تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…بیورو کریسی کا معمہّ…ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

بیورو کریسی کے بارے میں تازہ خبر یہ ہے کہ اس کا توڑ ڈھونڈ لیا گیا ہے ڈاکٹر عشرت حسین کی رپورٹ پر نئی کمیٹی بنا ئی گئی ہے جو اس رپورٹ کی سفا رشات کو عملی جا مہ پہنا نے کے لئے مزید سفا رشات پیش کریگی ان سفارشات کی روشنی میں ایک اور کمیٹی بنے گی اور بقول غالب ”کہاں میخا نے کا دروازہ غالب اور کہاں زاہد پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے“ بنادی سفا رشات کا دائرہ تین باتوں کے گرد گھومتا ہے 70فیصد افسروں کو گریڈ 18سے آگے تر قی سے رو کا جانے نئے افیسروں کو سی ایس ایس، کے ذریعے لا نے کی جگہ مارکیٹ سے ما ہرین کی صورت میں کنسلٹنٹ بنا کر لا یا جائے اور تیسرا نکتہ یہ ہے کہ گریڈ 20اور گریڈ 21کے افیسروں کو جبری ریٹائر منٹ پر بھیج کر نظام حکومت کو افیسروں کے ”نا پاک وجود“ سے پا ک کیا جائے ڈاکٹر عشرت حسین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سی ایس ایس میں بری طرح فیل ہوئے تھے یادش بخیر 2000ء میں تنویر حسین نقوی نا می نا بغۂ روز گار آئے تھے وہ بھی افیسروں سے چھٹکا را حا صل کرنا چاہتے تھے ان کا مسئلہ یہ تھا کہ ملتان کے نواح میں 4مربعے اور لا ہور میں 6پلاٹ کا قبضہ اس کو دینے میں کلکٹر نا می افیسروں کا گروہ رکا وٹ بن گیا تھا افیسروں کا مو قف یہ تھا کہ ایک مر بعہ اور ایک پلا ٹ سے زیا دہ قانون میں نہیں تنویر حسین نقوی نے ایسا بدلہ لے لیا کہ 400افیسروں نے ریٹائر منٹ لے لی ایوب خا ن اور یحیٰ خا نے بھی افسروں سے ڈٹ کر بدلہ لیا تھا ایوب خا ن نے 303دیا نت دار، قابل اور تجربہ کار افیسروں کو گھر بھیج کر اپنا راستہ صاف کیا تھا افیسروں کے ساتھ حکو متوں کی کیوں نہیں بنتی؟ یہ سو ملین ڈالر والا سوال ہے اور اس سوال کا جواب کبھی آساں نہیں رہا جو حکومت قانون کے مطا بق آگے بڑ ھنا نہیں چاہتی، قانون کو پاوں تلے روند نا چاہتی ہے افیسروں کی ٹیم آئین کا حوالہ دیتی ہے قانون کا نا م لیتی ہے تو یہ باتیں اوپر والوں کو بری لگتی ہیں پو لٹیکل سائنس کے ماہرین نے لکھا ہے کہ ریا ست کے تین ستون ہیں پہلا ستون مقننہ یا ملکی پا رلیمنٹ ہے، دوسرا ستون انتظا میہ یعنی بیو رو کریسی ہے اس کا تیسرا ستون عدلیہ اور صحا فت کو ریا ست کا چوتھا ستون بھی کہا جا تا ہے عد لیہ اور صحا فت کا کام پارلیمنٹ اور بیو رو کریسی کے درمیان تو ازن قائم کر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دلوا نا ہے آج کل لاہور، اسلا م اباد اور پشاور کے اندر اقتدار کی راہ داریوں میں بیو رو کریسی کو ملکی تر قی کا دشمن قرادیا جا رہا ہے بیو رو کریسی کا مو قف یہ ہے کہ قانون کے مطا بق کوئی کام رکا نہیں قانون کے بغیر کوئی کا م ہوا نہیں اور یہی اصل مسئلہ ہے ایوب خا ن اور یحیٰ خا ن چاہتے تھے کہ قانون کی کتاب کو لپیٹ کر طاق پر رکھ دیا جا ے ان کی زبان پر جو کچھ آتا ہے اس کو قانون اور آئین کا درجہ دے دیا جائے اس پر بیو رو کریسی کے ساتھ پھڈا ہو جاتا تھا، بسا اوقات سول حکو متوں میں بھی ایسی حکو متیں آتی ہیں جن میں ایک شخص کی زبان سے نکلا ہوا جملہ قانون کا درجہ اختیار کر تا ہے ایسی حکومتوں میں ایک اور مسئلہ بھی سراُٹھا تا ہے اوپر بیٹھا ہوا شخص ایک ایک محکمے کے لئے چار چار وزیر لے آتا ہے یہ وزیر ہے یہ مشیر ہے یہ معاون خصو صی ہے اور یہ ٹاسک فورس کا کنوینر ہے بیو رو کریسی کو چاروں افراد متضا د احکا مات جاری کر کے ان احکا مات پر فوری عمل درآمد کا تقاضا کرتے ہیں چونکہ ہر حکم دوسرے حکم کی ضد ہو تا ہے اس لئے عمل درآمد میں وقت لگتا ہے نیز صو بائی سطح پر ایک اصلی وزیر اعلیٰ کے ساتھ دو ڈمی وزیر اعلیٰ بھی آتے ہیں تینوں کی الگ الگ تر جیحا ت ہوتی ہیں بیو رو کریسی ان تر جیحات میں الجھ کے رہ جا تی ہے مقتدر حلقوں سے دیر ینہ شنا ئی رکھنے والے ججوں اور صحا فیوں کا خیال ہے کہ مو جو دہ حا لات میں کرپشن کی تکرار، نیب کی دھمکی اور این آر او کے خو ف نے بیورو کریسی کے ہاتھ پاوں با ندھہ کر رکھ دیئے ہیں قیا م پا کستان کے بعد با بائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے سول سروس کے افیسر وں سے خطاب کر تے ہوئے تین جملوں میں رہنما اصول بیان کئے تھے با بائے قوم نے پہلی بات یہ کہی کہ حکومتیں آتی جا تی ہیں بیو رو کر یسی اپنی جگہ قائم رہتی ہے انہوں نے دوسری بات یہ کہی تھی کہ بیورو کریسی کسی حکو مت سے وفا داری پر مکلف نہیں ریا ست سے وفا داری پر مکلف ہے تیسری بات انہوں نے یہ کہی کہ سیا ستدانوں کی کوئی بات ما ننے سے پہلے قانون کی کتاب کو دیکھو اگر قانون میں گنجا ئش نہ ہو تو ہر گز نہ ما نو یہ باتیں کہنے والا خو د سیا ستدان اور قا نون دان تھا یہ سنہری باتیں آج کے سیا ستدانوں اور قانون دا نوں کو پسند نہیں اس لئے بابائے قوم کا فر مان لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے ایک دوست کو اس بات کی بڑی خو شی ہوئی کہ افیسروں کی جگہ ما ہرین یعنی کنسلٹنٹ آگئے تو ملک دن دوگنی رات چو گنی تر قی کرے گا ہم نے ان کی خد مت میں ایک کنسلٹنٹ کا مشہور واقعہ عرض کیا ایک شخص کا کسی چراہ گاہ سے گذر ہوا تو اس نے چرواہے کے سامنے اپنی جیب روک کر چرواہے سے کہا اگر میں تمہارے ریوڑ میں بیمار بھیڑوں کو الگ کروں تو مجھے کیا دوگے؟ چرواہے نے کہا ایک بھیڑ، تھوڑی دیر بعد اُس شخص نے کہا میں نے بیمار بھیڑوں کے گلے میں پٹا ڈال دیا ہے ان کو 10دنوں کے لئے ریوڑ سے الگ کر لو، چرواہے نے کہا ٹھیک ہے ایک بھیڑ اُٹھا ؤ اس نے ایک جانور کو اٹھا کر جیب میں ڈال دیا چرواہے نے پو چھا کیا تم کنسلٹنٹ ہو؟ اُس نے کہا تم نے کیسے پہچا نا؟ چرواہے نے کہا جس جا نور کو تم نے جیب میں ڈال دیا یہ بھیڑ نہیں یہ میرا کتا ہے اس لئے میں نے تم کو پہچا نا خدا کریں ہمارے ہاں ایسے کنسلٹنٹ نہ آجا ئیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى