تازہ ترینمحمد شریف شکیب

بے گھر ہونے والے قبائلیوں کے مسائل…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلیوں کو پاکستان کا دفاع کرنے والے بلامعاوضہ رضاکار کہا جاتا ہے۔ قبائلیوں کا قیام پاکستان، جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں غیر معمولی کردار رہا ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد ملک کے مغربی سرحدوں کے ان محافظوں کو ارباب اختیار و اقتدار نے نظر انداز کئے رکھا۔یہاں 70سال تک انگریز کا بنایاہوا کالا قانون ایف سی آر نافذ رہا۔موجودہ حکومت کے دور میں ایک کروڑ قبائلی عوام کو شناخت مل گئی اور وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہوگئے۔ اب انہیں قومی اسمبلی کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی نمائندگی مل گئی ہے عنقریب وہاں بلدیاتی ادارے بھی قائم کئے جائیں گے اور قبائلی عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے سلیپر سیلز ختم کرنے کے لئے پاک فوج نے جب آپریشن شروع کیا تو لاکھوں خاندانوں کو اپنا گھر بار، جائیدادیں، کاروبار، مال مویشی، فصلیں اور باغات چھوڑ کر صوبے کے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنی پڑی۔مالی طور پر مستحکم لوگوں نے پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو، کرک، لکی مروت اور دیگر شہروں میں گھر خرید لئے، کسی نے پلاٹ خرید کر مکان بنا لیا، کسی نے کرائے پر مکان حاصل کیا۔ کوئی اپنے رشتہ داروں کے پاس قیام پذیر ہوگئے جن لوگوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔ ان کے لئے حکومت نے نوشہرہ اور بنوں میں تین کیمپ قائم کئے جن میں جلوزئی، طوغ سرائی اور نیو درانی کیمپ شامل ہیں، نقل مکانی پر مجبور قبائلیوں نے مختلف علاقوں میں اپنے طور پر بھی درجنوں چھوٹے کیمپ قائم کرکے ان میں رہائش اختیار کرلی۔حکومت نے ان آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن بھی شروع کردی، رجسٹرڈ آئی ڈی پیز کو ماہانہ مالی امداد اور اشیائے خوردونوش کی فراہمی کا بھی انتظام کیا گیا مگر تیس سے چالیس فیصد آئی ڈی پیز جو حکومت کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھے۔ وہ امدادی رقم اور راشن سے بدستور محروم ہیں۔پاک فوج نے باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے آپریشن کرکے بیش بہاقربانیوں کے بعد امن بحال کیا تو آئی ڈی پیز کی گھروں کو واپسی شروع ہوگئی۔نادرا ریکارڈ کے مطابق قبائلی علاقوں سے تین لاکھ 74ہزار 819خاندانوں نے نقل مکانی کی تھی ہر خاندان مرد، خواتین اور بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد پر مشتمل ہوتا ہے گویا 25لاکھ افراد گھروں سے بے گھر ہوچکے تھے امن کی بحالی کے بعد ڈیڑھ لاکھ خاندان اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں تاہم اب بھی دو لاکھ 85ہزار سات سو خاندان گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں سرکاری دستاویزات کے مطابق باجوڑ سے 86ہزار 407، ایف آر ٹانک سے 2256، خیبر سے 86ہزار399، کرم سے 45ہزار 919، مہمند سے 48954، اورکزئی سے 65228خاندانوں نے نقل مکانی کی تھی، شمالی اور جنوبی وزیرستان کی تقریبا پوری آبادی آئی ڈی پیز کیمپوں میں منتقل ہوئی۔ آئی ڈی پیز میں پیرانہ سال بزرگ، نوجوان مردوخواتین، جوانسال لڑکے و لڑکیاں اور شیر خواربچوں کے علاوہ 69ہزار حاملہ خواتین بھی شامل تھیں۔ان پر بے سروسامانی کے عالم میں کیا گذری، یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔بے گھر ہونے والے افراد اپنے گھروں کو واپس جانے کے لئے بے تاب ہیں لیکن واپسی کے راستے میں بے شمار رکاوٹیں ہیں اگرچہ پاک فوج اور حکومت کی کوششوں سے تمام قبائلی علاقوں میں امن بحال ہوچکا ہے دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع ہوا ہے تاہم دہشت گردی کے واقعات اور فوجی آپریشن کی وجہ سے لوگوں کے گھربار، دکانیں، کاروباری مراکز، زرعی زمینیں، باغات، نہری نظام اور معاشرتی انفراسٹریکچر تباہ ہوچکا ہے اگر بے گھر ہونے والے خاندان واپس جائیں تو کہاں رہیں اور کیا کھائیں۔سیکورٹی فورسز اور حکومت نے مختلف قبائلی علاقوں میں ہسپتال اور سکول قائم کئے ہیں، سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں نہری نظام کو بحال کیاجارہا ہے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکمت عملی طے کی جارہی ہے۔تاہم وسائل کی کمی آڑے آرہی ہے۔قبائلی علاقوں میں تعمیر نو کا ساراکام صرف فوج اور حکومتی ادارے سرانجام نہیں دے سکتے، خود قبائلیوں کو اس تعمیر و ترقی میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی کے کام پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز رکھے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى