تازہ ترینمحمد شریف شکیب

کنزیومرکورٹ۔۔محمد شریف شکیب

کراچی سے خبر آئی ہے کہ ایک شہری مناسب علاج نہ کرنے پر ڈاکٹر کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کنزیومر کورٹ پہنچ گیا۔ ملیر سے تعلق رکھنے والے شہری کا کہنا ہے کہ اس کے کمر میں تکلیف تھی ڈاکٹر نے کمر کا درد ٹھیک کرنے کا دعوی کیا تھا جبکہ علاج کے بعد درد کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔ درخواست گذار کا کہنا تھا کہ میری کمر کی تکلیف بڑھنے پر ڈاکٹر کی جانب سے کوئی معقول جواز بھی نہیں بتایا گیاآپریشن کے لئے اس نے ڈاکٹر کو بھاری فیس ادا کی تھی۔ مالی نقصان اور جسمانی تکلیف پر شہری نے ڈاکٹر کے خلاف 30لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔کنزیومر کورٹ نے درخواست سماعت کے لئے منظور کرلی او ر فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔چند روز قبل کراچی ہی کے ایک شہری نے مقامی دکاندار کے خلاف کنزیومر کورٹ میں ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ کراچی ایسٹ سے تعلق رکھنے والے درخواست گذار کا موقف تھا کہ اس کی بیوی نے طارق روڈ پرجوتوں کی دکان سے سولہ سو روپے میں جوتے خریدے تھے جوچند دنوں کے اندر ٹوٹ گئے دھوکہ دہی سے زیادہ قیمت لے کر غیر معیاری جوتے بیچنے والے دکاندار پر جرمانہ کیاجائے اور اس کا مالی نقصان پورا کیا جائے۔بظاہر معمولی نظر آنے والے یہ واقعات عوامی آگاہی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔وطن عزیز میں ایسے ادارے موجود ہیں جہاں شہری اپنی شکایات درج کراسکتے ہیں ایسی مخصوص عدالتیں بھی قائم ہیں جہاں سے نقصان کی تلافی ہوسکتی ہے۔ہماری لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ آئین اور ملک کے مروجہ قوانین میں ہمارے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے مگر ہم ان قوانین سے لاعلم ہیں قانون میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ واپڈا اور محکمہ سوئی گیس کا میٹر ریڈر آپ کا میٹر اتار کر لے جائے تو آپ اس کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کرواسکتے ہیں کیونکہ میٹر صارف کی ملکیت ہے جسے اس نے قیمت ادا کرکے خریدا ہے۔ میٹر ریڈر طویل عرصے تک بل جمع نہ کرانے اور نوٹس کا جواب نہ دینے کی صورت میں اپنی تار آپ کے میٹر سے جدا کرسکتا ہے میٹر اتار کر لے جانے کا اسے کوئی حق اور اختیار حاصل نہیں، قانون میں یہ بھی لکھا ہے کہ میٹر سے تار الگ کرنے کے باوجود میٹر ریڈر صارف کو بجلی کی سہولت سے محروم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ وہ ڈائریکٹ کنکشن کے ذریعے صارف کو بجلی کی فراہمی اس وقت تک جاری رکھنے کا پابند ہے جب تک وہ بل جمع کرکے میٹر بحال کرنے کی درخواست نہیں دیتا۔ہمارے ہاں 99فیصد لوگ اپنے اس قانونی حق سے لاعلم ہیں جس کا میٹر ریڈر مسلسل ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور لاچار صارفین کو لاکھوں کروڑوں کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔قانون کے پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد اور پولیس بھی عوام کی لاعلمی کا بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے اپنے نومولود بچے کے کان میں اذان دینے، نماز کی امامت کرنے اور نماز جنازہ پڑھانے کا طریقہ ہم سب کو آنا چاہئے لیکن ہم نے یہ کام مولوی صاحبان کے حوالے کردیا ہے۔ہمارے مروجہ دستور، ملکی قوانین اور دین اسلام نے عورت کو خلع لینے کا حق دیا ہے۔ لیکن ہماری 99فیصد خواتین اپنے اس آئینی، قانونی اور اسلامی حق سے لاعلم ہیں۔نکاح نامہ کے کلاز 18میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ امتیازی سلوک، ظلم و زیادتی یا ازدواجی حقوق ادا کرنے میں ناکام رہے تو بیوی کو شوہر سے طلاق لینے کا حق حاصل ہے ہمارے نکاح خوان شادی کے موقع پر دلہا دلہن کو یہ کلاز سمجھانے اور شوہر سے خلع کا حق تسلیم کرانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں نہ ہی ہم نکاح نامے میں درج شرائط کر پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں۔اگر ہر خاتون اور مرد اپنا نکاح نامہ ہی شادی کے وقت پوری طرح پڑھ لے تو بیشتر ازدواجی مسائل سے نجات مل سکتی ہے۔ کیاہی اچھا ہو۔ کہ حکومت، انتظامیہ، پولیس، میڈیا یا سول سوسائٹی کی طرف سے عوام میں اپنے حقوق کے حوالے سے کوئی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ انہیں لاعلمی کی وجہ سے استحصال کا شکار ہونے سے بچایاجاسکے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى