تازہ ترین

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے فوڈ سکیورٹی پالیسی کے مسودے سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی اُصولی منظوری دے دی

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پرپہلی فوڈ سیکیورٹی پالیسی تیار کرلی ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے فوڈ سکیورٹی پالیسی کے مسودے سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی اُصولی منظوری دے دی ہے جبکہ پالیسی کو حتمی منظوری کے لیے آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔خیبرپختونخوا فوڈ سکیورٹی پالیسی تیار کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔اس پالیسی کے اہم مقاصد میں صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے علاوہ ، لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ، غربت کا خاتمہ کرنا اور صوبے کی معشیت کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینا ہے ۔
فوڈ سکیورٹی پالیسی کے حوالے سے ایک اجلاس بدھ کے روز وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مذکورہ پالیسی کا مسودہ وزیراعلیٰ کو پیش کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ پالیسی کو صوبے میں زرعی پیداوار کی کمی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے اس پالیسی پر عمل درآمد کیلئے ایکشن پلان کی بھی منظوری دے دی ۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظفر علی شاہ ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو فوڈ سکیورٹی پالیسی کے مختلف پہلوﺅں پر بریفینگ دیتے ہوئے بتا یا گیا کہ پالیسی پر عملدرآمد کے لئے قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی پلان مرتب کئے گئے ہیں۔ قلیل المدتی پلان دو سے تین سالوںپر محیط ہوگا جس کا تخمینہ لاگت 56 ارب روپے ہے،وسط المدتی پلان چار سے سات سالوں پر محیط ہوگا جس کا تخمینہ لاگت 109 ارب روپے ہے جبکہ طویل المدتی پلان آٹھ سے دس سال پر محیط ہوگا جس کا تخمینہ لاگت 70 ارب روپے ہے۔ مزید بتایا گیا کہ قلیل المدتی پلان کے تحت صوبے میں زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لیے 19 مختلف اقدامات تجویز کئے گئے ہیں،وسط المدتی پلان کے تحت 24 مختلف اقدامات اٹھا ئے جائیں گے جن میں مختلف چھوٹے ڈیموں کی تعمیر ، موجودہ ڈیموں کی ریزنگ کے علاوہ کمانڈ ایریاز کی توسیع اور اقدامات شامل ہیں جبکہ طویل المدتی پلان کے تحت نو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جن میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کے علاوہ بڑے پیمانے پر زیتون کی کاشت اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قلیل المدتی پلان پر عمل درآمد سے صوبے کوسالانہ 21 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے ۔ اسی طرح وسط المدتی پلان پر عمل درآمد سے 18 ارب روپے جبکہ طویل المدتی پلان پرعمل درآمد سے سالانہ 22 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ پالیسی میں فوڈ سکیورٹی کے لئے محکمہ زراعت اور آبپاشی سمیت دیگر تمام متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے،پالیسی میں زرعی اجناس کے علاوہ پھلوں، سبزیوں، لائیو اسٹاک، ماہی پروری، خوردنی تیل کے بیجوں اور دیگر پیداوار کو بڑھانے کے لئے جامع حکمت عملی وضع کی گئی ہے، پالیسی میں زراعت کے مختلف شعبوں میں جدید تحقیق پر خصوصی زور دیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے محکمہ زراعت ، اعلیٰ تعلیمی اداروں ، نجی شعبے اور دیگر شراکت دار اداروں کے درمیان مربوط روابط قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ پالیسی میں صوبے میں ایگریکلچر بزنس ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
فوڈ سکیورٹی پالیسی اور ایکشن پلان پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے محکمہ منصوبہ بندی کو اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے درکار فنڈز کی فراہمی کا انتظام کرنے ، محکمہ زراعت کوپلان پر عملدرآمد کے لیے اپنی استعداد کار میں اضافہ کرنے جبکہ محکمہ آبپاشی کو ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر پیشرفت کے لئے دو ہفتوں کے اندر ٹائم لائنز کے ساتھ پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ زرعی خود کفالت کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى