تازہ ترینعمران الہئ

یونیورسٹی آف چترال کی تعمیر کے لئے منظم منصوبہ بندی کی ضرورت..عمران الہیٰ

کسی بھی منصوبے کے مقاصد کے حصول کے لئے قابل عمل اور مربوط منصوبہ بندی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں چترال کے عوام کا یہاں کے لئے الگ جامعہ بنانے کے دیرینہ مطالبے کو منظور کیا گیا اور آخر کار یونیورسٹی کیمپس کا قیام عمل میں لانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ اب اسے ہمارے نوجوانوں کی بدقسمتی کہیں یا ارباب اختیار کی ستم ظریفی، یونیورسٹی بنا بھی تو تکنیکی اور فنی تعلیم کی ترویج کے خواب کا گلہ گھونٹ کر کیوں کہ جو عمارت یونیورسٹی کو الاٹ ہوا وہ ٹیکنیکل کالج کے نام پر بنا تھا جو چترال میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا ادارہ تھا اور جو اس علاقے کے نوجوانوں کے بیروزگاری کے خاتمے کا ضامن۔۔ خیر وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ عجلت میں کی گئی تھی اس لئے وہ عمارت ایڈ ہاک بنیاد پر تب تک استعمال میں رہے گا جب تک یونیورسٹی کے لئے لینڈ ایلوکیشن اور کنسٹرکشن کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔
سال 17-2016 میں یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے سید آباد کے مقام پر سائٹ آئڈنٹیفاء کیا گیا اور 200 کنال زمین خریدی گئی۔ فیزیبیلیٹی کے تناظر میں یہ ایک دوراندیشی پر مبنی فیصلہ اور نہایت احسن قدم تھا کیونکہ
1۔ چترال میں عمومی طور پر سرکار کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہاں سرکاری عمارتوں کے لئے ٹاون کے اندر زیر کاشت زمینوں کا انتخاب کیا جاتا جس کی وجہ سے نہ صرف چترال جہاں پہلے ہی سے زیر کاشت زمین کی کمی ہے میں مذید کمی آجاتی تھی۔
2۔ عمارات چترال ٹاون میں بننے سے ٹاون میں آبادی کا زور بڑھتا اور چترال کے ملحقہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں ترقی کا خواب مزید ماند پڑھنے لگا۔
3۔ اس منصوبے کی وجہ سے پسماندہ اور غیر آباد علاقوں میں ترقیاتی کام شروع ہونے کی امید بندھ گئی۔
4۔ اپنے محل وقوع کے حساب سے سید آباد سے زیادہ بہتر آپشن تھا کیوں کہ یہ علاقہ دوسرے دیہات سے الگ تھلک ہونے کی وجہ سے بہتر تعلیمی ماحول مہیا کرتا ہے اور چترال کے اکثر بڑے آبادی والے علاقوں کو نزدیک پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چترال پشاور شاہراہ پر واقع ہے۔
5۔اگر موسمی حالات اور آفات سے بچاؤ کے تناظر میں بھی دیکھا جائے تو سید آباد میں سردیوں میں برف سنٹرل چترال یا اپر چترال کی نسبت بہت کم پڑتی ہے اور دریائی کٹاؤ یا سیلاب کا خطرہ سرے سے ہے ہی نہیں جو چترال کے اکثر علاقوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
5۔ اس سائٹ کی سب سے بڑی خوبی یہاں میدانی زمین کی وافر فراہمی ہے جو بعد کے دور کے لئے بھی یونیورسٹی کو پھیلانے کے لئے کافی ہے۔
ان چند چیدہ چیدہ مفروضات کو پیش کرنے کے بعد حکومت اور یونیورسٹی اور ضلع کے انتظامیہ سے یہ امید اور توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف یونیورسٹی کی تعمیر کا منصوبہ سید آباد میں شروع کیا جائے گا بلکہ موجودہ خریدے گئے رقبے میں مزید زمین خرید کر اضافہ کیا جائے گا اور یہ منصوبہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا تا کہ سین لشٹ کے مقام میں واقع پرپسفل بلڈنگ کو ایک اور انتہائی اہم تعلیم یعنی ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کے حصول کے لیے یقینی بنایا جا سکے۔
چترال واقعی اس دن ”علم” و ”ہنر” کا گہوارہ بنے گا جس دن چترال یونیورسٹی اور ٹیکنیکل کالج اپنے اپنے مقام میں موثر طور پر فعال ہونگے طلباء فارغ التحصیل ہو کر نکل رہے ہونگے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى