تازہ ترین

حکومت کے شروع کردہ منصوبوں کی تکمیل سے چترال میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، عبداللطیف۔

یونیورسٹی آف چترال کی خریداری کیلئے 90کروڑ روپے کی منظوری وزیراعلیٰ کی چترال سے محبت کا ثبوت ہے‘

چترا ل (چترال ایکسپریس) تحریک انصاف چترال کے سینئر رہنماء عبد الطیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے چترال کو ترقیافتہ علاقوں کے برابر لانے کیلئے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے 54کروڑ اور یونیورسٹی آف چترال کی خریداری کیلئے 90کروڑ روپے کی منظوری دے کر ثابت کردیاکہ وزیراعلیٰ محمود خان چترال کی ترقی میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں‘ صوبائی حکومت کے شروع کردہ منصوبوں کی تکمیل سے چترال میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری کردہ اپنے اخباری بیان میں کیا‘ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو سالوں سے چترال سیلاب کی زد میں رہا جس سے کافی نقصانات ہوئے‘ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کیلئے 54کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چترال کے طلبہ کو تعلیم کے سلسلے میں ملک کے دیگر حصوں میں جاناپڑتا تھا اور اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے یونیورسٹی آف چترال کی زمین کی خریداری کیلئے 95کروڑ روپے کی منظوری سے طلبہ کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم،صحت اور سیاحت کے شعبوں میں چترال کو ترقیاتی فنڈز مہیا کئے گئے ہیں اور چترال یونیورسٹی تحریک انصاف کی حکومت کا چترال کے نوجوانوں کیلئے ایک تحفہ ہے اور وزیراعلیٰ کی خصوصی دلچسپی سے اسے ایک بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے گا اسی طرح سیاحت کے شعبے میں چترال کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر ان کو سراہتے ہوئے عبد الطیف نے کہا کہ ماضی میں مذہب کے نام پر ووٹ لینے والے چترال کی ترقی میں رکاوٹ رہے ہیں اور چترال کے نوجوانوں کو دور دراز علاقوں میں تعلیم کے لئے دھکے کھانے پڑے اب دوبارہ قوم کو بیوقوف بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ وزیر زادہ نے اقلیتوں کے ساتھ ساتھ پوری چترال قوم کیلئے دن رات ایک کیا ہے اور ان کی کوششوں سے چترال کے بڑے منصوبے شروع ہوئے ہیں۔ماضی میں ووٹ لینے والوں نے عوام سے وعدے کر کے پھر چترال سے رفوچکر ہو گئے جبکہ موجودہ نام نہام نمائندے ووٹ لینے کے بعد چترال سے غائب ہیں اور لوگوں سے جو وعدے کئے گئے ہیں وہ قیامت تک پورے ہونے کا امکان نہیں ہے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى