار طفلان تمام خواہد شد۔آج کل اکثر یونیورسٹیوں میں ایکٹنگ وائس چانسلر کام کررہے ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ حکومت کو اپنی پارٹی کے کوئی سینئر پروفیسر نہیں مل رہے۔کہ ان کو مستقل وائس چانسلرمقرر کریں۔بہرحال سنا ہے کہ تلاش جاری ہے۔خدا کرے کہ آیندہ الیکشن سے پہلے کوئی ان کو اپنے کام کے لوگ مل جائیں۔اسلئے ہمیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔بہتر ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھیں۔اور حکومت کو اپنے کام کرنے دیں۔ویسے بھی حکومت کو کرنے کے لئے بہت زیادہ کام پڑے ہیں۔گذشتہ73سالوں کا ملبہ ان پر آکے گرا ہے اور بچارے بغیر تیاری کے آئے تھے۔اب نہ جائے ماندان نہ پائے رفتن والی صورت حال بن گئی ہے۔اللہ خیر کرے۔آمین
اس سب کچھ کے باوجود یہ شکر کا مقام ہے کہ ہماری فوج اندورونی سیاست سے بچی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود جب کوئی فوجی سربراہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملک کا انتظام سنبھال لیتا ہے۔تو ان کی سیاست کو دیکھ کے انسان حیران رہ جاتا ہے۔کہ یہ سیاست انہوں نے کہاں سے سکھ لی۔مزید براں ہمارے بعض جوشیلے فوجی افسران کا موجودہ حالات میں للکارانہ انداز میں اس قسم کا خطاب کہ ہم فوج کے لوگ ایک خاندان کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے افراد ہیں۔باقی پاکستانیوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا پاکستان کے لوگ اس طرح خاندانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔کہ کوئی عسکری خاندان،کوئی جوڈیشیری خاندان،کوئی بیوروکریسی خاندان اور کوئی کیا کیا کوئی کیا ہیں۔پھر ایک پاکستان ایک لوگ کا فلسفہ کہاں گیا۔چلو اس بحث میں نہیں پڑتے۔اس قسم کی باتوں کو وقتی جذباتی Utterancesسمجھ کے بھول جاتے ہیں اور اپنے د ل میں اس عقیدے کو پکا کرتے ہیں۔کہ ہم سب ایک ہیں۔ایک جھنڈے کے نیچے ہم سب ایک ایک ہیں اور ایک رہینگے۔
انشاء اللہ

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى