تازہ ترین

ضم شدہ اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر دیئے گئے ٹائم لائنز کے مطابق عملی پیشرفت یقینی بنایا جائے۔وزیر اعلیٰ محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے ضم شدہ اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی جلد سے جلد تکمیل کو اپنی حکومت کے اہم اہداف کا حصہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ان منصوبوں پر دیئے گئے ٹائم لائنز کے مطابق عملی پیشرفت یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ آبنوشی کے حکام کو مزید ہدایت کی ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل اور شلمان میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے شلمان تا لنڈی کوتل واٹر سپلائی اسکیم کے مجوزہ منصوبے کا پی سی ون جلد سے جلد منظوری کیلئے متعلقہ فورم کو بھیجا جائے اور مذکورہ منصوبے کو دو سالوں کی بجائے ڈیڑھ سال میں مکمل کرنے کیلئے ابھی سے ضروری اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ ان علاقوں کے عوام کو درپیش بنیادی نوعیت کا یہ مسئلہ کم سے کم وقت میں حل ہو سکے۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ضلع خیبر، مہمند اور کرک میں واٹر سپلائی اسکیموں پر پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ اورمحکمہ آ بنوشی کے چیف انجینئرز کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو ان اضلاع میں واٹر سپلائی اسکیموں پر پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع خیبر کے علاقے شلمان- لنڈی کوتل واٹر سپلائی سکیم کی فزیبیلٹی سٹڈی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ٹیسٹ بور اور انجینئرنگ ڈیزائن پر کام جاری ہے۔ مزید بتایا گیا کہ منصوبے سے لنڈی کوتل، لوئے شلمان اور کم شلمان کے وہ علاقے جن میں پانی ضرورت سے کم ہے اور وہ علاقے جو صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں دونوں مستفید ہونگے۔ مذکورہ علاقوں میں اش خیل، میر داد خیل، مختار خیل، پیرو خیل، شیخمل خیل، اشق خیل، فاطمی خیل، ذکریا مسجدِ، چنگی، شلمان خیل، درماکور سمیت دیگر علاقے بھی شامل ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ تیس سالوں کی ضرورت کو مد نظر رکھ کر منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے جبکہ منصوبے کا تخمینہ لاگت 5534 ملین روپے ہے۔ ضلع مہمند کی اسکیموں کے بارے میں بتایا گیا کہ ضلع مہمند کے ہیڈ کوارٹر غلنئی اور اس کے قرب و جوار میں واقع دیہاتوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے منصوبے کی فزیبیلٹی سٹڈی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ڈیزائن پر کام جاری ہے۔ اسی طرح پنڈیالی امبر اور پڑانگ غر کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کی فزیبیلٹی ہو رہی ہے۔ خوازئی/ بیزئی منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ منصوبے کی فزیبیلٹی مکمل ہے جبکہ انجینئرنگ ڈیزائن پر کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے منصوبے کا پی سی 1 آئندہ دو ماہ میں تیار کر کے متعلقہ فورم کو بھیجنے کی ہدایت کی۔ ضلع کرک کے بارے میں بتایا گیا کہ کرک کے کے علاقے گر گری میں بھی پانی کی سپلائی اسکیموں پر کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جنوبی اضلاع میں بھی پینے کے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو فزیبیلٹی سٹڈی کرانے اور اس سلسلے میں جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پانی کی سپلائی سکیموں کے لیے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی تاکہ تمام جاری منصوبے بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہوں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى