تازہ ترینناصر علی

یونیورسٹی کے لئے سب سے موزوں جگہ قاقلشٹ ہے…تحریر: ناصرعلی شاہ

چترال صوبائی دارالحکومت ، پشاور سے 322 کلومیٹر دور ہے۔ یہ علاقہ جو اب چترال ہے کم از کم 4،000 سالوں سے آباد ہے۔ اس کے افراد ایک درجن سے زیادہ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور 14 سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں۔ مردم شماری 2017 کے مطابق ، چترال کی آبادی 447،362 (225،846 مرد اور 221،515 خواتین) ہے۔
ان مردو خواتین میں تعداد کے لحاظ سے بھی اپر چترال کے افراد زیادہ ہیں.
چونکہ اب چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کیا جا چکا ہے اور اپر چترال کا ہیڈ کوارٹر بونی ہے اگر ہم بونی کو سنٹر کرکے پورے چترال کو دیکھے تو بونی سنٹر ہے یارخوں بروعل ,ریچ تریچ, ارندو اور ارسوں سب کے لئے رسائی اسان ہے. ایریا کے لحاظ سے قاقلشٹ سب سے بڑا اور کھلی جگہ ہے شوروغل سے دور, پرسکوں ماحول میں پڑھائی سونے پہ سوہاگہ ثابت ہوگا. چونکہ چترال میں سیلاب کا خطرہ رہتا ہے تو اسی لحاظ سے بھی یونیورسٹی کے لئے بہتریں جگہ ہے.
اگر ہم لوئر چترال اور اپر چترال کا موازنہ کرے تو اپر چترال ترقی کے لحاظ سے پیچھے ہے یونیورسٹی کا قیام اپر چترال میں رکھ کر برابری کی بنیاد بھی رکھی جاسکتی ہے.
میری حکومت سے مطالبہ ہے ان تمام بارکت کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کو اپر چترال میں بنانے کی منظوری دی جائے اور منتخب نمائندے بھی مخصوص علاقے کی فائدہ دیکھے بیغیر یونیورسٹی اپر چترال میں رکھنے کی کوشش کرے

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى