تازہ ترین

صحت کے اداروں کو صحیح معنوں میں فعال بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں دور افتادہ اور دیہاتی علاقوں میں بنیادی مراکز صحت اوردیہی مراکز صحت کے علاوہ سکولوں کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صحت کے اداروں کو صحیح معنوں میں فعال بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے ان کے حلقوں میں نشاندہی کردہ عوامی مفاد کے حامل اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور اُن کی بروقت تکمیل کیلئے مالی وسائل کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں عوامی مسائل کے ازالے اور ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے ہر ماہ ڈویژن وائز اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ صوبائی حکومت صوبے کی یکساں ترقیاتی حکمت عملی کے تحت تمام اضلا ع میں جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے نہایت سنجیدہ ہے جس کے لئے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے منگل کے روز ہزارہ ڈویژن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی، ممبران صوبائی کابینہ اکبر ایوب خان، حاجی قلندر لودھی، تاج محمد ترند اور سید احمد حسین شاہ کے علاوہ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی اور متعلقہ صوبائی، وفاقی محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ہزارہ ڈویژن کے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ اجلاس کو ہزارہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہزارہ کے مختلف اضلاع میں مجموعی طو رپر 74 ارب روپے سے زائدکی لاگت کے 226 ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں، جن کیلئے رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 7.956 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے مختلف منصوبوں کیلئے اب تک تقریباً5 ارب روپے جاری کئے جاچکے ہیں۔ مختلف اضلاع کی آبادی اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترقیاتی حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضلع ایبٹ آباد کیلئے مختلف شعبوں میں 85 منصوبے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں جن کا تخمینہ لاگت 22 ارب روپے سے زائد ہے۔ضلع ہری پور کیلئے مختلف شعبوں میں 71 منصوبے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں جن کا مجموعی طو رپر تخمینہ لاگت 27 ارب روپے ہے۔ اسی طرح ضلع مانسہرہ کے 44 منصوبوں کا تخمینہ لاگت 10.568 ارب روپے ہے۔ علاوہ ازیں بٹگرام،کوہستان اور تور غر کے 70 کے قریب اہم ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت 14287 ملین روپے ہے۔ اجلاس میں ایبٹ آباد کے میگا منصوبوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دھ متوڑ بائی پاس روڈ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی اپ گریڈیشن، قلند رآباد بائی پاس روڈ، مین مانسہرہ روڈ کے سیوریج سسٹم کی بہتری اور دیگر اہم منصوبوں پر تیز رفتار پیشرفت کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ضلع کے مسائل کا دیر پا حل یقینی بنانے کیلئے قابل عمل ماسٹر پلان وضع کرنے کی ہدایت کی اور عندیہ دیا کہ پلان پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔ اُنہوں نے خصوصی طور پر مین مانسہرہ روڈ پر نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ وہ اس مسئلے کے حل کیلئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی سے بات کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نہ صرف ایبٹ آباد بلکہ تمام اضلاع میں پہلے سے جاری منصوبوں کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے ایک امبریلا سکیم منظور کی گئی ہے۔ منتخب عوامی نمائندے اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی سکیموں کی ترجیحات سے آگاہ کریں، تکمیل کے قریب اور اہم سکیموں کو مکمل کرنا ترجیح ہو گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ الائی ڈگری کالج بٹگرام پر 90 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ رواں مالی سال کے اندر ہی یہ کالج مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ضلع بٹگرام میں آبنوشی کی سکیموں کی بحالی بھی امبریلا سکیم میں شامل ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ہری پور بائی پاس روڈ پر60 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کو رواں مالی سال کے اندر مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ضلع ہری پور میں ہائی سکولوں کی سٹینڈر ڈائزیشن اور مکمل شدہ ہسپتالوں کیلئے آسامیوں کی تخلیق کا عمل جلد مکمل کرنے اور ضلع ہری پور سمیت ہزارہ کے دیگر اضلاع میں پولیس کی نفری میں اضافہ کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گزارہ فارسٹ کے احاطہ میں پہلے سے موجود سڑکوں اور انفراسٹرکچر کو بہتربنانے پر کام کرنے کے حوالے سے باضابطہ ایس او پیز وضع کرکے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ جنگلات کا تحفظ بھی یقینی ہو سکے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے۔ اجلاس میں شاہراہ ریشم کی توسیع و بحالی کے حوالے سے مسائل کے حل کیلئے متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ضلع کوہستان سمیت ہزارہ کے دیگر اضلاع میں این ایچ اے کے تحت جاری تمام سڑکوں کے مسائل اور ضروریات کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ آئندہ اجلاس میں اس پر بھی تفصیل سے بات کی جائے گی۔ اُنہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ اور اضلاع کی اپ لفٹنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور ا س سلسلے میں جاری تمام منصوبوں کیلئے مکمل وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ضلع کولئی پالس میں صوبائی محکموں کو فعال بنانے کیلئے ایس این ایز کی تخلیق کا عمل تیزرفتاری سے مکمل کرنے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہستان کو ترجیحی بنیادوں پر فعال بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضلع مانسہرہ میں میڈیکل کالج کے قیام کے حوالے سے محکمہ تعلیم، صحت اور منصوبہ بندی و ترقیات کے حکام کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے کہاکہ ضلع میں ڈگری کالج برائے خواتین میں آئندہ سیشن سے کلاسز کا اجرائیقینی بنایا جائے گاجبکہ بوائز ڈگری کالج کے قیام کیلئے فیزبیلٹی بھی رواں ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضلع مانسہرہ میں گریوٹی سکیم کی فزبیلٹی پر نظر ثانی کا عمل تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے درابند میں گرلز ڈگری کالج کے قیام کی ضرورت سے اُصولی اتفاق کیا اور متعلقہ حکام کو منصوبے کی فزبیلٹی منعقدکرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیرا علیٰ نے کہاکہ موجودہ حکومت عوام کو درپیش مسائل کے خاتمہ کیلئے دستیاب وسائل کے مطابق ہر ممکن اقدامات اُٹھا رہی ہے۔ ترقیاتی حکمت عملی کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے ماہانہ بنیادوں پر ڈویژن وائز اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگلا اجلاس پشاور ڈویژن کے حوالے سے ہو گا جس میں تمام محکموں کے اعلیٰ انتظامی حکام کی شرکت یقینی بنائی جائے تاکہ مسائل کا حل یقینی ہو سکے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى