تازہ ترین

ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخواکا یونیسف کے تعاون سے شراکت دا ر اداروں کے نمائندوں کے لئے آگاہی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

پشاور(چترال ایکسپریس) ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخوا (ای۔ او۔ سی) نے یونیسف کے تعاون سے شراکت دار اداروں کے نمائندوں کے لئے منگل کو ایک روزہ آگاہی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کا مقصد پولیو کے بارے میں رائے عامہ میں ان کے کردار کوبہتر بنانے کے لیے پولیو پروگرام کی معلومات فراہم کرنا اور میڈیا اور کموئینٹی سے با ت چیت کی تربیت دیناتھا۔
ایڈیشنل سکریٹری ہیلتھ (پولیو) اور کوآرڈینیٹر ای۔ او۔ سی عبدالباسط، ٹیکنیکل فوکل پرسن ای ا۔او۔ سی ڈاکٹر امتیاز علی شاہ، ٹیم لیڈ این اسٹاپ ڈاکٹر اعجاز شاہ، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر وحید کامران، ٹیم لیڈ یونیسف ڈاکٹر اینڈریو، کموئنیکیشن ٹیم یونیسیف، سینئر صحافی اور ایڈیٹر انڈیپنڈنٹ نیوز ہارون رشید، معروف پیڈری ایٹریشن، ممبر پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن، پشاور یونیورسٹی کیااہم شعبوں کے پروفیسران، محکمہ تعلیم، محکمہ اطلاعات اور اسپورٹس ایسوسی ایشن کے نمائندگان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے افتتاحی کلمات میں تمام شرکا ء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ پولیو سے متعلق صحیح اور مستند معلومات کو میڈیا کے ذریعہ موثر انداز میں پھیلایا جائے اور امید ظاہر کی کہ شرکااس آگاہی و تربیتی ورکشاپ کے ذریعے درکار معلومات اور ہنر سے آگاہ ہوئے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی اور میڈیا کے ساتھ موثر رابطہ قائم کرنا اور صحافیوں کو حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرنا بہت اہم ہے۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ اس قومی مقصدکا ساتھ دیں اور ویکسینیشن پر عوام کا اعتماد حاصل ا کرنے کے لئے میڈیا کو فعال انداز میں پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنائیں۔
پروینشل پولیو ایریڈیکیشن آفیسر عالمی ادارہ صحت ڈاکٹروحید کامران نے شرکاء کو پولیو مرض، پولیو وائرس کے پھیلاؤ اور ویکسین کی حفاظت،افادیت اور استعمال کے بارے میں بتایا اور خطے سے پولیو کے خاتمے کے لئے بچوں کو ہر مہم میں ہر بار پولیو قطرے پلانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے شرکاء کو اس خطے (پاکستان اور افغانستان) میں روک تھام اور پولیو کیسز کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔
ٹیکنیکل فوکل پرسن ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخوا ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے اس موقع پرشرکاء کو عالمی، قومی اور علاقائی سطح پر پولیو سے متعلق معلومات فراہم کیں اور پو لیو کے خاتمے کے لیے اُٹھائے جانے والے اقدام اور ترجیحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے پولیو سے متعلق آگاہی سیشن میں کہا کہ لوگوں کے ذہنوں میں پولیو ویکسین سے متعلق غلط مہمیوں کودور کرنے کی ضرورت ہے جوڈاکٹر صاحبان اور پبلک ہیلتھ اداروں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور موثر اندازسے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتا یا سال2019 کے مقابلے میں 2020 میں پولیو کیسز کی تعداد نسبتاًکم رہی مگر پولیو کیس کی گنتی صفر تک محدود رکھنے کا واحد راستہ پانچھ سال سے کم عمر کے ہر بچے تک رسائی اور پولیو قطرے پلوانا ہے جو والدین کے اعتماداور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ والدین کے اعتماد حاصل کرنے میں ڈاکٹران، علما، صحافی اور تعلیمی شعبہ سے تعلق رکھنے والے معزز ین اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
کمیونیکیشن آفیسر یونیسف، شاداب یونس نے بھی پولیو سے متعلق غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے پولیو پروگرام کے عوام کے لیے پیغامات، انہیں پہنچانے کے ذریعے اور شراکت دار اداروں کے ممکنہ کردار پر بات چیت کی۔ کمیونیکیشن فار ڈیویلپمنٹ آفسر اسلام آباد اعجازرحمان نے ورکشاپ کے شرکاء کو کمیونٹی میں پولیوآگاہی سیشن کرنے کے موثر طریقوں پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو کے خاتمہ کے لئے خصوصی اقدام کے بارے میں وضاحت کا فقدان ہے جو حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے اورشراکت دار ادار ئے ا س سلسلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ایڈیٹر انڈیپنڈنٹ نیوز اردو ہارون رشید نے میڈیا کے ذریعے عوام سے موثر رابطے کے لئے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ہارون رشید نے شرکاء کو پریس ریلیز، کانفرنسوں، انٹرویوز، ٹاکشوز اور سوشل میڈیا کی اہمیت اور موثر استعمال کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے شرکاء کو موثر پیغام دینے کے اطوار کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
شرکاء نے اس موقع پر پولیو سے متعلق مختلف سوالات پوچھے اور صوبے میں والدین کی آگاہی دینے اور تعاون کے حصول کے لیے اپنی قیمتی آراء سے شرکا ء کو مستفید کیا۔ تربیتی ورکشاپ کے آخر میں شرکاء میں سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى