تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…وبائی تعلیم…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

تعلیم پہلے ہی دباؤ کا شکا تھی عالمی وباء نے تعلیم پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے گویا تعلیم کا شعبہ روز بروز سکڑ تا جا رہا ہے ایک ستم ظریف نے مو جو دہ صورت حا ل کو ”وبائی تعلیم“ کا نا م دے کر امر کر دیا ہے 2019ء سے پہلے سکو لوں، کا لجوں اور یو نیورسٹیوں کا جو ما حول تھا 2020میں وہ ما حول نہیں رہا با لکل الگ ما حول آگیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا وبائی مرض کے آنے جا نے کا کوئی شیڈول نہیں ہے یہ مرض جب چاہتا ہے منہ اٹھا کر آجا تا ہے اور جب چاہتا ہے چپکے سے باہر نکلتا ہے اس لئے وبائی تعلیم کا کوئی پتہ نہیں چلتا کہ کب تک ہمارے سروں پر سوار رہے گی اور کب ہماری جان چھوڑے گی ایک منظر پہاڑی گاوں کے پرائمیری سکول کا ہے جہاں 200بچے صبح سے لیکر دوپہر تک اونچی آواز میں اسباق پڑھتے تھے استاذ کی آواز بھی چار دیواری سے باہر سنا ئی دیتی تھی وبائی مرض کے بعد سکول کے باہر مکمل خا مو شی طاری ہے البتہ پا کستان کا سبز ہلا لی پر چم لہرا رہا ہے سکول کے اندر ہر کمرے میں 10بچوں کو ایک دوسرے سے 6فٹ کے فا صلے پر بٹھا یا گیاہے اس پہاڑی گاوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہے باہر ڈیڑھ فٹ برف پڑی ہے انگھیٹی کے پا س بیٹھ کر آگ تاپنے کی اجا زت نہیں سکول پر یتیم خا نے کا گماں ہوتا ہے ایسا یتیم خا نہ جس کے مکین ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، ہاتھ نہیں ملا تے سب کے منہ ڈھا نپے ہوئے ہیں باہر نلکے میں پا نی جم گیا ہے صابن وہاں رکھا ہے وہ بھی جم گیا ہے استاد کہتا ہے ہاتھ دھو نا بہت مشکل ہے اگر کسی کو جبر کر کے ہاتھ دھلوایا جائے تو اگلے دن کھا نسی زکا م اور بخار کے ساتھ گلے کی خراش جیسی بیما ریوں سے دوچار ہو جا تا ہے اور ہسپتال والے کہتے ہیں کہ یہ چار بیماریاں کو رونا کی علا متیں ہیں یہی کورونا ہے وبائی مرض کسی اور بیماری کا نا م نہیں یہ میدانی علا قے کے ایک پڑھے لکھے گھر کا منظر ہے ماں باپ دونوں پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں ایک دن ماں سکول جا تی ہے ایک دن باپ سکول جا تا ہے چار بچے ہیں دو بچے ہفتے میں ایک بار سکول جا کر ہوم ورک چیک کراتے ہیں دو بچے گھر پر آن لائن کلا س لیتے ہیں جب اُن سب کی آن لائن کلا سیں لگتی ہیں تو گھر کا عجیب ما حول ہو تا ہے کوئی لیپ ٹا پ پر نظر یں جما ئے بیٹھا ہے کوئی ٹیبلٹ پر کام کر رہا ہے سب الگ الگ کام میں مصروف ہیں کوئی دوسرے کے ساتھ نہیں بولتا ایک ساتھ بیٹھے ہیں مگر ساتھ نہیں ہیں میدانی اور پہا ڑی علا قوں میں ایسے بھی سکول اور کا لج ہیں جہاں کورونا کے خوف سے والدین اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے اساتذہ آکر دیوار وں سے باتیں کرتے ہیں اور فارسی مقو لے کو اپنی آنکھوں سے سچ مچ دیکھتے ہیں اور باور کر لیتے ہیں کہ دیوار وں کے بھی کا ن ہوتے ہیں چو پا ل، حجرہ، مسجد، کوٹا نی اور شادی یا غمی کے ما حول میں لو گ بیٹھے ہیں تو منہ ڈھا نپے ہوئے چھ فٹ کے فا صلے پر ایک دوسرے سے پو چھتے ہیں کہ سکو لوں کے امتحا نا ت کیسے ہونگے ریڈیوں یا ٹی وی پر خبریں سننے والے بتاتے ہیں آٹھویں جماعت سے نیچے کی کلا سوں میں امتحا نا ت کے بغیر بچوں کو پا س کیا جائے گا اخبار پڑھنے والے کہتے ہیں کہ حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ایک ادھیڑ عمر شخص کہتا ہے پچھلے سال میرے دو پوتے کورونا کی بر کت سے پاس ہو ئے کورونا نہ ہوتا تو دونوں کا فیل ہونا یقینی تھا اس طرح کوئی کورونا کی پہلی لہر کا شکر گزار ہے تو کسی نے کورونا کی دوسری لہر سے اولاد کے مفت پا س ہونے کی آس لگایا ہے جو بچے اور بچیاں پچھلے سال پا س ہو گئی تھیں ان میں سے اکثریت اس غم میں ہلکان ہے کہ اگلے امتحا نات میں اگر گولڈ میڈل بھی لیا تو کورونا پاس کے طعنے عمر بھر سننے کو ملینگے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى