تازہ ترین

چترال میں ڈاکٹروں کا سوشل میڈیا ٹرائل۔۔۔ڈاکٹر آصف علی شاہ صدر ڈاکٹرز فورم چترال

چترال میں ڈاکٹروں کا سوشل میڈیا ٹرائل اور اسکے ذریعے سے ڈاکٹروں کی کردار کشی کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔اس کی ایک مثال ذیل کا واقعہ ہے۔۔
10 د سمبر 2020 کی رات 8 بجکر 30 منٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چترال کے گائنی یونٹ میں اپرچترال سے ایک مریضہ کو لائی جاتی ہے۔۔مریضہ لیبر روم میں داخل ہوتی ہے یعنی انکے بچہ پیدا ہونے کا وقت بالکل قریب ہوتاہے۔۔یہ اُنکا دوسرا حمل ہے۔۔پہلے بھی انکی ڈیلوری ایک بڑے اپریشن کے ذریعے ہو چکی ہے۔۔اس وقت اُنکا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہے۔معائنہ سے پتہ چلتا ہے کہ مریض کے contracted pelvis ہے یعنی اُسکا نارمل ڈیلوری ممکن نہیں ہے۔۔ایمرجنسی میں مریض کے سارے ضروری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انکو صحت کے دیگر مسائلِ بھی لاحق ہیں۔۔۔اُن وجوہات کی بنا پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرجو کہ فی سی پی ایس ٹرینڈاور اسپشلسٹ ڈاکٹرہیں،کو یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ ماں اور بچے دونوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔۔اس لئے اُنہوں نے کوئی وقت ضایع کیے بغیر گائنی یونٹ کے انچارج ڈاکٹر او رgynaecologist سے مشورے کے بعد مریض کے آپریشن کا فیصلہ کرتی ہے۔۔مریض کے رشتے دار کو اِس حالت سے آگاہ کرنے کے بعد ان سے high risk consent لی جاتی ہے اور یہ دونوں ڈاکٹرز ملکر مریض کی سرجری کرتے ہیں اور اللہ کے فضل و کرم سے بچے کو بچا لیا جاتا ہے۔سرجری کے بعد مریض کو stable کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔میڈیکل اسپشلسٹ کو کال دے کر اسی رات گھر سے بلایا جاتا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد دوسرامیڈیکل اسپشلسٹ بھی پہنچ جاتا ہے۔۔تمام ممکنہ علاج اور اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن مریض جان بر نہ ہوسکی اور اُسکا انتقال ہوجاتا ہے۔۔
یہ گائنی یونٹ کے رواں سال کی پہلی موت ہوتی ہے یعنی پورے سال میں گائنی یونٹ میں صرف ایک مریض کی موت واقع ہوتی ہے۔حالانکہ اسی یونٹ میں روزانہ کی بنیاد پرہزاروں مریض آتے ہیں،داخل ہوتے ہیں،سالانہ ہزاروں اپریشنزہوتے ہیں،ہزاروں بچے پیدا ہوتے ہیں،ہزاروں ڈیلیوری ہوتے ہیں۔۔اور پورے سال میں موت صرف ایک ہے۔اس لئے یہ اپنی جگہ ایک ریکارڈ تو ہے ہی اورگائنی یونٹ کے ڈاکٹرزاس کارکردگی پر یقینی طور پر خراج تحسین کے بھی مستحق ہیں۔
لیکن آب آگے دیکھئے ہوتا کیاہے۔ہوتا یہ ہے کہ اسی ایک واقعے کو لے کرسوشل میڈیامیں ایک غیر متعلقہ شخص مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ایک پوسٹ کرتاہے۔اورڈاکٹروں پر مریض کے ٹیسٹس کیے بغیر سرجری کرنے کا منگھرت اور جھوٹا الزام لگاتاہے۔ڈاکٹروں کو نالائقی کا طعنہ دے کر انکے عزتوں سے کھیلنے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے اور انکے کردار کشی کے لیے واھیات بکے جاتے ہیں۔۔
ایک طرف چترال کے تمام ہسپتال میں ڈاکٹروں کی شدید قلت ہے۔۔صرف ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں ڈاکٹروں کے 60خالی پوسٹیں ہیں۔۔عوام کا بّھی چترال کے ڈاکٹروں سے یہ شکوہ ہے کہ وہ چترال میں آکر اپنے قوم کی خدمت نہیں کرتے اور دوسری طرف حالات یہ ہیں۔ڈاکٹرکو ٹارگٹ کرنا چونکہ نسبتاً آسان ہے اس لئے چترال میں ڈاکٹروں کی سوشل میڈیا کے زریعے کردار کشی معمول بن گیا ہے۔۔۔
اس لئے ہم چترال ڈاکٹرز فورم کے پلٹ فارم سے چترال کے ڈاکٹر کمیونٹی کی طرف سے تمام اسٹیک ہولڈر،ضلعی انتظامیہ،سیاسی لیڈرشپ اورسول سوسائیٹی کے تعلیم یافتہ اور باشعور حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اِس بیہودہ رجحان کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اس بہیمانہ روش کی وجہ سے ڈاکٹرز چترال کے بجائے دوسرے علاقوں میں کام کرنے پرترجیح دیتے ہیں اور اسکا حتمی نقصان چترال اور چترال کے عوام کو ہوتاہے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى