تازہ ترین

الیکٹرانک میڈیا پر بڑھتی ہوئی بے حیائی اور معاشرے پر اس کے منفی اثرات پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا اظہار تشویش اور حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ

چترال (چترال ایکسپریس) ملک میں ابلاغ و نشریات کے اداروں بالخصوص الیکٹرانک میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور فحش مواد کا طوفان برپا ہے۔بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل فون اور کیمرہ موجود ہے جدید ٹیکنالوجی نے اپنی افادیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اخلاقی زوال پذیری کاایک بڑا راستہ بھی کھول دیا ہے جس کی نگرانی اور اس پر بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ہر محب وطن اور احساس زیاں رکھنے والے پاکستانی کی طرح حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے ذمہ داران ملک میں اخلاق و روایات کی تیزی سے زوال پذیر صورتحال پر رنجیدہ اور فکرمند ہیں۔
اس حوالے سے میڈیا سیل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور چیئرمین پی ٹی وی نعیم بخاری کے نام علیحدہ خطوط ارسال کئے گئے ہیں جن میں پی ٹی وی نجی چیبلز،موبائل فون اور انٹرنیٹ پر اخلاق سوز مواد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تشہیر کی روک تھام پر مبنی تفصیلی تجاویز دی گئی ہیں اور ُامید کی گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین پی ٹی وی ان تجاویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کریں گے.
واضح رہے کہ ملک میں اخلاق و اقدار کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر وزیر اعظم عمران خان اپنے ایک بیان میں تشویش کا اظہار کر چکے ہیں
حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی جانب سے ارسال کردہ خطوط میں
آئین پاکستان کی روشنی میں ترتیب دئے گئے پیمرا قوانین کا موثر عملی نفاذ،اشتہارات میں عورت کے وقار اور اخلاقی حدود کی پاسداری کے ساتھ ڈراموں میں رشتوں کے تقدس اور خاندانی نظام کی اہمیت کو اُجاگر کرنے،مخصوص مذہبی ایام کو کمرشلائز کرنے کی بجائے ان کی دینی روح اور تقدس کو بنیاد بناتے ہوئے معاشرے کی تعلیم و تربیت کا مطالبہ کیا گیا علاؤہ ازیں خطوط میں بچوں کے لئے دین و اخلاقیات پرمبنی تفریحی اور تعلیمی نشریات کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے حوالے سے دیگر اہم تجاویز اور مطالبات بھی شامل ہیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى