تازہ ترین

ایون معصوم بچے کی جان چلی گئی۔واقعے کا زمہ دار کون ؟۔۔۔۔وسیع الدین اکاش

آج فیسبک پر ایک پوسٹ دیکھنے کو ملی جس میں ایک پیارے سے بچے کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا تھا کہ آر ایچ سی ایون میں آکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس معصوم بچے کی جان چلی گئی۔ معلوم ہوا کہ دو دن پہلے اس ساتھ سالہ بچے کو ملقال (local heating system) کے نیچے سلایا گیا جس کی وجہ سے آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ہوئی اور بچے کی طبیعت ناساز ہوئی جسکو فوری طور پر اس کے والد آر ایچ سی ایون لے کہ آئے ۔ چونکہ بچے کی جان بچانے کے لئے اکسیجن کی فوری ضرورت تھی۔ بدقسمتی سے اس ہسپتال میں آکسیجن سیلنڈر تو پڑے تھے لیکن وہ سب خالی تھے۔اس بچے کا بے آسرا باپ جو کہ ایک ڈرائیور ہے ۔ اور 15 روز قبل باپ کی شفقت سے محروم ہوئے تھے۔ پریشانی کے عالم میں بچے کو گود سے لگا کر ڈی ایچ کیو چترال کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں بچے کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو بی ایچ یو بروز لے کے گئے جہاں آکسیجن کی سہولت موجود تو تھی لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اور یوں باپ کی شفقت سے محروم ہونے والا یہ شخص جس نے نجانے اپنے اکلوتے بچے کے لئے کیاکیا خواب دیکھے ہون گے۔ اپنے بچے سے بھی محروم ہو گیا ۔ شکستہ اعصاب اور مایوسی کے ساتھ بچے کی لاش لیکر گھر پہنچے تو نجانے اسکی ماں پر کیا قیامت گزری ہوگی ۔ سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعے کے زمہ دار کون ہیں ؟ حکومت یا آر ایچ سی ایون کے سٹاف یا کوئی اور باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ اس ہسپتال کے انچارج کا ٹینئور بھی پورا ہوا اور کوئی ایک ماہ قبل اسکو اس ہسپتال سے تبادلے کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا تھا لیکن سرکاری معاملات میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے وہ نوٹیفکیشن ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ اور جناب اپنے عہدے اسی ہسپتال میں ہی براجمان رہے۔ میں اس بات کا ذکر قطعاً نہیں کرتا کہ اسکے تبادلے کو کیوں روکا گیا ؟ لیکن مجھے اس بات پہ اعتراض ہے کہ ایک نااہل انسان کو جانے سے روکا کیوں گیا ؟ اور کس نے روکا ؟ اسکی محکمانہ انکوائری ہونی چاہیے۔ اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری آر ایچ سی ایون کے انچارج پر عائد ہوتی ہے جس کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ ہسپتال میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بناتے۔ 35 ہزار کی ابادی والے ہسپتال میں آکسیجن کی عدم دستیابی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس غیر ذمہ دارنہ اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر بھی اس انچارج کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں، لوگوں کو صحت کی سہولیات ملےاور مستقبل میں دوسرے لوگوں کی جاں محفوظ بنائی جاسکے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى