تازہ ترینمحمد شریف شکیب

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے اطفال یونیسیف کی رپورٹ۔۔۔ممد شریف شکیب

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق سال نو کے پہلے دن پاکستان میں 14 ہزار 161 بچوں کی پیدائش ہوئی۔جبکہ دنیا بھر میں 2021کے پہلے دن 3 لاکھ 71 ہزار 504 بچوں نے جنم لیا۔ پاکستان میں پیدائش کی شرح پوری دنیا میں پیدا ہونے والے بچوں کا 3.8 فیصد ہے۔یونیسیف نے بچوں کی پیدائش کا یہ تحمینہ رجسٹریشن مراکزاور قومی سطح پر گھروں میں کیے جانے والے سروے کے نتائج کی بنیاد پر لگایا ہے۔جس کے تحت مختلف ممالک میں ہونے والی یومیہ، ماہانہ اور سالانہ پیدائش کے تخمینوں کا استعمال کیاجاتا ہے۔نئے سال کے پہلے دن پیدا ہونے والے بچوں اور ان کی متوقع عمر کا تخمینہ اقوام متحدہ کے عالمی آبادی کے امکانات کے حوالے سے حالیہ رپورٹ کے تناظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔عالمی سطح پر بچوں کی پیدائش کی کل تعداد میں سے نصف بچے 10 ممالک میں ہی پیدا ہوتے ہیں جن میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے جبکہ سالِ نو کے پہلے روز سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش بھارت میں ہوئی یونیسیف کے مطابق یکم جنوری کو بھارت میں 59 ہزار 995، چین میں 35 ہزار 615، نائیجیریا میں 21 ہزار 439، پاکستان میں 14 ہزار 161، انڈونیشیا میں 12 ہزار 336، ایتھوپیا میں 12 ہزار 6، امریکا میں 10 ہزار 312، مصر میں 9 ہزار 455، بنگلہ دیش میں 9 ہزار 236 اور جمہوریہ کانگو میں 8 ہزار 640 بچوں کی پیدائش ہوئی۔یونیسیف کے مطابق سالِ نو پر پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع اوسط عمر کا تخمینہ لگ بھگ 73 برس لگایا گیا ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ کو حرف آخر نہیں گردانا جاسکتا۔پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور بیشتر دیہی علاقوں میں میٹرنٹی ہوم، ہیلتھ سینٹراور ہسپتال کی سہولیات نہیں ہوتیں۔کسی گھر میں بچے کی پیدائش کا اکثر پڑوسیوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔عالمی سطح پر ایک ہی شعبہ ایسا ہے جس میں پاکستان کل بھی سب سے آگے تھا،آج بھی سرفہرست ہے اور مستقبل قریب میں بھی ہم سے یہ اعزاز کوئی نہیں چھین سکتا۔اور وہ آبادی میں اضافے کا شعبہ ہے۔ پچاس سال قبل مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت ہماری آبادی پانچ کروڑ تھی آج بائیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔نصف صدی میں ہماری آبادی میں ساڑھے چارسوفیصد اضافہ ہوا ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ میں سہواً ہمیں چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے ہمارا پڑوسی دشمن ملک بے شک آئی ٹی،ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت، تعلیم، صحت،جمہوریت، ہاکی، کرکٹ اور دیگر شعبو ں میں ہم سے آگے ہوسکتا ہے لیکن آبادی بڑھانے میں ہمارا مقابلہ کبھی نہیں کرسکتا۔بھارت، چین اور نائیجریا کو غلطی سے ہم سے آگے دکھایاگیا ہے۔ توقع ہے کہ یونیسیف اپنی اس غلطی ہمارے ساتھ ناانصافی کا ازالہ کرے گا۔عالمی ادارے کی رپورٹ نے ہماری ایک غلط فہمی دور کردی ہے۔ہم سمجھتے تھے کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک ہی زندگی کے کسی شعبے میں ترقی کا راستہ نہ پاکر آبادی میں اضافے سے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں تو امریکہ کا بھی ذکر ہے جو فی الوقت دنیا کاواحد معاشی اور فوجی سپرپاور ہے۔مان لیا کہ ہمارے ہاں لوگوں میں مذہبی رجحانات زیادہ ہیں اور وہ خاندانی منصوبہ بندی کو غیر اسلامی گردانتے ہیں ساتھ ہی مردوں کو پہلی بیوی کے ساتھ گذارہ کرنے کے بجائے چار چار شادیاں کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ مگر بھارت اور امریکہ میں تو ایسی کوئی پابندی نہیں، پھر وہاں خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام کیوں کامیاب نہیں ہوتا۔ایک افواہ یہ بھی ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں کی آڑ میں مردوں کی پیداواری صلاحیت کو کم کرنے والی ادویات دی جارہی ہیں۔اگر اس میں صداقت ہوتی تو آج ہم آبادی بڑھانے والے دنیا کے چار سرفہرست ممالک میں شامل نہ ہوتے۔مشہور ماہرنفسیات ڈیل کارنیگی کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی سے کہہ دیں کہ فرنیچر کو ابھی ابھی پالش کیاگیا ہے تو وہ یقین کرنے کے بجائے ہاتھ لگاکر ضرور دیکھے گا۔ لیکن اگر آپ کہیں گے کہ اس وقت آسمان پر چارارب پچاس کروڑ ستارے چمک رہے ہیں تو وہ بلاحیل و حجت آپ کی بات پر یقین کرلے گا۔ ہم بھی اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ہررپورٹ کوقابل اعتماد سمجھنے لگتے ہیں۔کیونکہ خبرسات سمندر پار سے آئی ہوتی ہے اور دور کے ڈھول سب کو سہانے لگتے ہیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى