تازہ ترینناصر علی

دروش ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کی غیرموجودگی میں نرسزکی خدمات قابل قدرہیں…تحریر: ناصر علی شاہ

ملک میں کورونا کی لہر ہو یا ہیلتھ ایمرجنسی نرسز ہمیشہ فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتی ہیں. تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دروش میں پچھلے 14 مہنوں سے لیڈی ڈاکٹر نہیں, مختلف پارٹیوں کی طرف سے خاتون ڈاکٹر کی تعیناتی کے لئے احتجاج ریکارڈ کروائے جا چکے ہیں اور کروانا بھی چائیے تھا کیونکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دروش میں اتنے لمبے عرصے تک گائنیکالوجسٹ کا نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے.
لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں اپر چترال سے تعلق رکھنے والے نرسز نے بھر پور خدمات انجام دی مریضوں کو بہتریں سہولیات مہیا کی, گائنی و لیبرروم میں شاندار سروس پیش کرکے کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیا.
لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں انہی نرسز نے 1540 ڈیلیوریان کی اور ان میں سے صرف 15 مریضوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال ریفر کئے, اللہ کے فضل و کرم سے دوران زچگی کوئی فوتگی نہیں ہوئی اور سارے مائیں, بچوں کیساتھ صحت یاب ہوکر ڈسچارج ہوگئے. یہ نرسز جو گائنی میں مہارت رکھتی ہیں اور الٹراساونڈ میں بھی ان کو عبور حاصل ہے. ان کے خدمات قابل تحسین اور قابل تعریف ہیں جنہوں لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی اپنی مہارت کو بروئے کار لاکر نہ صرف بہتریں ڈیلیوریاں کی بلکہ اپنے ہسپتال ,میڈیکل سپرینٹڈنٹ بلکہ پورے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی لاج رکھی. ہماری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ دروش سے گزارش ہے کہ ان کو ٹوکن اف اپریسیشن سے نوازا جائے.
دروش کے عوام کی طرف سے بھی نرسز کی بہترین خدمات پر ان کی حوصلہ افزائی کی جانا چاہئے تاکہ یہ نرسز بہتریں جزبے کیساتھ مریضوں کی خدمت کرے

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى