تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…کورونا کی اپنی زبان..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

وبائی مرض کو رونا کے ساتھ نئے الفاظ ہماری لغت میں شا مل ہورہے ہیں ویسے جب وبائی مرض آتا ہے تو اپنے ساتھ الگ ثقافت لے آتا ہے 102سال پہلے آنے والے مرض کا ذکر اب بھی ہوتا ہے 1918میں خیبر پختونخوا کے اندر خواند گی کی شرح بہت کم تھی لو گ پیدائش اور اموات کی تاریخ نہیں لکھ سکتے تھے 1918میں انفلو ئنز ا کا مرض آیا اس سال جو لوگ مر گئے ان کی وفات کا سال ”مر ض کے سال“ کی صورت میں محفوظ رہا اس سال جو لوگ پیدا ہوئے ان کی پیدائش کا سال بھی مرض کا سال کہلا تا ہے اب بھی بزرگوں کا ذکر ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں مر ض کے سال وہ جوان تھا، یا مرض کے سال پیدا ہویا مرض کے سال وفات پایا سنگ میل کے طور پر ہماری ثقا فت اور لغت کا حصہ بن گیا ایک صدی پہلے کا دور علاج، دوا، ڈاکٹر اور ہسپتال کا دور نہیں تھا ورنہ اُس مرض کے ساتھ کئی الفاظ ہماری لغت کا حصہ بن جا تے نزلہ اور زکام کی مو جودہ وباء اپنے ساتھ ہسپتا ل کی زبان کو گھروں تک کھینچ لا ئی ہے ذراغور کیجئے 50سال پہلے سٹینڈرڈ اوپر یٹنگ پرو سیجر (ایس او پی) خا لصتاً فوجی اصطلاح تھی چھا ونیوں سے نکل کر یہ اصطلا ح این جی اوز کی زبان پر چڑھ گئی سر کاری دفتروں میں عام ہو ئی مگر پڑھے لکھے لو گوں تک محدود رہی کورونا کے ساتھ یہ اصطلاح بھی گھروں میں داخل ہوئی اس کا مخفف بھی ہر خواندہ اور نا خواندہ کی زبان پر چڑ ھ گیا 70سال کی نا خواندہ دادی اماں اپنے پو تے کو سفر پر رخصت کرتی ہے تو تاکید کے ساتھ کہتی ہے ایس او پی کا خیال رکھو خدا حا فظ وینٹی لیٹر کس مشین کا نا م ہے؟ یہ بات ہسپتال کے ڈاکٹر وں اور ما تحت عملے کو پتہ تھا مریض اور اس کے تیمار دار بھی نہیں جانتے تھے کہ مریض کے سر ہا نے کیا چیز رکھی ہے؟ مریض کو آکسیجن کس طریقے سے ملتا ہے؟ سکو لوں میں پڑ ھا یا جا تا تھا کہ روشن دان کو وینٹی لیٹر کہتے ہیں لیکن کورونا کے دوران وینٹی لیٹر کا اتنا استعمال ہوا کہ یہ نام سوئی دھا گہ اور برش، پا لش کی طرح ہماری روز مرہ گفتگو میں شا مل ہوا مریض کو ہسپتال لے جا نے سے پہلے گھر میں وینٹی لیٹر کا ذکر ہوتا ہے ہسپتال سے آنے والا ہر تیمار دار وینٹی لیٹر کا نا م لیتا ہے اور تا سف کیساتھ کہتا ہے کہ مریض کو وینٹی لیٹر نہیں دیا گیا اس طرح ما سک کا نا م 2019ء سے پہلے مخصوص طبقے کے علا وہ کسی کو نہیں آتا تھا کورونا کے ساتھ ما سک آیا تو ایسا آیا کہ چھا گیا اب ما سک کا لفظ دو پٹہ اور مفلر کی طرح ما نوس بن کر ہماری لغت کا حصہ بن گیا ہے اس طرح سینی ٹا ئزر کا نام مخصوص لو گوں کے سوا کوئی نہیں جا نتا تھا، پیشہ طب اور ہسپتال سے وابستہ لو گ اس نا م سے واقف تھے اب یہ نا م ہمارے گھروں میں داخل ہوا ہے خواندہ سے نا خواندہ تک سب کی زبان پر چڑ ھ گیا ہے کورونا کے جا نے کے بعد بھی سینٹائزر کا لفظ ہماری لغت میں رہے گا ہم اردو، پشتواور ہند کو میں اس لفظ کو ایسا ادا کرینگے گو یا یہ ہماری اپنی زبان کا لفظ ہو کورونا کی زبان یہاں ختم نہیں ہوتی آگے پلا زمہ تھراپی اور ویکسین کا ذکر آنے والاہے جیسا کہ ہم سب جا نتے ہیں یہ تما م الفاظ انگریزی سے ہماری مقا می زبا نوں میں داخل ہو رہے ہیں خود کو رونا بھی ایسا ہی لفظ ہے اس کے لئے نو بل کورونا کا نا م بھی استعمال ہوتا ہے کویڈ 19-کا نا م بھی لیا جاتا ہے ہمارے اباؤ اجداد اس کو مرض کہتے تھے ہم مرض نہیں کہتے انگریزی نا م سے پکارتے ہیں یہ بھی ثقافتی یلغار کی ایک صورت ہے کورونا سے ہماری آبادی کا بڑا حصہ محفوظ ہے مگر ثقا فتی یلغار سے کوئی محفوظ نہیں کورونا کی مار، کورونا کے وار، کورونا کا شکار، کورونا سے پنجہ آزما ئی، کورونا کو شکست جیسی باتیں اب عام ہو گئی ہیں جیسے کورونا کی وباء کسی وحشی درندہ کی طرح ہماری بستی میں داخل ہوئی ہو حا لانکہ کچھ نہیں ہوا یہ کورونا کی زبان ہے جو سر چڑھ کر بولتی ہے اور کا نوں میں رس گھولتی ہے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى