تازہ ترینمحمد شریف شکیب

سٹیٹس مین سپرٹ..محمد شریف شکیب

امریکی سپریم کورٹ نے چار ریاستوں میں صدارتی انتخابات کے نتائج کالعدم قرار دینے کے لئے ریاست ٹیکساس سے دائر ایک آئینی درخواست کو مسترد کردیا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ریاست ٹیکساس کی جانب سے شکایات کی اجازت کے لئے آئین کے آرٹیکل تھری کے تحت کوئی آئینی جواز فراہم کیاگیا نہ ہی سماعت کے لئے کسی دوسری ریاست کے انتخابی طریقہ کار سے متعلق کوئی عدالتی بنیاد فراہم کی گئی۔تین جملوں پر مشتمل عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ باقی تمام زیر التوا تحاریک کو قرارداد کی حیثیت سے مسترد کیاجاتا ہے۔امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اور موجودہ صدر ٹرمپ کی طرف سے رپبلکن امیدوار جو بائیڈن کے خلاف سیاسی جنگ میں عبرت ناک شکست قرار دیا جارہا ہے۔منتخب صدر جوبائیڈن کے ترجمان مائیک گیوین نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ نے جمہوری عمل پر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسکے اتحادیوں کے تازہ ترین حملوں کو فیصلہ کن انداز میں مسترد کردیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا الزام اس حوالے سے مضحکہ خیز لگتا ہے کہ حکومت ڈیموکریٹک پارٹی کی ہے۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی پارٹی کیسے دھاندلی کرسکتی ہے۔ یہ الزام تو اپوزیشن کو لگانا چاہئے کہ وہ بھاری اکثریت سے جیت رہی تھی بعض حلقوں میں دھاندلی کرکے حکومت نے ان کی جیت کا مارجن کم کردیا ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی نے دھاندلی کے معاملے کو سڑکوں پر لانے کے بجائے عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کی جو ایک مہذب اور جمہوری طریقہ ہے۔امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرح پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں بھی 2018کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں۔پاکستان اور امریکی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات میں فرق یہ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے انتخابات کے فوراً بعد یہ اعتراض اٹھایا ہے جبکہ ہمارے ہاں کی سیاسی جماعتوں کو ڈھائی سال بعد غصہ چڑھ گیا۔امریکہ اور پاکستان کے جمہوری نظام میں دوسرا بڑا اور اہم فرق یہ ہے کہ امریکہ کی حکمران جماعت نے یہ خالص قانونی معاملہ عدالتوں میں اٹھایا جبکہ ہمارے ہاں کی اپوزیشن کو عدالتوں پر اعتماد نہیں ہے کیونکہ ان میں سے بعض عدالتوں نے کچھ اپوزیشن رہنماؤں کو کرپشن اور اختیارات کے غلط الزامات کی بنیاد پر سزائیں سنائی ہیں۔اس لئے انہوں نے عدالتوں میں جانے کے بجائے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈھائی سال قبل جب انتخابات ہوئے تھے اس وقت موجودہ حکمران جماعت پی ٹی آئی اپوزیشن میں تھی۔ وہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہوہی نہیں سکتی تھی۔ اس نکتے کی بنیاد پر اپوزیشن نے اسٹبلشمنٹ کو دھاندلی کے ذریعے تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کا الزام لگایا ہے۔گویا ہمارے ہاں اپوزیشن کا اصل جھگڑا حکمران جماعت کے ساتھ نہیں، خود مسلم لیگ کے سرپرست اعلیٰ اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی بھرے جلسے میں کہہ چکے ہیں کہ ان کا گلہ عمران خان سے نہیں ہے نہ ہی وہ انہیں دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں سے شکایت ہے۔گلے، شکوے اور شکایتیں گھروں میں بھی خون کے رشتوں کے درمیان ہوتی رہتی ہے یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ کچھ لوگ اپنے متعلق کچھ زیادہ ہی خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں وہ بہت اونچی توقعات باندھتے ہیں جب وہ توقعات پوری نہیں ہوتیں تو انہیں غصہ آتا ہے یہ عین انسانی فطرت ہے۔ماضی میں بھی ہمارے ہاں یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ ہارنے والے اپنی شکست کو دھاندلی کی وجہ قرار دے کر عوام میں اپنی رہی سہی عزت بچانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کا حق ہے۔تاہم جمہوری رویوں کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی شکست کو دل سے تسلیم کیاجائے اور جیتنے والوں کو مبارک باد دینے کے ساتھ قومی معاملات میں ان سے تعاون کی یقین دہانی کرائی جائے۔کھیل ہو یا سیاست۔ کسی ایک ٹیم اور پارٹی کو فتح اور ایک کو شکست قبول کرنا ہوتا ہے اگر ہارنے والا آسمان سرپر اٹھالے اور کھیل کا میدان کھود کر برباد کرنے پر تل جائے تو یہ سپورٹس مین سپرٹ اور سٹیٹس مین سپرٹ کے منافی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہمارے سیاست دانوں کو بھی سٹیٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى