تازہ ترینمحمد شریف شکیب

دشمن کی ممکنہ مہم جوئی…محمد شریف شکیب

محکمہ انسداد دہشت گردی نے لاہور میں کامیاب کارروائی کرکے پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے گرفتار دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے ان کے قبضے سے بھارت کے ویزے اور پاکستان کے حساس مقامات کی ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت کالعدم تحریک طالبان کے ثمرقند،عبدالرحمان،عمران،وزیر گل اور عصمت اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔دہشتگردوں کے قبضے اسلحہ،دھماکہ خیز مواد،ہینڈ گرینیڈز،ملکی و غیر ملکی کرنسی اورحساس مقامات سمیت سول سیکرٹریٹ لاہور کی ویڈیوز اور نقشے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ بتایاگیا ہے کہ لاہور اور ملک کے دیگر شہروں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی افغانستان کے شہر جلال آباد میں تیار کی گئی تھی جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے افسران نے بھی شرکت کی تھی پاکستان میں تخریبی کاروائیوں کے لئے بھارت کی طرف سے دہشتگردوں کی مالی معاونت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔حال ہی میں یورپی یونین ڈس انفو لیب نے پاکستان کے خلاف بھارتی منفی پروپیگنڈے اور سائبر وار کا پول کھول دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت جعلی خبروں کے ذریعے منفی پروپیگنڈا کررہا تھا، پندرہ برس سے بھارت پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتا چلا آرہا ہے، نیٹ ورک کو سری واستو گروپ اور اے این آئی نیوز ایجنسی ملکرچلا رہے تھے،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت بہت سی جعلی این جی اوز کے نام بھی استعمال کررہاتھا،پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کے پاکستان مخالف فیک نیوز، جعلی میڈیا سائٹس کے معاملے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیاہے۔وزیر خارجہ نے بھی بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی جارحیت کی گئی توپاکستان اس کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ سرحدوں پرممکنہ فالس فلیگ آپریشن کا جواب دینے کے لئے پاک فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔بھارت کا یہ پرانا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی اسے اندرونی طور پر مسائل کا سامنا ہوتا ہے وہ سرحدوں میں کشیدگی پیدا کرکے دنیا کی توجہ اپنے اندرونی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔اس وقت بھارت میں علیحدگی کی ایک درجن سے زائد تحریکیں چل رہی ہیں۔متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج نے بھارت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تاجر، وکلاء، اساتذہ، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی نے بھی کسانوں کے حقوق کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیاہے۔ کنینڈا کے وزیراعظم نے بھی کسانوں کے حقوق پامال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے دوسری جانب بھارت کے اندر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف بھی دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لئے بھارت نے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرکے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے اپنے پرانے طریقے کو آزمانا چاہتا ہے۔ لداخ میں چین کے ہاتھوں عبرتناک ہزیمت اٹھانے کے بعد اس نے پاکستان کو تختہ مشق بنانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔افغانستان میں تعمیرنو کے منصوبوں میں شامل ہونے کی آڑ میں بھارت نے اپنے ایجنٹ پورے ملک میں پھیلادیئے ہیں جو پاکستان کے اندردہشت گردی کی کاروائیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں لاہور سے افغان دہشت گردوں کی گرفتاری اس کی واضح مثال ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کے لقموں پر پلنے والے ہمارے مسلمان افغان بھائی ہی ہمارے دشمن کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پراپنی ہی لگائی ہوئی آگ کو ہوا دے کر بھارت نے پلوامہ ڈرامے کی طرز پر مہم جوئی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔پاک فوج نے 27فروری2019کو بھارت کے بالاکوٹ ڈرامے کا جو منہ توڑ جواب دیا تھا۔ وہ زخم ابھی تک ہرے ہیں۔موجودہ کشیدہ صورتحال میں سرحدوں پر اگر کوئی چنگاری بھڑکائی گئی تو اس سے ہولناک آگ بھڑک سکتی ہے۔ اس مرحلے پر دشمن کے دانت کھٹے کرنے اور ملکی سلامتی کے دفاع کے لئے قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔فروعی اختلافات کو لے کر ہم آپس میں دست وگریباں رہے تو دشمن اس کا فائدہ اٹھاسکتا ہے۔اس لئے پوری قوم کو تمام سیاسی، مسلکی، فرقہ وارانہ، لسانی، علاقائی اور گروہی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کا دفاع کرنے کے لئے یکجاں ہونے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا احساس کرتے ہوئے قومی سطح پر اتحاد و اتفاق اور یک جہتی کی فضاء پیدا کرنے اور دشمن کا مل کر مقابلہ کرنے کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى